کھویا ہوا جزیرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تیسری بس بھی نکل گئی تو اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر میکانک کوگالیاں دینا چاہا لیکن اس بار بھی وہ ناکام رہا۔ صرف اس لئے کہ جس قسم کی گالیاں دینے کی وہ ہمت وہ کر سکتا تھا وہ ان گالیوں کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے جو میکانک اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ میکانک اسے آٹھ دن سے کار کے لئے ستارہا تھا اور وہ بے بس تھا۔ پچھلے پینتالیس منٹ سے وہ بس اسٹاپ پر ٹھہرا ہوا تھا۔ اس دوران تین بسیں نکل چکی تھیں۔

دو تو اسٹاپ پر رکے بغیر ہی نکل گئیں تھیں اور تیسری میں اتنا ہجوم تھا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی سوار نہ ہوسکا تھا۔ وہ اسٹاپ پر کھڑا اوب چکا تھا۔ ہاتھ میں تھامے ہوئے پیاکٹز اب ایک بوجھ معلوم ہورہے تھے۔ وقت گزارنے کے لئے وہ اطراف و اکناف کا جائزہ لینے لگا۔ سامنے میڈیکل کالج کی پرشکوہ عمارت تھی اس کے بغل میں پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کا آفس تھا۔ پاس ہی ایک پبلک لیٹرین تھا جس کے ذرافاصلے پر کیلے، مونگ پھلی وغیرہ کے ٹھیلے کھڑے ہوئے تھے۔ ہوٹل کی پیچھے کی دیوار پر ایک بڑا سا فلمی پوسٹر لگا ہوا تھا جس میں ایک عورت ولگر طریقہ سے اپنے جسم کی نمائش کررہی تھی۔ اس نے آس پاس کھڑے لوگوں پر بھی ایک نظر ڈالی۔ اسے کوئی بھی متاثر نہ کر سکا۔ سارے چہرے عام سے تھے جو نظروں سے اوجھل ہوتے ہی ذہن سے اترجاتے ہیں۔

اس کے پاس ہی میں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ جسم پر ایک بوسیدہ سرمئی کوٹ تھا اور ایک میلی سی سفید تنگ موریوں والی پتلون تھی۔ وہ پتلون کسی کی دی ہوئی تھی۔ شاید ان کے کسی بیٹے ہی نے پرانی ہونے کے بعد انہیں دیدی ہو۔ بہرحال یہ طے تھا وہ اپنے لئے یہ پتلون سلوانے کے لئے درزی کے پاس نہیں گئے تھے۔ ان کے چہرے پر جھریوں کا ایک جال تنا ہوا تھا اور انگلیاں یوں حرکت کررہی تھیں جیسے کسی حساب میں مصروف ہوں۔ ایک اضطراب تھا جو انہیں ایسا کرنے پرمجبور کر رہا تھا۔

انگلیوں کی حرکت میں ایک باقاعدگی تھی۔ ایک خاص وقت کے لئے انگلیاں حرکت کرتیں، تھک کر رک جاتیں اور ایک متعین وقفہ کے بعد مضطرب ہوکر پھر حرکت میں آجاتیں۔ چہرے کی اداسی اور تاسف کہہ رہا تھا کہ ساری عمر تو کچھ پانے کی آس اور کچھ کھونے کی یاس میں کٹ گئی۔ اب کچھ باقی نہ رہا تھا۔ بس ان کا حساب رہ گیا تھا۔ دھندلیں آنکھیں دور کا کوئی منظر دیکھنے میں کھوئی ہوئی تھیں۔ آس پاس کا منظر ان کے لئے کبھی کا اجنبی ہوچکا تھا۔ سارے بس اسٹاپ پر وہی ایک شخص تھا جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہیں بس کا انتظار نہیں ہے۔

چوتھی بس جو آئی ڈبل ڈیکر تھی۔ بڑی مشکل سے وہ گھس پٹ کر اوپر کی ڈیک پر چڑھ گیا۔ وہ آگے کی سیٹوں کی طرف بڑھنے کی کوشش میں تھا کہ کسی نے اس کے کوٹ کا دامن پکڑ کر کھینچ لیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ اس کے بچپن کا کلاس میٹ اک سیٹ پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ ”اوہو Doc“

”کیسے ہو یار“ ڈاکٹر نے گرم جوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔ گلے ملنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بھیڑ ہی اتنی تھی، وہ تقریباً دوسال بعد ملے تھے۔

”آج ادھر کیسے بھٹک گئے“ ڈاکٹر نے پوچھا۔

”کار خراب ہوگئی ہے۔ سالامیکانک آٹھ دن سے تنگ کر رہا ہے۔ بس کے لئے کھڑے کھڑے کچومر نکل گیا۔ لیکن تم ادھر کدھر“ ۔

”اپنا تو روز کا معاملہ ہے“ ۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔
”کیوں کار نہیں خریدی اب تک“ ۔
”نہیں بک کرواچکا ہوں۔ امید ہے کہ آٹھ دس سال میں مل ہی جائے گی“ ۔
”بلیک میں کیوں نہیں خرید لیتے۔ چالیس پچاس ہزار زیادہ دینے پڑیں گے“ ۔

”یار میں نے سونے کے پنگوڑے میں آنکھ نہیں کھولی ہے بلیک کی کمائی ابھی گھر نہیں آ رہی ہے۔ جب آنے لگے گی تب خریدلوں گا“ ۔

اسے ایک خفت کا احساس ہوا جیسے نادانستہ کسی کے پھٹے ہوئے کپڑوں میں نظر اٹک گئی ہو۔ اسے پتہ تھا کہ اس دوست کا بچپن غربت میں گزرا تھا۔ ماں نے محنت مشقت کرکے اسے پڑھایا تھا۔ جہاں تک وہ پہونچ پایا ہے اپنی ذہانت اور محنت کے بل بوتے پہونچا ہے۔

”تو پھر یار شادی کرلو۔ کار ہتیا نے کا یہ بڑا آسان طریقہ ہے“ ۔ اس نے اپنی خفت مٹانے کے لئے کہا۔

”اس سلسلہ میں بھی ایک چکر چل رہا ہے۔ ستاروں کا۔ میرے ستارے کہہ رہے ہیں کہ شادی کا معاملہ اس سال طے پا جائے گا لیکن میں جس سے شادی کرنا چاہ رہا ہوں اس کے ستارے کہہ رہے ہیں اس سال شادی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اس معاملہ میں اپنے دوست کے ہاتھوں دھوکہ اٹھانا پڑے گا“ ۔ ڈاکٹر نے ہنستے ہوئے کہا۔

”تم کب سے ستاروں کو گھاس ڈالنے لگے۔ تم تو ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کہ قائل تھے“ ۔

”ابھی عشق کے امتحان اوربھی ہیں“ اس نے مصرع پورا کر دیا۔ ”شادی نہ کرنے کی کوئی وجہ تو بتانا ہی پڑتی ہے۔ ہر کوئی یہی پوچھتا ہے شادی کب کر رہے ہو۔ ویسے بھی اس کے ستاروں اور دولت کا کوئی میل نہیں ہے“ ۔

”کوئی میڈیکو ہے“
”ہاں۔ تم اپنی سناؤ تم نے تو شادی کرلی ہوگی“ ۔
”نہیں“

”ٹھیک ہے۔ کار کی تمہیں ضرورت بھی تو نہیں ہے“ ۔ دونوں ہنسنے لگے۔ بیٹھو یار میں تمہیں بیٹھنے کو کہنا ہی بھول گیا۔ تھوڑا سا کھسک کر اس نے جگہ بناتے ہوئے کہا۔ ”دل میں جگہ ہوتو دو کی سیٹ پر تین کی جگہ نکل ہی آتی ہے“ ۔

”رہنے دو یار پہلے ہی سیٹ پر تین لوگ بیٹھے ہوئے ہیں“ ۔ دونوں پھر ہنسنے لگے بغل میں بیٹھے ہوئے آدمی نے، جو تین چوتھائی سیٹ پر قبضہ کیے ہوئے تھا، اپنی آنکھیں کھولیں اور انہیں گھور کر دیکھا اور پھر اونگھنے میں مصروف ہوگیا۔

”تم ہاسپٹل نہیں آئے اس نے اچانک سوال داغ دیا۔ میں نے سمجھا تھا تم ہاسپٹل ضرور آؤگے“ ۔

”کیوں؟ کس لئے؟“ اس نے حیرت سے پوچھا۔ تم ڈاکٹروں سے یہی تو مصیبت ہے۔ دوستوں کی صحت تک نہیں دیکھی جاتی ”۔

”تو تمہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔ امجد کی حالت بہت ہی سیریس ہے۔ پچھلے دس دن سے کوما میں ہے۔ Meningitis ہوگیا تھا۔ Complications سے طبیعت مزید بگڑگئی“ ۔

”نہیں مجھے نہیں معلوم۔ وہ بمبئی سے کب آیا؟“

”یہی کوئی ایک مہینہ پہلے۔ دو ایک سال سے اس کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ پچھلے سال بھی وہ آیا تھا۔ علاج کرانے کے لئے۔ تب بھی تمہاری ملاقات نہیں ہوئی تھی۔“

”پچھلے سال وہ آیا تھا! مجھے تو خبر ہی نہیں ہوئی“ ۔
”تم لوگوں کے درمیان خط و کتابت تو ہوتی ہوگی“ ۔

”شروع شروع جب وہ بمبئی گیا تھا اس کے خط آیا کرتے تھے۔ پچھلے ڈھائی تین سال سے تو اس کا ایک خط بھی نہیں آیا“ ۔

”حیر ت ہے۔ بچپن میں تم دونوں میں اتنی گہری دوستی تھی اور اب یہ حال ہے کہ خط و کتابت تک نہیں ہے“ ڈاکٹر نے کہا۔

وہ ندامت سے خاموش رہا کیونکہ خط وکتابت کا سلسلہ اس کی اپنی طرف سے ٹوٹا تھا۔ ”کون سے وارڈ میں ہے وہ“ اس نے کھوئی ہوئی آواز میں پوچھا

”I۔ C۔ U میں ہے“

”آج شام میں آفس سے ٹور پر جا رہا ہوں پندرہ دن کے لئے۔ واپس ہونے کے بعد اسے ضرور دیکھنے آؤں گا“ ۔ اس نے اپنے آپ سے وعدہ کیا۔ ڈاکٹر اپنے بس اسٹاپ پر اتر گیا۔ وہ اپنے خیالوں میں کھویا رہ گیا۔ وہ خود حیران تھا کہ خط وکتابت کا سلسلہ کیسے ٹوٹا۔ بچپن میں وہ اور امجد دونوں سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہاکرتے تھے۔ اسکول ساتھ آیا جایاکرتے تھے۔ ایک بار اسکول میں کلاس کا ری آرگنائزیشن ہوا تھا اور اس گڑ بڑ میں دونوں کے سیکشن بدل گئے تھے۔ تب دونوں نے جاکرٹیچر سے دونوں کو ایک ہی سیکشن میں رکھنے کی درخواست کی تھی ”تم لوگ ایک ہی سیکشن میں کیوں رہنا چاہتے ہو؟“ ٹیچر کے سوال کا تب وہ لوگ جواب نہ دے پائے تھے۔

ٹیچرنے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

”اچھا جاؤ فکرنہ کرو۔ تم دونوں ایک ہی کلاس میں رہو گے“ تب کسے معلوم تھا کہ وقت اور حالات دونوں کو بعد میں اتنا علیحدہ کردیں گے۔

اسمبلی ہال کے اسٹاپ پر بس رک گئی۔ یہاں سے دو تین فرلانگ کے فاصلہ پر ان کا اسکول تھا۔ وہ لوگ گھر واپس ہونے کے لئے یہیں سے بس پکڑا کرتے تھے۔ سڑک کے کنارے کھڑے اونچے اونچے دو رویہ پیڑ سر جوڑے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اس کا جی چاہا کہ وہ بس سے اتر جائے اور دیر تک اس اسٹاپ پر بیٹھا رہے۔ بچپن میں وہ لوگ گھنٹہ، دیڑھ گھنٹہ اس اسٹاپ پر بس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ تب بس کے نہ آنے پر اتنی الجھن نہیں ہوتی تھی، جو بسیں اسٹاپ پر رکے بغیر گزر جاتی تھیں ان کے نمبر نوٹ کرلیتے تھے۔

