جدید دنیا میں ہمارے لئے سیگرٹ نوشی جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افراد کے احساسات اور آزادانہ انتخاب پر لبرل بیانیے کا یقین قدرتی عمل ہے اور نہ ہی بہت قدیم بات ہے۔ ہزاروں سال سے لوگ یہ مانتے آئے ہیں کہ خود پہ اختیار انسانی دل سے نہیں بلکہ خدائی قوانین سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں انسانی آزادی کی بجائے خدا کے کلام کو تقدس بخشنا چاہیے۔ ابھی پچھلی چند صدیوں میں ہی اختیار آسمانی دیوتاؤں سے انسانوں کو منتقل ہوا ہے۔

جلد ہی یہ اختیار انسانوں سے الگورتھم کو منتقل ہو سکتا ہے۔ جس طرح مذہبی میتھالوجی کے ذریعہ آسمانی طاقت کو اختیار کی قانونی حیثیت حاصل تھی (اس کے بعد) لبرل بیانیے کی مدد سے انسانی اختیار کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ عین اسی طرح آنے والا وقت شاید بگ ڈیٹا الگورتھم کی حکمرانی کو قائم کردے گا۔ جو بالآخر انفرادی آزادی کے خیال کو بھی مجروح کرتا ہے۔

ہمارے دماغ اور جسم کے کام کرنے کے طریقوں سے متعلق سائنس یہ بتاتی ہے کہ احساسات انسان کا کوئی خاص نوعیت کا روحانی معیار نہیں ہے او رنہ ہی یہ کسی آزادانہ قوت ارادی کی عکاسی کرتا ہے۔ بلکہ تمام تر احساسات بیالوجیکل میکانزم ہیں جو تمام میملز اور پرندے اپنی بقا اور افزائش نسل کے لیے ممکنہ امکانات کا حساب کتاب لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ احساسات کی بنیاد پر وجدان، تحریک یا آزادی نہیں ہے بلکہ وہ حساب کتاب پر مبنی ہوتے ہیں۔

جب کوئی بندر، چوہا یا انسان سانپ کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر خوف پیدا ہوتا ہے، کیونکہ دماغ میں موجود لاکھوں نیورانز تیزی سے متعلقہ خطرہ سے جڑے اعداد و شمار کا حساب لگاتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ موت کا امکان زیادہ ہے۔ جنسی کشش کے احساسات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بائیو کیمیکل الگورتھم حساب لگاتا ہے کہ قریبی فرد کے ساتھ کامیاب ملاپ، معاشرتی روابط یا کسی بھی قسم کے مطلوبہ مقصد کے حصؤل کا اعلی امکان موجود ہے۔

اخلاقی جذبات جیسے غم و غصہ، جرم یا معافی عصبی میکانزم سے اخذ ہوتے ہیں، جو گروہی تعاون کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یہ تمام تر بائیو کیمیکل الگورتھم کو لاکھوں سال کے ارتقا کے ذریعے اعزاز بخشا گیا۔ اگر کسی قدیم آبا و اجداد کے احساسات نے غلطی کی ہوتی تو ان جذبات کو بنانے والے جینز اگلی نسل تک نہ پہنچتے۔ اس لیے احساسات عقل کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ ارتقائی عقلیت پسندی کو مجسم حالت میں لاتے ہیں۔

عمومی طور پر ہم یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ دراصل احساسات حقیقت میں اعداد و شمار کا حساب کتاب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حساب کتاب کا یہ تیز ترین عمل ہماری آگاہی کی حد سے بہت نیچے کہیں رونما ہوتا ہے۔ ہم دماغ میں موجود ان لاکھوں نیورانز کی موجود گی کو محسوس نہیں کرسکتے، جو بقا اور افزائش کی کمپیوٹنگ کے ممکنہ امکانات سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا ہم غلطی سے یقین کرلیتے ہیں کہ سانپ سے متعلق ہمارا خوف، جنسی ساتھی کا انتخاب یا یورپی یونین کے بارے میں ہماری رائے کسی پراسرار ’آزاد قوت ارادی‘ کے سبب ہے۔

اگرچہ لبرل ازم کا یہ سوچنا غلط ہے کہ ہمارے جذبات آزادانہ قوت ارادی کی عکاسی کرتے ہیں، پھر بھی آج تک ان احساسات پر بھروسا کرنا عملی طور پر اچھا عنصر ہے۔ اگرچہ احساسات سے متعلق کوئی بھی عمل جادوائی یا آزادانہ نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات میں فیصلہ کرنے کا سب سے بہترین عمل ہے کہ کیا پڑھنا ہے؟ کس سے شادی کرنی ہے اور کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے۔ اور کوئی بھی بیرونی نظام مجھ سے بہتر میرے احساسات کو نہیں سمجھ سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر ہسپانوی احتساب یا سوویت یونین کی کے جی بی نے ہر ایک دن میں ہر پل میری جاسوسی کی بھی تو ان کے پاس ایسا بیالوجیکل علم اور کمپوٹنگ طاقت کی کمی تھی جو میری خواہشات اور انتخابات کی تشکیل دینے والے بائیو کیمیکل پراسس کو ہیک کرنے کے لیے ضروری تھا۔

اس لیے تمام تر عملی مقاصد کے لیے یہ استدلال درست تھا کہ میں آزاد قوت ارادی کا مالک انسان ہوں، کیونکہ بنیادی طور پر میری مرضی میرے اندر موجود قوتوں کے سبب تشکیل دی گئی تھی، جنہیں بیرونی دنیا سے کوئی بھی فرد دیکھ نہیں سکتا تھا۔ میں اس وہم سے لطف اندوز ہو سکتا تھا کہ میں اپنے اندرونی خفیہ نظام کو کنٹرول کرتا ہوں اور باہر والے کبھی بھی نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ میرے اندر کیا ہورہا ہے اور میں اپنے فیصلے کیسے کرتا ہوں۔

اس لحاظ سے لبرل ازم کی اصلاح درست تھی کہ کسی پادری یا سیاسی رہنما کی بجائے اپنے دل کی پیروی کی جائے۔ تاہم جلد ہی کمپیوٹر الگورتھم آپ کو انسانی احساسات سے بہتر مشورے دے سکتا ہے، چونکہ ہسپانوی احتساب اور کے جی بی مل کر گوگل اور بیدو کو راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آزاد مرضی کو ایک دیو مالا کی حقیقت کے طور پر بے نقاب کیا جائے، جس کی وجہ سے لبرل ازم اپنے عملی فوائد سے محروم ہو سکتا ہے۔

اس وقت ہم دو انتہائی بڑے انقلاب کے سنگم پر موجود ہیں۔ ایک طرف ماہر حیاتیات انسانی جسم خاص طور پر دماغ اور انسانی احساسات کے بھیدوں کو کھول رہے ہیں۔ اسی وقت کمپیوٹر سائنس دان ہمیں بے مثال ڈیٹا پراسیسنگ طاقت دے رہے ہیں۔ جب بائیو ٹیکنالوجی کا انقلاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اندر ضم ہو جائے گا تو یہ بگ ڈیٹا الگورتھم کو جنم دے گا، جو میرے احساسات کو مجھ سے بہت زیادہ بہتر انداز میں سمجھ بھی سکے گا اور اس کی نگرانی بھی کر سکے گا اور پھر شاید اختیارات انسانوں سے کمپیوٹر کو منتقل ہوجائیں گے۔

طب کے میدان میں یہ سب کچھ پہلے ہی ہورہا ہے۔ ہماری زندگی سے متعلق سب سے اہم طبی فیصلوں کا انحصار بیماری یا تندرستی سے جڑے ہمارے احساسا ت یا پھر ڈاکٹروں کی باخبر پیش گوئیوں پر نہیں ہوتا، بلکہ ان کا انحصار ایسے کمپیوٹروں پر ہوتا ہے جو ہمارے جسموں کو ہم سے کہیں بہتر انداز میں جانتے ہیں۔ بس چند دہائیوں کی با ت ہے، جب بائیو میٹرک معلومات کی مسلسل فراہمی کے سبب بگ ڈیٹا الگورتھم ہماری صحت کی ہر پل نگرانی کرسکے گا۔ وہ انفلوئنزا، کینسر یا الزائمر کا ابتدائی سطح (اس سے پہلے کہ ہم محسوس کریں کہ ہمارے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے ) پر ہی پتہ لگا لیں گے۔ اس کے بعد وہ مناسب علاج، غذا اور روزانہ پلان کی سفارش کر سکتے ہیں، جو ہماری منفرد جسمانی ساخت، ڈی این اے اور شخصیت کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہوگا۔

اس نظام کی بدولت وہ انسانی تاریخ میں صحت کی سب سے بہترین دیکھ بھال سے لطف اندوز ہوں گے، لیکن صرف اسی وجہ سے وہ ہر وقت بیمار رہیں گے۔ جسم میں ہمیشہ کہیں نہ کہیں کوئی نقص پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کسی ایسی صورتحال کا سامنا رہتا ہے جسے بہتری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی میں آپ خود کو بالکل صحت مند محسوس کرتے تھے، جب تک کہ آپ کو درد محسوس نہیں ہوتا تھا یا پھر لنگڑے پن جیسی معذوری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ لیکن 2050 تک بائیومیٹرک سینسر اور بگ ڈیٹا الگورتھم کی بدولت بیماریوں کی تشخیص اور علاج (اس سے پہلے کہ وہ شدید تکلیف یا معذوری کا باعث بنے ) بہت پہلے ہی ہو جائے گا۔ جس کے نتیجے میں آپ ہمیشہ خود کو کسی نہ کسی طبی معذوری کا شکار پائیں گے اور الگورتھم کی سفارشات پر عمل پیرا ہوں گے۔ اگر آپ اس امر سے انکار کریں گے تو شاید آپ کا طبی انشورنس غیر موثر ہو جائے گا یا پھر آپ کا باس آپ کو برطرف کردے، کیونکہ آپ کی ضد کی قیمت وہ کیوں ادا کریں؟

عام اعداد و شمار (جو تمباکو نوشی کو پھیپھڑوں کے کینسر سے جوڑتے ہیں) کے باوجود سگریٹ نوشی جاری رکھنا ایک بات ہے۔ مگر بائیو میٹرک سینسر کی جانب سے ٹھوس انتباہ نے آپ کے بائیں پھیپھڑے میں سترہ کینسر والے خلیوں کا پتہ لگایا ہے وہ آپ کو ٹھوس تنبیہ کرے گا۔ اس کے بعد سگریٹ نوشی جاری رکھنا اور بات ہے۔ اگر آپ سینسر کی تجویز کو رد کرتے ہیں تو جب سینسر آپ کی انشورنش ایجنسی، آپ کے منیجر اور آپ کے والد کو انتباہ بھیجتا ہے تو آپ کیا کریں گے؟

ان تمام تر بیماریوں سے نمٹنے کے لیے وقت اور توانائی کس کے پاس ہوگی؟ تمام امکانات میں ہم صرف اپنی صحت کے الگورتھم کو ان بیشتر مسئلوں سے نمٹنے کے لیے ہدایت کر سکتے ہیں، کیونکہ یہی مناسب لگتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہمارے اسمارٹ فون پر وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ بھیجے گا، تاکہ ہمیں بتا سکے کہ ’سترہ کینسر والے خلیوں کا پتہ چلنے پر انہیں تباہ کر دیا گیا تھا‘ ۔ صحت کے لیے فکرمند شخص ان اپ ڈیٹس کو پوری ذمہ داری سے پڑھے گا، لیکن ہم میں سے اکثر لوگ ان کو نظر انداز کردیں گے۔ عین اسی طرح جس طرح ہم اپنے کمپیوٹر پر پریشان کن اینٹی وائرس نوٹس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےبریگزٹ ریفرینڈم میں یہ کیوں پوچھا گیا کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟کیا گوگل، بائیو میٹرک، جی پی ایس اور الگورتھم کی دنیا میں ہماری انفرادی شناخت گم ہو جائے گی؟  
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *