خفیف مخفی کی خواب بیتی


علی آفتاب سعید کمال کے آدمی ہیں۔ فلسفے کو سر تال اور سر تال کو ہاتھ کی معمولی جنبش میں سمو سکتے ہیں۔ اگلے روز ایک نشست میں پنڈت وی ڈی پالسکر کے خیال سے لطف اٹھایا جا رہا تھا۔ پنڈت جی نے ہمیں پوری طرح گرفت میں لے رکھا تھا۔ راگ ختم ہوا تو فرمایا، یہ استاد کا کام ہے۔ سولہ ماترے میں کھیل رہے تھے۔ ہمیں مجبوراً اسے چار ماترے میں رکھنا پڑتا کیونکہ سننے والے اب کم حوصلہ ہو گئے ہیں۔ راگ کھلنے کا انتظار نہیں کرتے۔ اتفاق کرنے کے سوا چارہ نہیں تھا لیکن خیال آیا کہ کیا ہم ٹالسٹائی، دوستوئیفسکی اور پراؤست جیسے اساتذہ سے بھی یہی تقاضا کریں گے کہ اپنے فکشن کا طلسم سو دو سو صفحات میں نمٹا دیں۔ کیا ہم استاد عبدالکریم خان اور استاد فیاض سے بھی فرمائش کرتے کہ استاد آکار کا بوریا سمیٹ کر ذرا دیر کو تان پلٹے کا تماشا ہو جائے۔ اور ایسا ممکن نہیں۔ استاد ہمارے ذوق کا غلام نہیں۔ ذوق پر جبر بھی نہیں۔ اپنے اپنے ذوق کی مناسبت سے لطف اٹھانا چاہیے۔

محبی اختر علی سید نے جدید اردو فکشن کے مہا گیانی مرزا اطہر بیگ سے درخواست کی کہ ”ہم سب“ کے لئے کچھ عنایت ہو۔ میں نے بھی جھجکتے جھجکتے آواز ملائی۔ مرزا صاحب فنکار بھی ہیں اور فلسفے کے استاد بھی۔ پامال راہوں سے دو سوتر ہٹ کے چلتے ہیں۔ خیر، طبیعت مائل بہ کرم تھی۔ استاد مان گئے اور ایک غیر مطبوعہ طویل تحریر ”خفیف مخفی کی خواب بیتی“ ہاتھ کے ہاتھ ارزاں کر دی۔ قسط وار آپ کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ ذرا دھیان سے دیکھئے گا۔ اگر اس چلبلی نار نے آپ پر اپنے روپ کے بھید کھول دیے تو بہت لطف رہے گا۔

مرزا اطہر بیگ 7 مارچ 1950 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم پائی اور پھر اسی درس گاہ کے شعبہ فلسفہ سے وابستہ ہو گئے۔ 2010 میں شعبہ فلسفہ کے سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے ڈرامہ نگاری اور افسانے سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ تاہم 2007 میں ”غلام باغ“ کی اشاعت نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کے بعد دو اور ناول ”صفر سے ایک تک“ اور ”حسن کی صورت حال“ شائع ہوئے۔ ”بے افسانہ“ کے نام سے افسانوں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔ گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں مرزا اطہر بیگ کے ٹیلی ویژن ڈراموں نے بھی اپنا سکہ جمایا لیکن پھر ہمارا ٹیلی پلے میرج بیورو بن گیا۔ مرزا اطہر بیگ کا تخلیقی سفر بہرطور جاری ہے۔ (مدیر)

٭٭٭  ٭٭٭

( 1 ) نشستِ اول

” مخفی میری بات سن۔ اور غور سے سن۔ کچھ بھی لکھنے سے پہلے تو ایک فقرہ میرے پیچھے پیچھے لکھ جو تو اپنی یادداشتوں کے شروع ہونے سے پہلے لکھے گا۔ اور اگر تیرے اس زندہ ڈھانچے بغلول ایڈیٹر نے انہیں چھاپ دیا تو بدنصیب قاری تیرا پہلا فقرہ جو پڑھے گا وہ یہ ہو گا۔ لکھ۔ “ محکم دین کہتا ہے اور پھر لکھواتا ہے اور میں لکھتا جاتا ہوں۔