گھر کے پاس والے اسٹاپ پر ایک بس کنٹرولر متعین تھا۔ اسے وہ نمبر دے دیے جاتے تھے کہ یہ بسیں آج اسمبلی ہال پر نہیں رکی جس کی وجہ سے گھر واپسی میں دیر ہوگئی۔ کنٹرولر مسکرا کر وہ نمبر نوٹ کرلیتا تھا اور کہتا۔ ”آئی ول ٹیک ایکشن“ ۔ اس سے ایک دوستی سی ہوگئی تھی۔ جب بھی وہ ملتا ان لوگوں کو دیکھ کر مسکرانے لگتا ”ینگ مین ہاؤ آر یو“ ۔ وقت کاٹنے کے لئے وہ گزرتی ہوئی کاریں گناکرتے تھے یا پھر ایک قطار میں بیٹھے ہوئے جیوتشیوں کی دلچسپ لیکن جھوٹی باتیں سنا کرتے تھے۔

پنجروں میں بند طوطوں کو چھیڑا کرتے۔ کبھی اس کے پاپا کا ادھر سے گزر ہوتا تو وہ اسے کار میں گھر لے آیا کرتے۔ پاپا کی کار کو دور سے دیکھتے ہی وہ چھپنے کی کوشش کرتا۔ بس میں دوستوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے، دھکے کھاتے ہوئے جانے میں جو مزا تھا وہ آرام دہ کار میں کہاں تھا۔ پاپا کے ساتھ مسکینوں سی صورت بنائے بیٹھے رہنا پڑ تا تھا۔ یہ سب کل ہی کی باتیں لگتی ہیں۔ اتنے بہت سے سال اتنی جلدی کیسے گزر گئے، اسنے سوچا اور پھر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا۔

پتنگوں کا موسم تھا۔ ہواؤں میں تیرتی ہوئی پتنگیں دیکھ کر اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ میں بھی ایک پتنگ کی ڈور ہے اور دو آنکھیں، دو خوبصورت آنکھیں اس کی اپنی آنکھوں کے ساتھ پتنگ پر مرکوز ہیں۔ اف کتنی خوبصورت آنکھیں تھیں، وہ جب بھی ان آنکھوں کی طرف دیکھتا اسے محسوس ہوتاکہ یہ آنکھیں کچھ بول رہی ہیں۔ وہ دونوں امجد کے گھر کی چھت پر پتنگ اڑایا کرتے تھے۔ اس کی ممی پتنگ اڑانے کی سخت مخالف تھیں۔ ہاتھ میں پتنگ دیکھتے ہی ان کا پارہ چڑھ جاتا تھا۔

ان کا ایک بھائی پتنگ اڑاتے ہوئے چھت پرسے گر گیا تھا۔ یہ ان کی نظروں کے سامنے ہوا تھا۔ تب سے ایک خوف ان کے لاشعورمیں بس گیا تھا جو پتنگ دیکھتے ہی شعورکی سطح پر تیرنے لگتا تھا۔ پتنگ دیکھتے ہی بھائی کی دردناک موت کا منظر ان کی سہمی ہوئی پتلیوں میں جاگ اٹھتا تھا۔ تھنڈے بے جان جسم کو دیکھ کر موت کی اٹل حقیقت کو قبول کرنا بہت آسان ہے، لیکن کسی کو اپنی آنکھوں کے سامنے زندگی کے لئے تڑپتے دیکھنا بہت ہی مشکل ہے۔

وہ ان کی چوری سے پتنگ اڑایا کرتا تھا۔ اپنا سارا سرمایہ ، پتنگیں، دھاگا، مانجھا وغیرہ امجد کے ہاں چھوڑ آیاکرتا تھا۔ وہ لوگ چھت پر پتنگ اڑایاکرتے تھے۔ پتنگیں خریدنے کے لئے پیسوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ دونوں کا پورا جیب خرچ اسی شوق پر اٹھ جاتا تھا۔ اکثر ساری پتنگیں وہی خریدتا تھا۔ ڈھیر ساری پتنگیں ہوا کرتی تھی۔ پھر بھی کبھی کبھی جی چاہتا تھا کہ سڑک پر نکل کر کوئی پتنگ لوٹ کر لائے وہ اس ایڈونچر سے محروم تھے۔

دکان سے پتنگ خریدنا آسان سی بات ہے لیکن آٹھ دس کے بیچ سے پتنگ صحیح سلامت نکال لانا ایک کارنامہ ہے۔ ثروت بھی ان کے اس مشغلہ میں حصہ لیتی تھی۔ جب وہ لوگ پیچ لڑایاکرتے تو وہ دلچسپی سے دیکھا کرتی۔ اگر پتنگ کٹ جاتی تو نہ جانے کیوں ڈھیر سی پتنگوں کے ہونے کے باوجود دل کو ایک دکھ سا ہوتا۔ شاید شکست کے احساس سے۔ پاس کی چھت سے عارف پتنگ اڑایاکرتا تھا۔ یہ دونوں شرارتاً اس کی پتنگ سے اپنی پتنگ لڑا دیتے تھے۔ وہ چلانے لگتا ارے بھائی میرے پاس مانجھا نہیں ہے۔ التجائیں کرتا۔ اس کی التجائیں قہقہوں میں ڈوب کررہ جاتی تھی۔ ان لوگوں کو اس شرارت میں بہت مزا آتا تھا۔ آخر نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ جب بھی وہ لوگ پتنگ لے کر چھت پر چڑھتے وہ اپنی پتنگ اتار کر نیچے چلا جاتا تھا۔

اس کا زیادہ وقت امجد کے ہاں گزرتا تھا۔ اکلوتا ہونے کے باعث گھر پر کھیلنے کے لئے کوئی ساتھی نہ تھا۔ وہ، امجد اورثروت گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔ وقت کا احساس مٹ جاتا تھا۔ پھر وقت نے چپکے سے ثروت کو دبوچ لیا۔ وہ کھینچی کھینچی سی رہنے لگی۔ اپنے آپ سے سہمی سی یوں سنبھل سنبھل کر چلاکرتی جیسے اپنی چاپ کی سرگوشیوں سے بھی خوفزدہ ہو۔ اس کی آنکھوں میں خواب انگڑائیاں لینے لگے تھے۔ وہ ان آنکھوں کے ذریعہ خوابوں سے متعارف ہوا تھا۔

اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا کہ یہ آنکھیں کچھ بولنے لگی ہیں۔ کچھ دن بعد وہ پرسکون ہوگئی لیکن اب بے ساختگی کی جگہ جھجک نے لے لی تھی۔ ساتھ کھیلنا اس نے چھوڑ دیاتھا اور اب اسے دیکھ کر وہ سامنے سے ہٹ جاتی لیکن کسی نہ کسی بہانے آس پاس منڈلایا کرتی۔ ”بھیا تمہیں امی بلارہی ہیں“ ۔ ”کیا سودا نہیں لانا ہے“ ۔ ”تم کھیل میں سب کچھ بھول جاتے ہو“ ۔ گویا وہ اس سے کہہ رہی ہو کہ کہیں کھیل میں سب کچھ بھول نہ جانا۔

میری غیر موجودگی کا احساس تو ہے ناتمہیں۔ دونوں کی نگاہیں پل دو پل کے لئے ٹکراتیں اور وہ گھبراکرگھرکے کسی کونے میں غائب ہوجاتی۔ اس میں بھی اب تبدیلی آ گئی تھی۔ پہلے وہاں سے لوٹ کر ان لوگوں کو بالکل بھول جاتاتھالیکن اب لوٹ کر بھی دیر تک ان لوگوں کے بارے میں سوچتا رہتا۔ پڑھتے پڑھتے سوچتا کہ وہ بھی پڑھ رہی ہوگی۔ سونے سے پہلے سوچتا کہ کیا وہ ابھی تک جاگ رہی ہوگی یا سوگئی ہوگی۔ کیاوہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچاکرتی ہوگی۔

اس کے ہاتھ کا پکوان بہت لذیذ ہوتا تھا۔ اسے وہ دن بھی یاد ہے جب اس نے ثروت کے ہاتھ کا بنا ہواکھانا پہلی بار کھایا تھا۔ وہ اور امجد ونوں کیرم کھیل رہے تھے وہ آئی اور امجد سے کہنے لگی کھانا تیار ہوگیا۔ امی نے آپ کے دوست کو بھی روک لینے کو کہا ہے۔ اس جملہ کی اجنبیت میں بھی ایک اپنائیت جھلک رہی تھی۔ اس چھوٹے سے جملہ کے دوران وہ دوبار اسے آنکھیں چرا کر دیکھ چکی تھی اور آپ کے دوست کہتے وقت اس کی آنکھیں اس کے چہرے پر رینگتے ہوئے ردعمل کا احاطہ کرنے میں مصرو ف تھیں جب وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا تو امجد کی امی کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

وہ نرم لہجہ میں سرزنش کررہی تھیں۔ تونے مجھ سے پوچھے بنا اسے کیوں روک لیا۔ آج تو سالن وغیرہ بھی کوئی خاص نہیں ہے۔ کھانے کے لئے جب اس نے پراٹھا اٹھایا تو اسے لگا جیسے اس نے ریشم چھولیا ہو۔ پراٹھا بہت نرم اور ملائم تھا۔ اسے یقین تھا کہ پورا پراٹھا اس کی مٹھی میں سما جائے گا۔ آپ پراٹھے تو بہت اچھے بناتی ہیں ”اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔

”یہ پراٹھے تو ثروت نے بنائے ہیں“ وہ خوش ہوکربولیں اور فخر سے بیٹی کی طرف دیکھنے لگیں جس کے رخسار شرم سے گلنار ہورہے تھے۔ اسے اس دن پتہ چلا تھا کہ پراٹھا بنانا بھی ایک آرٹ ہے جس کا اس کے گھر میں رواج نہیں ہے۔ یہ بات نہیں تھی کہ اس کے گھر والوں کو اچھا پکوان نہیں آتا تھا۔ اس کی ممی صرف شوقیہ طور پر کبھی کبھی باورچی خانہ میں جایاکرتی تھیں۔ وہ بھی جب گھر میں کوئی دعوت ہو اور انہیں مرغ مسلم، دم کی مچھلی، بگھارے بیگن وغیرہ بنانا ہو۔ روزانہ تو وہ لوگ باورچی کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھایاکرتے تھے۔

انٹرمیڈیٹ کے بعد دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں۔ امجد کے ساتھ اک قافلہ تھا۔ ماں باپ جن کے پاؤں تھک چکے تھے۔ دو چھوٹے بھائی تھے، اک بہن تھی جن کے لئے چھاؤں فراہم کرنا اس کی ذمہ داری تھی وہ بہت زیادہ دور تک نہ جاسکتا تھا، جبکہ وہ اکیلا تھا اس کے حوصلے جواں تھے، عزائم بلند تھے۔ سب سے بڑی بات ماں باپ کی دولت کی طمانیت تھی۔ امجد کی منزلیں اس کے راستہ کا پڑاؤ تھیں۔ امجد کامرس میں گریجویشن کرنے لگا۔ اس نے انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا تھا۔

دوتین سال یونہی بیت گئے۔ ثروت کے لئے رشتہ آنے شروع ہوگئے تھے۔ اب جب بھی وہ ان کے گھر جاتا اسے محسوس ہوتا کہ ثروت کی سوچتی ہوئی آنکھیں اپنا حق مانگ رہی ہیں۔ اس نے اپنی ماں سے ثروت کا ذکر بھی کیا تھا لیکن وہ صاف ٹال گئیں۔ بہانہ بھی معقول تھا کہ ابھی تو پڑھائی بھی ختم نہیں ہوئی۔ پہلے یکسوئی سے تعلیم مکمل کرلو اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ اس نے کہا بھی کہ ایک بار بات چھیڑ دی جائے تو وہ لوگ دوچارسال انتظار بھی کر سکتے ہیں۔

ماں نے بڑی سردمہری سے اس کی بات رد کردی تھی۔ پھر اصرار کرنے کا اسے حوصلہ بھی نہ ہوا۔ پاپا سے کہنے کا تو کوئی سوال ہی نہ تھا۔ اسے پتہ تھا کہ ماں کیوں انکار کررہی ہیں۔ وہ اپنے ہم پلہ لوگوں میں رشتہ کرنا چاہ رہی تھیں اور انہیں ڈھیر سا جہیز چاہیے تھا۔ سماجی رتبہ چاہیے تھا۔ بالآخر ثروت کا ایک جگہ رشتہ طے ہوگیا، منگنی ہوگئی اور وہ کچھ بھی نہ کر سکا۔

اس نے ان کے گھر آنا جانا کم کر دیا۔ دونوں کا آمنا سامنا بھی کم کم ہونے لگا۔ شادی سے کچھ دن پہلے ثروت سے سیڑھیوں پر مد بھیڑ ہوگئی۔ وہ نیچے اتر رہی تھی اور یہ اوپر جا رہا تھا دونوں کی نگاہیں ٹکرائیں، پل دو پل کے لئے دونوں ٹھٹھک گئے۔ ثروت کی آنکھوں میں دنیا بھر کی اداسی سمٹ آئی تھی، بھیگی ہوئی پلکوں پر پامال حسرتوں کے سائے لرز رہے تھے۔ اس کے بیتاب ہونٹ کانپ رہے تھے۔ وہ کچھ لمحوں تک اسے درزدیدہ نظروں سے اک ٹک باندھے گھورتی رہی اور پھر ہونٹ کاٹتے ہوئے نیچے اتر گئی۔

شادی میں بھی وہ کھل کر حصہ نہیں لے سکا۔ کسی کو بھی اپنے دل کے ویران کھنڈروں سے گزار کر کیا فائدہ؟ شکستہ در و دیوار کی وحشتیں دیکھ کر کوئی بھی جان لے گا کہ ضروریہاں کوئی حادثہ ہواہے اور اگریہ سناٹے چیخ اٹھے تو ان کا الزام کون اٹھائے گا۔ لوگ لڑکی پر الزام کا بوجھ رکھ دیں گے۔ ہر جگہ یہی ہوتاآیا ہے یہاں بھی یہیں ہوگا۔ شادی کے دن وہ شام میں ان کے ہاں گیا۔ امجد نے دیکھتے ہی کہا ”اب تک کہاں تھے؟ میں سمجھ رہا تھا کہ تم صبح سے آؤگے، کام میں میرا ہاتھ بٹاؤگے“ ۔

اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر امجد نے پوچھا کیا دن بھر سوتے رہے ہو۔ ”ہاں“ اس نے مختصر سا جواب دیا۔ وہ وہاں زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکا۔ جب اس نے چلنے کی اجازت چاہی تو امجد حیران رہ گیا۔ ابھی آئے ابھی چلے تھوڑی دیر تو رک جاؤ۔ وہ طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے وہاں سے نکل آیا۔ دل کی وحشتیں کم کرنے کے لئے وہ پیدل ہی چلنے لگا۔ اس دن سے آج تک وہ مسلسل چل رہا ہے۔ ایک سی رفتار ہے۔ اب تو وہ چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ہوتا ہوا بڑی شاہراہ پر نکل آیا ہے۔ لوگ اس کی رفتار اور سمت کا اندازہ لگا کر اس کے سفرپر سرمایہ کاری کرنے تیار ہیں لیکن مما اب بھی مطمئن نہیں ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں اس کے پاس سب کچھ ہے۔ وہ کتنا تہی دست ہے اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے۔

ثروت کی شادی کے کچھ دن بعد امجد کے والد کا انتقال ہوگیا۔ پھر معاشی پریشانیوں کے ہاتھوں تنگ آکر ان لوگوں نے مکان بیچ دیا اور شہر کے دوسرے حصہ میں کرایہ کے مکان میں منتقل ہوگئے۔ مما کو مکان کے بک جانے کا بہت افسوس ہوا۔ ”اگر پہلے ہی خبر ہوجاتی تو ہم وہ مکان خرید لیتے“ ۔ انہو ں نے کہا۔ ”آپ کیاکرتیں اس مکان کا۔ آپ تووہاں نہیں رہ سکتیں“ ۔ اس مکان میں رہنے کا خیال ایک سرد لہرکی طرح اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گیا۔ کتنا مشکل ہوتا وہاں رہنا۔ یادوں کی ساری پرچھائیاں مجسم ہوجاتیں۔

”تم تو بیوقوف ہو۔ رہنے کی بات کون کر رہا ہے۔ کرایہ پر اٹھا دیتے“ ۔ کسی کی مجبوری کسی کی سرمایہ کاری۔ کتنا دکھ ہوتا امجد کو۔ اس نے سوچا

