بار روم کا ہائیڈ پارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کاظمی صا حب نے آتے ہی ویٹر کو گرین ٹی کا ارڈر دی دیا اور اپنے مخصوص جگہ پر اپنے چہرے پر ہلکے سے پریشانی کے اثار نمایا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ اور ویٹر کو دوبارہ بلاکر مزید سلیمانی چائے لانے کو کہا، اور ساتھ ساتھ نیازی صاحب سے مخاطب ہوئے، نیازی! سبز چائے اور لسی بھی کبھی ختم ہوئی ہے دونو میں پانی ڈالتے جاؤ اور ہلاتے جاؤ، جب ہلاتے جاؤ بول رہے تھے تو ہاتھ کے اشارے سے بھی اس عمل کو دہرایا، اور یہ بات کاظمی صاحب نے کسی ایک اہل مجلس کے جواب میں بولی جس نے کہا دو ٹی بیگ کم پڑ جائیں گے۔ یہ جو گرین ٹی اور سلیمانی چائی کا مکسر یا مکس اپ ہے یہ ہمارے ایک دوست وکیل فیاض یوسفزئی کی اختراح ہے اور اب اس اہل مجلس اور بار روم میں ایک رسم یا رواج یا کسی حد تک عادت کی شکل اختیارکر گیا ہے۔

اس دوران سامنے لگی سکرین پر چائنہ اور بھارتی فوج کی ہاتھا پائی کا منظر بار بار دکھایا جا رہا تھا، جس پر کاظمی صاحب سے رہا نہ گیا اور لودھی صاحب سے مخاطب ہوکے بولے جس نے ہاتھ میں ابھی تک گرین ٹی کا کپ پکڑا ہوا تھا، لودھی یہ ڈرامہ دیکھ رہے ہو دو ایٹمی قوتیں بونڈری لائن وادیٔ گلوان میں ہاتھوں، گھونسوں اور ڈنڈوں سے لڑ رہی ہے، یہ کن کو۔ ۔ ۔ بنا رہے ہیں، عالمی طاقتیں فیصلہ کرچکی ہیں، کشمیر انڈیا کو دی دیا گیا ہے، انڈیاکا جو علاقہ سی پیک کے راستٔے میں رکاوٹ بننے جا رہا تھا وہ چائنہ قبضہ کرکے نہ صرف اپنے لئے محفوظ بنایا بلکہ پاکستان کو بھی دفاعی حوالے سے مستحکم کیا اور سی پیک اب انڈیا کے کسی بھی مہم جوئی سے حتی الامکان بچ گیا بلکہ بچتا رہے گا، اسی طرح فاٹا کا انضمام پاک افغان بارڈر پر خار دار تار کا بچھانا یا باڑ کا لگانا اور اس تمام پروسز میں محسود تحفظ مومنٹ کا پشتون تحفظ مومنٹ میں کنورٹ ہونا اور افغانستان کا اس معاملے میں خاموش رہنا اور اپنے عوام کو ملک کے اندر اور بیرون ملک پی۔ ٹی۔ ایم کے پرچار پہ لگاناحالانکہ پی۔ ٹی۔ ایم جو کچھ بھی کرہا ہے وہ پاکستان کے آئین کے اندر مطالبات کو حل کرنے کی سعی میں مگن ہیں۔ انڈیا کا اثرورسوخ افغانستان سے انتہائی کم یا بالکل ختم کرنا یہ سب کچھ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے۔

ملک صاحب جو بہت دیر سے کاظمی صاحب کی یہ تقریر نما تبصرہ یا تبصرہ نما تقریر جو بڑے انہماک اور صبر و تحمل سے سن رہے تھے، فٹ سے کاظمی صاحب سے بولے کاظمی! یہ تو کہاں سے ایسی خبرں لاتا ہے، اور یہ اوپر والے ہوتے کون ہیں جو کسی کے اندرون یا داخلی معاملات میں دخل اندازی کریں، اور یہ عالمی طاقتوں کا اور کوئی کام نہیں بس ہمارے ہی فیصلوں کے لئے بیھٹی ہوئی ہیں۔

ہماری فوج دو جگہوں پر کمپرمائز نہی کرے گی ایک کشمیر کے معاملے پر اور دوسرے افغانستان کے تزویراتی حوالے سے اور جو آپ بولو گے مان جاؤنگا، ایک گرین ٹی پر تھوڑی ہی تیری سب باتیں مان جائیں گے، اس پر محفل میں جو سنجیدگی چھائی ہوئی تھی بالکل چھٹ گئی اور کوئی دس پندرہ سیکڈز کے بعد خلجی صاحب جو ہمیشہ کی طرح بولتے نہیں اور جب بولتے ہیں تو لاء سے متعلق یا حالات حاضرہ پر لب کوشائی کرتے ہیں، بڑے سنجیدگی سے بولے یار کاظمی!

ہم وکیل ہیں، ہمیں لاء سٔے متعلق موضوع پر بات کرنی چاہیے، کاظمی صاحب بولے مثلاً؟ جٹس فائز عیسی کیس پر گفتگو ہونی چاہیے، جس پر کاظمی صاحب پھر سے بولے، لے خلجی تو بھی میری طرح بہت بھولے ہو جس کیس پر پری میچور سٹیج پر تین سو ستر دن اور سینتالیس سماعتیں ملک کی اعلی ترین عدالت کے دس ججوں کی فل بینچ کر چکی ہوں اور ملک اور بین الاقوامی میڈیا اسی کیس کو دن رات لوگوں کے سماعتوں اور بصارتوں کا امتحان لے چکی ہو آپ جیسے بھولے معاف کیجئے گا عقل مند سپوت ( عام طور پر کاظمی صاحب اتنے تکلف میں نہیں پڑتے لیکن موضوع اور ماحول کی سنجیدگی کو یکھتے ہوئے اس لہجے میں بولے ) کو کیا مزید بھی اس کیس کے سلسے میں کچھ بولنا اور سننا ہے تو لو سن لو میری یہ اخری بات پھر اٹھ کے جا رہا ہوں، خلجی صاحب!

شاید صاحب طنزاً یا تاکیداً بولے جب کوئی مالک اپنے سر پٹ گھوڑے کو پہلی بار سدھارتا ہے تو وہ بڑے طریقے، سلیقے اور مختلف اطراف اور ہلکے بھاری وزن یا بوجھ سے اشنا کراتا ہے لیکن اگر وہ پھر بھی نا بھاری رہتی ہے اور مالک کا حسب توقع بوجھ اٹھانے کی عادی نہیں ہوتا ہے اور سرپٹ دوڑتا رہتا ہے تو پھر مالک کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ گھوڑے کو لگام دیے اور گھڑے کو اپنے قابو میں رکھیں اور خلجی! تو، تو دیہاتی آدمی ہے لگام لگتا کہاں ہے، گھوڑے کے وائٹل پارٹ کو یعنی منہ، سر اور گردن میں، یعنی لگام بنیادی طور پہ تین کام بہ یک وقت کرتا ہے، گھوڑے کے منہ کو بند رکھتا ہے، گھوڑے کے سر کو نگوں اور صراط مستقیم پہ رکھتا ہے اور تیسرا یہ کہ گھوڑے کی گردن کے اکھڑ کو پکڑ میں رکھتا ہے اب تو بتا میرے خودساختہ سنجیدہ شہزادے، اس سے زیادہ واضح اور صاف وشفاف مثال اور کیا ہو سکتی ہے جس پر خلجی صاحب بولے واہ کاظمی واہ کہاں کا پیوند کہاں کا پیرہن یہ جوڑ جاڑ کوئی تم سے سیکھے، گھوڑا، لگام اور مالک بظاہر یہ تینوں چیزیں ہیں تو الگ الگ پر ایک ہی وجود سے متعلق ہے لیکن پھر بھی میں تم سے متفق نہیں ہوں کیونکہ تم جو بولتے ہو وہ سننے کی حد تک تو قابل قبول ہوتا ہے، لیکن ماننے کے لئے ذہن بالکل تیار نہیں ہوتا۔ جس پر کاظمی صاحب بولے، خلجی! بولنے والے کا کام بولنا ہوتا ہے منوانا نہیں اور اٹھ کے چلے گئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments