ڈاکٹر ٹیکا لگا کر بندے مار رہے ہیں
آج ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس کے ہاتھ آگے بڑھانے سے قبل ہی میں نے ”ارطغرل سلام“ ٹھوک دیا، غلطی سے میں نے فیس ماسک بھی پہنا ہوا تھا۔ پہلے تو میری طرف دیکھ کر جناب کا ”ہاسا“ ہی نہ رکے، لیکن جب ہنس ہنس کر تھک گئے تو کہنے لگے کہ تمہیں دیکھ کر اک بات پر تو مکمل یقین ہوگیا ہے کہ ”جو بندہ زیادہ پڑھ لکھ جائے، اس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے“ ۔
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی، لیکن جب وضاحت طلب کی تو کہنے لگے کہ ”یہ جو تم ماسک پہن رہے ہو، ہاتھ نہیں ملا رہے، فاصلے پر کھڑے ہو کر گفتگو کر رہے ہو، یہ سب کام کوئی سمجھدار آدمی نہیں کر سکتا۔“ یہ بات بھی میرے سر کے اوپر سے گزر گئی، لیکن میں خاموش رہا۔ پھر خود ہی فرمانے لگے،
” چونکہ ڈاکٹر حضرات نے جو کتابیں پڑھیں ہیں، وہ کرونا سے پہلے کی ہیں، لہذا ان کی کرونا کے بارے بتائی گئیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا کائنات کی سب سے بڑی جہالت ہے۔“
انکی یہ دلیل سن کر مجھے ڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان کی یاد تو آئی، مگر کیا کہہ سکتا تھا، آخر دوست تو دوست ہوتا ہے۔ میں نے نہایت شائستگی سے کہا کہ جناب اگر آپ کی بات مان بھی لیں کہ ڈاکٹروں نے یہ سب کچھ نہیں پڑھا، پھر بھی ہم اس بات سے انکار تو نہیں کر سکتے کہ طعب کے معاملے میں ان کا علم کم از کم ہم سے تو زیادہ ہے۔ میری یہ بات کرنے کہ دیر تھی کہ جناب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، کان لال ہوگئے، اور نہایت غصے سے کہنے لگے کہ کیا فائدہ ایسے علم کا جب ”ٹیکے لگا کر بندے ہی مارنے ہیں“ ۔
ویسے تو یہ بات مجھے بہت گراں گزری لیکن میں نے پھر بھی تحمل سے دریافت کیا کہ، جناب آپ کو اس بات کا علم کیسے ہوا؟ کیا آپ نے کسی ڈاکٹر کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، یا کوئی تو دلیل ہوگی آپ کے پاس وگرنہ اتنا بڑا الزام کوئی ایسے تو نہیں لگا دیتا۔ تو فرمانے لگے کہ ان کے چچا کے چھوٹے بیٹے کے ”اکیڈمی فیلو“ کے بھائی کی بیوی کی بہن کے سسر کو ٹھیک ٹھاک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تھا، مگر دو دن بعد معلوم ہوا کہ ان کو کرونا ہوگیا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی دنوں میں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
یہ بات سن کر پہلے تو میں نے تعزیت کی، پھر پوچھا کہ آپ کا اتنا ”قریبی“ تعلق تھا، جنازے میں شمولیت تو کی ہو گی؟ جنازے کا لفظ سنتے ہی جناب اٹھ کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے کہ ”ڈاکٹر جنازہ کہاں پڑھنے دیتے ہیں، بلکہ یہ تو چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیتے، اور دکھائیں بھی تو کیا؟ کیونکہ اندر تو جسد خاکی ہوتا ہی نہیں ہے، وہ تو حکومت اور ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے امریکا کو چالیس ہزار ڈالر کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔“
اس طرح انہوں نے مجھے کافی دلائل پیش کیے، وہ اس وجہ سے قلمبند نہیں کر رہا کہ تحریر بہت لمبی ہو جائے گی۔ مگر یہاں اس مکالمے کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل ازاری ہرگز نہیں ہے، بلکہ میں فقط اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی کرونا سے ہلاکتوں کی خبریں آنے کے باوجود پاکستان میں عوام کی اکثریت کا ابھی بھی پختہ ایمان ہے کہ کرونا سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اور حکومت یہ سب ڈرامہ بیرونی دنیا سے فنڈنگ کے لیے کر رہی ہے۔
پاکستان میں بھی کرونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے، جبکہ روز ہزاروں نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔
ہم عوام کب تک حقیقت ٹی وی جیسے سازش فروشوں پر ایمان لا کر قوم کی کشتی ڈبوتے رہیں گے۔ خدارا واٹس ایپ یا کسی بھی ذرائع سے ملنے والی خبروں پر آنکھیں بند کر کہ اعتبار کرنے سے گریز کریں۔ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو جتنا ممکن ہو سکے حقائق سے آگاہ کریں، کیونکہ جب تک ہم بحثیت قوم خود متحد ہو کر اس وبا کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گیں، اس کا خاتما ممکن نہیں ہے۔