پھر امجد کو بمبئی میں نوکری مل گئی۔ وہ شہر چھوڑکر چلا گیا۔ کچھ دن تک تو خط وکتابت ہوتی رہی، لیکن ایک ڈراس کے ذہن سے چپکارہاکہ ایک دن بے پناہ شکست کا احساس نیلے کاغذ پر سمٹ جائے گا۔ محرومیوں کا اعتراف لفظوں میں ڈھل جائے گا اور شاید یہی احساس غیرمحسوس طریقہ پر خط وکتابت کے خاتمہ کا سبب بنا۔ دو سال پہلے اسے اطلا ع ملی تھی کہ ثروت نے ایک مردہ بچی کو جنم دیا ہے اور خود مرتے مرتے بچی ہے۔ دل میں ایک خواہش ہوئی کہ جاکر اس سے مل آئے۔ عیادت کرآئے، لیکن وہ کس رشتہ سے جاکراس سے ملتا دنیا ہرایک رشتہ کو توقبول نہیں کرتی ہے۔

بس ایک جھٹکے سے رک گئی۔ وہ اٹھا اور اپنے خیالات کا ٹوٹا ہو تسلسل ڈھونڈتا ہوا اپنے گھر لوٹ گیا۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ پندرہ کی بجائے اکیس دن دورہ پر رہا۔ کلکتہ سے لوٹ کر ایک دو دن تھکن اتارنے میں گزرگئے اورپھر اپنے فرم کے کام میں وہ اتنا الجھ گیا کہ یہ بات ا س کے ذہن سے بالکل اتر گئی کہ امجد کی عیادت کا اس نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا۔ ایک شام کوٹھی کے بس اسٹاپ کے قریب امجد کے چھوٹے بھائی سے ملاقات ہوگئی۔

”بھائی جان کیسے ہیں“ اس نے پوچھا۔
”بھائی جان کا تو انتقال ہوگیا“ اسلم نے جواب دیا۔ اسے ایک جھٹکا سا لگا۔
”کب“ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔

”یہی کوئی بیس پچیس دن ہوئے“ ۔ اس نے سرسری انداز میں جواب دیا۔ اس نے دن اور تاریخ بتانے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اسلم کا چہرہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔ شاید پے در پے حادثوں نے اسے بے حسی کی اذیت سے دوچار کر دیا تھا یا شاید وہ اسے اپنے دکھ میں شریک نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کا بے حس چہرہ بہت میچور لگ رہا تھا۔ ”کیسے ہوا؟“ اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا

” Meningitis ہوگیا تھا“ ۔ تین ہفتے کوما میں رہے پھر ہوش ہی نہیں آیا۔
”مجھے تو خبر ہی نہیں ملی“ ۔

”ڈاکٹر جمیل نے کہا تھا کہ انہوں نے آپ کو بتایا تھا۔ ڈاکٹر جمیل نے علاج میں بہت مد د کی تھی۔ تدفین میں بھی آئے تھے۔ آپ کو پوچھ رہے تھے۔“

وہ ندامت سے پسینہ پسینہ ہوگیا۔ رسمی تعزیتی جملے بھی بولنا بھول گیا۔ خفت مٹانے کے لئے اس نے کہا ”مجھے تم لوگوں کے گھر کا پتہ نہیں معلوم۔ مجھے ایک کاغذ پر لکھ کر دیدو“ ۔

اسلم نے جیبیں تلاش کرکے ایک کاغذ نکالا اور پتہ لکھ کر دیتے ہوئے ”اب یہ آپ کے کس کام کا۔ یہ تو آپ کے لئے ایک کھوئے ہوئے جزیرے کے مانند ہے“ ۔

”میں تمہاری ممی سے ملنے آؤنگا“ اس نے کہا۔ اسلم نے یقین نہیں کیا مگر کچھ کہا نہیں۔ پھراس کی بس آ گئی اوراس نے جلدی سے ہاتھ ملا کر رخصت ہوگیا۔

اور وہ بے حس سا کھڑا اسلم کو جاتے دیکھتا رہا۔ میری معصوم محبت بھی تو ایک کھویا ہوا جزیرہ ہے۔ اس نے اداس ہوکر سوچا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قیوم خالد (شکاگو) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *