مظلوم مصر محمد مرسی شہید کی یاد میں

24 جون 2012 ء کو قاہرہ کے تحریر چوک میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ یہ لوگ مصر کی تاریخ کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات کے منصفانہ نتائج سننے کے لیے بے تاب تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد نتیجے کا اعلان ہوا کہ ڈاکٹر محمد محمد مرسی عیسی العیاط 51 اعشاریہ 73 فی صد ووٹوں کے ساتھ فاتح قرار پائے ہیں اور مصر کی تاریخ کے پہلے (اور تا حال آخری) منتخب جمہوری صدر کا قرعہ فال ان کے نام نکل آیا ہے۔

یہ اعلان بہت سے حوالوں سے ایک تاریخ ساز اور انقلاب آفریں اعلان تھا۔ یہ محض اخوان المسلمون کی پون صدی کی جد و جہد کی کامیابی اور لاکھوں شہداء کے لہو کی کامرانی کا اعلان نہیں تھا بلکہ یہ پورے مشرق وسطی کی خوشحالی کی نوید تھا۔ یہ عالم اسلام کے روشن مستقبل کا مژدہ تھا۔ میں اپنے احباب سے عرض کیا کرتا ہوں کہ سادہ لفظوں میں یوں سمجھیے کہ اگر ڈاکٹر محمد مرسی آج برسراقتدار ہوتے تو وہ عالم اسلام کے حق میں دوسرے طیب اردوگان ہوتے اور مصر آج ترکی کے ہم پلہ ہوتا۔

انہیں اقتدار کی مسند پر صرف ایک برس تک بیٹھے کی مہلت دی گئی۔ ایک برس قوموں کی تاریخ میں ایک لمحے کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔ پھر یہ ایک برس بھی متعدد شورشوں، سازشوں، مصنوعی معاشی بحرانوں، احتجاجات، میڈیائی کردار کشی کی مہموں کے درمیان گزرے تو کام کرنے مواقع اور بھی ناپید ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ مصر کی تاریخ کا ایک سنہرا دور تھا۔

محمد مرسی ایک طرف تو سعودی عرب سمیت متعدد ممالک سے کشیدگی ختم کرنے اور پاکستان، ترکی اور قطر سمیت تمام مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات استوار کرنے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ دوسری طرف اپنے ملک کے کھیتوں میں کھڑے ہو کر کسانوں اور مزدوروں کے لیے ترقی اور خوش حالی کی راہیں ہموار کرنے میں لگے تھے۔ ایک طرف انہوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ ”ہم اس شخص کا احترام کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا احترام کرے گا اور ہر اس شخص سے دشمنی کریں گے جو ان سے عداوت برتے گا یا انہیں اذیت دے گا۔“ دوسری طرف اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:

”لن نترک غزۃ وحدھا“
”ہم کسی حال میں بھی غزہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔“

مصر تو درکنار پورے عالم اسلام کی ماضی قریب کی تاریخ میں بھی ان جیسا اعلی تعلیم یافتہ اور باکردار حکمران بمشکل مل پائے گا۔ وہ 8 اگست 1951 ء کو مصر کے ایک پسماندہ سے گاؤں میں ایک کسان کے ہاں پیدا ہوئے۔ اسکول جانے کا مرحلہ آیا تو گدھے کی پیٹھ پر سفر کرکے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد قاہرہ چلے گئے وہاں سے ایم ایس سی کرنے کے بعد انہیں کیلیفورنیا یونیورسٹی امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظیفہ مل گیا۔ جہاں انہوں نے میٹریل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی۔ 1982 ء سے 1985 ء تک وہ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں تدریس کرتے رہے۔ 1980 ء کے اوائل میں ناسا نے بھی خلائی شٹل کی تیاری میں ان کی خدمات لیں۔ 2013 ء میں جب وہ پاکستان آئے تھے تو ”نسٹ“ نے بھی انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔

1985 ء میں وطن وپس لوٹنے کے بعد وہ آئندہ 25 برس تک مصر کی جامعہ زقازیق میں پروفیسر رہے اور فرزندان و طن کو علم و شعور سے آراستہ کرتے رہے۔ اسی کے ساتھ ان کا سیاسی سفر بھی جاری رہا۔ 1977 ء سے وہ اخوان المسلون کے ساتھ وابستہ تھے۔ 2000 ء میں پارلیمنٹ کے ممبر بھی منتخب ہوئے۔ لیکن قضاء و قدر کے فیصلوں میں مصر کے اس کسان زادے کے حق میں صرف یہی کامیابیاں نہیں لکھی تھیں بلکہ مصر کا تخت بھی اس کا منتظر تھا۔

وہ اسلامی انقلاب کے سچے داعی بیت المقدس کے حقیقی وکیل تھے۔ مسجد اقصی کے شیخ کے بقول عرب حکمرانوں میں سے وہ واحد حکمران تھے جو انہیں باقاعدہ فون کر کے ان سے مسجد اقصی کی صورت حال معلوم کیا کرتے تھے۔

وہ عدل و انصاف اور آزادیٔ اظہار کے نقیب تھے۔ ایک دفعہ اسلام عفیفی نامی صحافی نے انہیں برا بھلا کہا جس کی وجہ سے مصری قانون کے مطابق صدر مملکت کو سب و شتم کرنے کے جرم میں اسے قید کر لیا گیا۔ محمد مرسی کے عہد کے وزیر انصاف احمد مکی کے بقول انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ جب تک آپ اس صحافی کو رہا نہیں کریں گے اور صحافیوں کی گرفتاری کے اس قانون کو ختم نہیں کریں گے مجھے نیند نہیں آئے گی۔ انہوں نے اپنے ملک کی اقلیتوں کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ مصر کی مسیحی قبطی آبادی کو ان کے پورے حقوق فراہم کیے اور کہا کہ یہ بھی میری ہی طرح اس ملک کے باشندے ہیں ان کے ہی حقوق ہیں جو کسی دوسرے مصری کے ہونے چاہییں۔

وہ اسرائیل سمیت متعدد اسرائیل نواز عرب قوتوں اور سیکولر لابیوں کے مفادات کے لیے بہت بڑا خطرہ تھے۔ ان کا یہ اعلان مصری سیکولر ازم کے تابوت کے لیے آخڑی کیل تھا کہ ”قرآن ہمارا آئین ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے رہبر ہیں اور جہاد ہمارا رستہ ہے۔“ بعد ازاں عدالت میں ان پر جو الزامات لگائے گئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ انہوں نے دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیم کوئی اور نہیں بلکہ فلسطین کی حریت کی جنگ لڑنے والی ”حماس“ ہے۔ یہ الزام ان لوگوں نے لگایا جن کا دور اقتدار اسرائیل نوازی اور فلسطین فراموشی کی بدترین مثال ہے۔ جنہوں نے اقصی کی ایک ایک اینٹ کو بیچا ہے، القدس کے چپے چپے کا سودا کیا ہے اور فلسطینیوں کے لہو کی ایک ایک بوند کا معاوضہ وصول کیا ہے۔

3 جولائی 2013 ء کو ان کے وزیر دفاع اور سپہ سالار جنرل عبد الفتاح السیسی نے مصنوعی احتجاجوں اور فوجی انقلاب کے ذریعے بیرونی طاقتوں کے ایما پر ان کا تختہ الٹ دیا اور مسند اقتدار پر قابض ہو گیا۔ مرسی پر غداری، قانون شکنی اور قتل سمیت متعدد الزامات عائد کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد کے چھ سال انہوں نے قید تنہائی اور مسلسل پیشیاں بھگتنے میں گزارے۔ اس سارے عرصے میں انہیں صرف چار مرتبہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

وہ ذیابطیس سمیت جگر اور گردے کے متعدد امراض میں مبتلا تھے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل چھ برس تک ناقص غذا دی گئی۔ کال کوٹھڑی میں رکھا گیا اور ہرطرح کی طبی امداد اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا حتی کہ ان کے اپنے بقول جب انہوں نے جیل حکام سے قرآن مجید کا نسخہ مانگا تو انہوں نے اسے دینے سے بھی انکار کر دیا۔ وہ حافظ قرآن تھے۔ اس موقع پر انہوں اپنے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ قرآن تو تیس برس سے میرے سینے میں محفوظ ہے اس کے نسخے کو تو میں صرف چھونا چاہتا ہوں۔

مرسی کا کیس فوجی عدالت کے سپرد کر دیا گیا۔ انہیں جس قفس میں بند کرکے کمرۂ عدالت لایا جاتا اس سے ان کی آواز تک باہر نہیں جاسکتی تھی۔ کیس طول پکڑتا گیا اور ان کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی۔ یہاں تک 17 جون 2019 ء کو جب انہیں پیشی کے لیے لایا گیا تو وہ دل کا دورہ پڑنے سے گر پڑے۔ بیس منٹ تک وہ کمرۂ عدالت میں بے سدھ پڑے رہے یہاں تک کہ جب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تب کہیں جا کر ایمبولینس آئی۔ انہوں نے اپنی آخری پیشی میں ایک عربی شعر پڑھا جس کا مطلب ہے :

”میرا وطن اگر مجھ پر ظلم کرے تب بھی وہ مجھے عزیز ہے اور اگر میرے لوگ میرے ساتھ بخل کریں تب بھی میں انہیں سخی اور فیاض کہوں گا۔“

یہ ایک باقاعدہ قتل تھا۔ جس طبی کمیشن نے کچھ عرصہ قبل مرسی کی صحت کا جائزہ لیا تھا اس نے صاف الفاظ میں بتا دیا تھا کہ اگر مرسی کو طبی امداد نہ دی گئی تو ان کی جان جانے کا خدشہ ہے بلآخر ایسا ہی ہوا۔

ان کی نماز جنازہ صرف ان کے سوگوار اہل خانہ یعنی تین چار افراد کو تنہائی میں پڑھانے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد السیسی کے گماشتوں نے انہیں ان کی وصیت کے مطابق ان کی جائے پیدائش میں دفن کرنے کی بجائے انہیں اپنی من پسند جگہ پر دفن کر دیا اور مرنے کے بعد بھی ان کی روح کو اذیت دینے کے لیے ان کی تربت کے سا اتھ سب سے بڑا کھلواڑ یہ کیا گیا کہ سب سے پہلے ایک اسرائیلی چینل کو ان کی قبر تک رسائی دی گئی۔

مصر کے حالیہ آمر و غاصب حکمران عبد الفتاح السیسی نے گزشتہ آٹھ برس مسلسل مرسی کو بدنام کرنے، ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی کردار کشی کرنے اور ان کی یادوں اور آثار کو مٹانے میں صرف کیے۔ آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ الھیئۃ العامۃ للاستعلامات المصریۃ مصر کی ایک سرکاری ویب سائٹ ہے جہاں مصر کے متعلق خبروں کے علاوہ تاریخ اور ثقافت کا گوشہ بھی ہے۔ یہاں آپ کو حکمرانوں کی فہرست میں فرعون اول سے لے کر (فرعون حاضر) السیسی تک تمام حکمرانوں کا نام اور تعارف مل جائے گا لیکن اگر آپ کو کوئی نام غائب ملے گا تو وہ ڈاکٹر محمد مرسی کا نام ہے۔ السیسی نے اقتدار میں آنے کے بعد آج تک صرف دو مرتبہ برسبیل تذکرہ مرسی کا نام لیا ہے۔ لیکن خوشبو اور روشنی کو کون قید کر سکتا ہے۔

مصر، پاکستان، الجزائر، تیونس، ترکی اور کینیڈا سمیت دنیا بھر میں مرسی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ان کے حق میں دعائے خیر اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ترک صدر طیب اردوگان نے انہیں اپنا شہید بھائی قرار دیا۔ چند دن پہلے 17 جون 2020 ء کو ان کی پہلی برسی کے موقع پر جس وسیع پیمانے پر دنیا بھر میں انہیں یاد کیا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرنے کے بعد مزید طاقت ور اور مزید ”خطرناک“ ہو گئے ہیں۔

مرسی آج مصر کی حدود سے نکل کر ایک عالمی لیڈر اور بین الاقوامی قائد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مرسی شہید نے مصر پر صرف ایک سال حکومت کی لیکن اربوں انسانوں کے دلوں پہ وہ سینکڑوں سال حکومت کرتے رہیں گے۔ جہاں کہیں اعلی انسانی اقدار، حریت، جمہوریت، اسلام پسندی اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر آئے گا شعور و وجدان جھک کر مرسی کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اسی سے سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن نے اللہ کی راہ میں مرنے والوں کو مردہ کہنے سے کیوں منع کیا ہے۔

محمد مرسی کی داستان دل فگار اور خونچکاں ہے۔ وہ اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنی امت کے حق میں عمر بن خطاب بننا چاہتے تھے مگر ان کے گرد منڈلاتے سبائیوں کی بدولت اسے عثمان بن عفان جیسی مظلومانہ شہادت ملی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ”ہماری آنے والی نسلیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں کر لیں کہ ان کے اباء و اجداد کسی صورت بھی ظلم و ستم کو گوارا نہیں کرتے تھے۔“ وہ کہا کرتے تھے کہ ”اگر نیل کی روانی میں ایک قطرے کی بھی کمی آئی تو ہم اسے اپنے لہو سے پورا کریں گے۔“ اور ان کا یہ جملہ تو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کہ ”تم اپنے دیس کے شیروں کو مت مارو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں دشمنوں کے کتے کھائیں۔“

مصر اپنی اصل کے اعتبار سے فرعون، ہامان اور قارون کی سر زمین ہے۔ یہاں یوسفؑ آئے تو اسے بازاروں میں نیلام کیا جاتا ہے اور موسیؑ و ہارونؑ پیدا ہو جائیں تو انہیں ملک بدر ہونا پڑتا ہے۔ مصر جمال عبد الناصر، حسنی مبارک اور عبد الفتاح السیسی کی سرزمین ہے یہاں حسن البنا کے عالی دماغ کے لیے اعلی قسم کی بارودی گولیاں ہیں۔ سید قطب کی باغی گردن کے سفاک پھندا ہے اور محمد مرسی کے انقلابی جذبوں کے لیے چھ سالہ قید تنہائی اور قسط وار موت ہے۔

لیکن اللہ کی عدالت میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی، تاریخ کسی کی زرخرید غلام نہیں بنتی۔ قرآن اور تورات نے موسیؑ و فرعون دونوں کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ تاریخ نے حسن البناء، سید قطب اور اخوان کے لاکھوں شہداء کو بے توقیر نہیں ہونے دیا۔ وقت کی گردش نے عبد الناصر کو بھی اس کے انجام تک پہنچایا اور حسنی مبارک کو بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ تب تیس سال تک رمسیس دوم جیسی مطلق العنان بادشاہت کرنے والا حسنی مبارک زندگی ہی میں مرگ کے کھٹکے سے دوچار تھا اور اڑنے سے پیشتر ہی اس کے چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی۔ زیادہ دور کیوں جائیے مشرف ہی کی مثال لے لیں۔ مرسی اور السیسی کا فیصلہ بھی وقت کرے گا۔ وقت کا خالق کرے گا اور اسی کا فیصلہ آخری فیصلہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words