”میں خفیف مخفی بقائمیِ ہوش و حواس بیان دیتا ہوں کہ کتابِ ہذا میں درج تمام یادداشتیں میری زندگی کے حقیقی اور تقریباً حقیقی واقعات پر مبنی ہیں۔ “

میں اپنے دوست ملازم محکم دین کی پھنسی پھنسی آواز کے پیچھے پیچھے لکھتا لکھتا چونکتا ہوں۔ رکتا ہوں اور پھر خود بولتا ہوں۔

”یہ تو کیا لکھوا رہا ہے محکم دین۔ دس سال پہلے بھی جب میری پراسرار یادداشتیں مرتب کرنے کی بات چلی تھی تو تو نے مجھے ایسا ہی کوئی بیان کتاب کے شروع میں درج کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ٹھیک ہے تو پرانے وقتوں کا منشی فاضل ہے اور چاہے تو فقرے بھی کچھ بنا لیتا ہے لیکن پہلے تو حقیقی واقعات کی بات کرتا تھا اب تو یہ ’تقریباً حقیقی‘ ساتھ لے آیا ہے یہ کیا تماشہ ہے؟ “

جواباً محکم دین اپنے چمڑے کے بیگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ محکم دین اور اس کا یہ بیگ جسے شاید پیار سے وہ گتھلا کہتا ہے گذشتہ بیس سال سے اکٹھے ہی مجھے ملنے آتے ہیں دوسرے لفظوں میں میں نے ان دونوں کو کبھی علیحدگی کی حالت میں نہیں دیکھا۔ وہ اپنے دیرینہ ساتھی کے کونوں کھدروں میں کچھ ٹٹول رہا ہے اور ”تقریباً حقیقی“ جیسے اپنے مشکوک الفاظ کی وضاحت کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں لگتا اور مجھے اسے وہ مشورہ دینے کا موقع مل جاتا ہے جو خدا جھوٹ نہ بلوائے میں درجنوں مرتبہ پہلے بھی اسے دے چکا ہوں۔

”محکم خدا کے لیے اب اسے تلف کر دے۔ کہیں داب دے یا دریا برد کر دے۔ “

میں جانتا ہوں وہ میری اس التجا پر کوئی توجہ نہیں دے گا اور کہے گا ”گتھلے“ کی بات کرتا ہے۔ آئندہ ایسے الفاظ منہ پر مت لانا۔ ”اور وہ یہی کہتا ہے اور میں دوسرے الفاظ منہ پر لاتا ہوں۔

”بیس سال بہت ہوتے ہیں یار۔ “

”خالص چمڑے کا ہے۔ “ ہمیشہ کی طرح وہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ گتھلا ’چرمیِ النسل‘ ہے لیکن میں بحث پر اتر آتا ہوں۔

”پتہ نہیں کیسا بدنصیب جانور تھا خطا معاف ہونے میں ہی نہیں آ رہی۔ اچھا اگر دباتا نہیں ہے اور دریا برد کرنا بھی تجھے پسند نہیں تو جلا دے۔ راکھ ساتھ شیشی میں اٹھائے پھرنا نئے کینوس کے بیگ میں ڈال کر۔ یار اب تو بڑے اچھے نئے بیگ آ گئے ہیں بازار میں۔ ’‘

مگر وہ وہیں ہے اپنے گتھلے کے اندر کہیں۔ اور خدا معاف کرے میں پھر وہی بات سوچتا ہوں! ۔ دراصل پیرا نارمل سائنسوں اور مخفی علوم کے مطالعے کے دوران مجھے گاہے بگاہے نسبتاً کم مخفی علوم مثلاً تاریخ، نفسیات، فلسفہ، طب وغیرہ سے بھی رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ایسی ہی کسی نفسیاتی رجعت کے دوران مجھے پتہ چلا کہ بعض بد قماش لوگ بے جان اشیا مثلاً جوتوں، موزوں، بنیانوں، انگوٹھیوں حتیٰ کہ قلم دانوں کے ساتھ بھی کچھ انتہائی نامناسب قسم کے نفسانی تعلقات استوار کرلیتے ہیں اور ان معصوم اشیا کی موجودگی انہیں کسی نامعلوم تولیدی سطح پر برانگیختہ کرتی ہے۔ استغفراللہ۔

اب میں یہ نہیں کہتا کہ محکم دین اور عزیزی گتھلا کے درمیان بھی کچھ اسی نوعیت کے تعلقات ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ میں اس شک کو پوری طرح ذہن سے نکال بھی نہیں سکتا، یقینا یہ میرے اپنے ذہن کی پراگندگی ہے۔ لیکن جس طرح محکم دین اپنے چمڑے کے بیس سالہ پرانے بیگ کو اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے بلکہ سینے سے لگائے پھرتا ہے، کسی جگہ پہنچ کر اپنے بیٹھنے سے پہلے اس کے لیے نشست کا اہتمام کرتا ہے اور جاتے وقت جس طرح اس کی جھاڑ پونچھ کرتا ہے بلکہ نوک پلک سنوارتا ہے اس سے چمڑے کا یہ بیگ بے جا ن اشیا کی فہرست سے تو یک دم خارج ہو جاتا ہے اور کوئی نامعلوم ذی روح ہستی ہونے کا پریشان کن احساس پیدا کرتا ہے۔ یوں پریشانی۔ خوف۔ وسواسِ شیطانی و انسانی اور مخفی علوم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض اوقات افراد اور واقعات کی طرح اشیا بھی آسیبی قوتوں کے قبضہ اور تصرف میں آجاتی ہیں۔ لیکن گتھلا کے کیس میں یہ ممکن نہیں کیونکہ گتھلا پر خود محکم دین قا بض ہے اور محکم دین پر گتھلا قابض ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کا آسیب ہیں۔

اِس کے باوجود میں محکم کی توجہ ایک دوسرے امکان کی طرف دلانے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اغلباً جس حیوان نے بھی اِس بیگ کی تعمیر و تشکیل میں اپنا چمڑا contribute کیا وہ کواکب میں نحسِ اکبر موذیِ زماں سیارہ زحل کے اثر میں تھا۔

” اسی لیے تو تو نے پچھلے چالیس برس میں کوئی خاص ترقی نہیں کی محکم دین۔ “ میں کہتا ہوں۔

اور محکم کہتا ہے ”ٹھیک کہتا ہے۔ “

درحقیقت مخفی علوم کے حوالے سے میرے ہر موقف۔ بیان۔ تبصرے پر اکثر وہ یہی سہ لفظی فقرہ بولتا ہے۔ ”ٹھیک کہتا ہے۔ “ میں آزمانے کے لیے اسے کہتا ہوں۔

”کمال ہے محکم دین۔ سیارہ یورانس اپنے زیرِاثر افراد کے لیے فہم وفراست اور تخلیق واختراع کا منبع بنتا ہے لیکن اپنے منفی ادوار میں یہ ان پر تنزل اور عظیم مصائب کے پہاڑ بھی توڑ سکتا ہے۔ “

میری توقع کے عین مطابق وہ کہتا ہے ”ٹھیک کہتا ہے۔ “

کچھ دیر ہم اِدھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں پھر اچانک میں پوچھتا ہوں۔ ”یار محکم میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیارہ یورانس واحد سیارہ ہے جو زیرِاثر افراد کی زندگیوں پر کچھ بھی اثر نہیں ڈالتا۔ “ اور محکم پھر کہتا ہے۔ ”ٹھیک کہتا ہے۔ “

اگرچہ یہ سب کچھ میرے اور محکم کے ورکنگ ریلیشنز کے عین مطابق ہے لیکن پھر بھی میں سنجیدگی سے اسے بمع گتھلا اٹھا کر چوبارے کی کھڑکی سے باہر پھینک دینے کے امکان پر غور کرتا ہوں۔ یوں بھی اِن دنوں اہلیہ ثریا بیگم سے میری چوتھی علیحدگی کو چند دن ہی گزر ے ہیں۔ گو ہمیشہ کی طرح اِس علیحدگی پر بھی ہم دونوں اپنی اپنی جگہ خوش وخرم ہیں لیکن معمولات کی بے پناہ تبدیلی اکثر ہراساں رکھتی ہے۔ دستور یہ رہا ہے کہ ہر علیحدگی کے بعد کبھی تومیں اپنی دس کنال کی رہایش گاہ کے ایک کونے میں بنی انیکسی میں منتقل ہو جایا کرتا ہوں یا پھر زیادہ شدید علیحدگی کی صورت میں اپنے اس نیم پہاڑی قصبے پھول نگر میں ہی اپنے ایک ملکیتی چوبارے کی بالائی منزل میں منتقل ہوجاتا ہوں اور موجودہ علیحدگی کی شدت میں تو کلام ہی نہیں۔ بہر حال میرا ڈرائیور اکرم تو میرے ہمراہ آ گیا ہے لیکن باقی کاموں کے لیے ملازم ابھی کوئی ملا نہیں اور طبیعت پر ہر دم ایک عجیب جارحیت سی طاری رہتی ہے۔ (اِن امور کا ذکر بھی آگے یادداشتوں میں اپنی مناسب جگہ پائے گا کہ آخر نظراتِ کواکب کسی مخفی علوم کے ماہر کی اپنی ازدواجی زندگی پر کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عجب موضوع ہے ) مدعا یہ کہ میں کافی تپا ہوا ہوں جو یقینا قمر تربیع زحل کے باعث ہے اور محکم دین اور اس کا گتھلا دونوں لپیٹ میں آ سکتے ہیں لیکن نہیں آتے، افسوس وہی فطری میانہ روی آڑے آجاتی ہے اور میں فقط چڑ کر اس سے پوچھتا ہوں۔

”تو نے کچھ سنا بھی ہے میں نے کیا کہا ہے جو تو کہتا ہے ’ٹھیک کہتا ہے‘ “

محکم دین گھور کر مجھے دیکھتا ہے اور اضطراری انداز میں پاس رکھے گتھلے پر ہاتھ ڈال دیتا ہے اور پھر اس کی وہی پھنسی پھنسی آواز آتی ہے۔

”سب سنا ہے۔ کسی پہاڑ کی بات تو نے کی ہے کہ دانش مند لوگ کھودنے میں برابر لگے ہوئے ہیں شاید سڑک نکالنی ہے لیکن ابھی پہاڑ پر اثر کوئی نہیں ہو رہا اور تو سمجھتا ہے یہ کوئی عجیب بات ہے حالانکہ فضول بات ہے۔ “

میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور گہری گہری سانسیں لینی شروع کر دیتا ہوں۔ مہا یوگی پتانجلی کے یوگا پر فرمودات جو یاد آ تے ہیں ان پر غور کرتا ہوں، مزید توجہ ہٹانے کے لیے ان یوگیوں کے بارے میں سوچتا ہوں جو روایت کے مطابق صدیوں سے ہمالیہ کی غاروں میں کنول آسن لگائے بیٹھے ہیں اور ان کی زندگی کا ثبوت ان کے سامنے بیٹھے صاف نظر آنے کے علاوہ ان کے بے بال سروں کی کاغذ جیسی پتلی جلد میں تالو کے عین اوپر نامعلوم سی تھرتھراہٹ سے ملتا ہے ورنہ کچھ باقی نہیں مگر پھر بھی بیٹھے ہیں۔ یہ امیج کافی سکون آور ہیں لیکن پھر کیا ہوتا ہے کہ میں یک دم بری طرح کھانسنے لگتا ہوں۔ آنکھیں کھلتی ہیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ محکم دین اپنے بیگ میں سے اپنے قینچی برانڈ کے سگریٹ نکال کر پی رہا ہے اور میں پارنا یاما یوگا کی گہری سانس اندر کھینچنے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس کا چھوڑا ہوا ایک مکمل سوٹا اپنے اندر اتار چکا ہوں۔

لیکن اِس سب کچھ اورایسے ہی اوربہت کچھ کے باوجود مجھے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بھلے محکم پراسرار علوم کے نظری پہلوں میں صفر ہو لیکن جہاں تک اِن مافوق الفطرت معاملات اور آئیے تسلیم کریں بعض اوقات انتہائی پر خطر معاملات، میں عملی معاونت کا تعلق ہے محکم دین کا کردار لازوال رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماورائی دنیا میں میری علمی تحقیق کسی بھی صورت ممکن نہ ہو پاتی اگر ہر قدم پر یہ شخص میرے پیچھے اور بعض اوقات آگے چٹان کی طرح مضبوط نہ کھڑا ہوتا۔ یوں محکم دیکھنے میں بھی چٹان جیسا ہی ہے۔ پانچ ضرب ساڑھے چار فٹ کے اس انتہائی ٹھوس انسان سے آسیبی طاقتیں بھی ٹکرلینے سے پہلے کچھ سوچتی ضرور ہیں، یہ میرا زندگی بھرکا تجربہ ہے اور اِنہی تجربات کا بیان اس روداد کا بنیادی مقصد ہے۔ اب بات چونکہ جسمانیت کی چل پڑی ہے تو لگے ہاتھوں یہ بھی عرض کر دوں کہ اس لحاظ سے محکم اگر چٹان ہے حجر ہے تو میں خود شاید شجر ہوں۔ قد چھ فٹ سے تھوڑا ادھر ہے گو انتہائی اعشاریہ میں ہے مگر پھر بھی ادھر ہے۔

اپنی مردانہ وجاہت کے بارے میں تعلی بلکہ ہر قسم کی نرگسیت سے مجھے شدید نفرت ہے اگرچہ کسی زمانے میں نرگس نامی ایک خاتون بھی میرے اور اہلیہ کے درمیان وجہ تنازع بنی رہی۔ اس بی بی کے گھر سے اطلاع ملی تھی کہ وہاں اپنے آپ کپڑوں کو آگ لگ جانے کے محیرالعقول واقعات ہو رہے ہیں، یعنی جنہیں ہم پیرا سائیکالوجی کے طالب علم اپنی اصطلاح میں Pyrokinesis کہتے ہیں۔ میں تحقیق کرنے گیا لیکن پھر یہ پیچیدگی پیدا ہونے لگی کہ آگ کپڑوں کے علاوہ کپڑے پہننے والوں تک بھی پھیلنے لگی۔ لمبا قصہ ہے لیکن یادداشتوں میں اپنی جگہ ضرور پائے گا۔ فی الحال انتہائی عاجزی سے اتنا عرض ضرور کروں گا کہ گو پچپن سے متجاوز ہوں لیکن پھر بھی ہم عمر خواتین اور ضعف ِ بصارت کی شکار دوشیزائیں بھی اِس عاجز پر ایک کے بعد دوسری نظر ڈال لینے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتیں۔ طبقہِ النسا کی شفقت کمترین کو برابر حاصل رہی ہے۔ یہ ایک عطیہِ خداوندی ہے لیکن اِس کا کیا کہیے کہ یہی عطیہِ خداوندی اہلیہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کے دل میں طرح طرح کے شبہات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے جو اگر سب غلط نہیں ہوتے تو سب صحیح بھی نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بات چوتھی علیحدگی تک جا پہنچتی ہے بلکہ پہنچائی جاتی ہے اور اِس میں میرے بڑے بیٹے فیصل کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2