کیا بہاولپور کے لوگ ریڈ انڈین ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ چونکا دینے والے الفاظ بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب کے ہیں۔ جنہوں نے 19 جون 2020 کو اسمبلی اجلاس میں خطاب کیا اور اپنے خطاب میں بہاولپور کے رہائشیوں اور صحرائے چولستان کے باسیوں کا مقدمہ ایوان میں پیش کیا۔ ان کا کہا ایک ایک لفظ بہاولپور کے لوگوں کی بے بسی و کسمپرسی کا آئینہ دار تھا۔

اس خطاب میں انہوں نے کچھ طاقتور حلقوں کے بہاولپور اور چولستان کی زمینوں پر قبضے کیے جانے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے چولستان کو نوگو ایریا بنا دیے جانے پر بھی صدائے احتجاج بلند کی، اور بہاولپور کے غریب کسانوں کو پانی سے محروم کرنے کی کوششوں پر بھی سنجیدہ سوال اٹھائے۔

جب کسی علاقے کا ایک سنجیدہ اور سینئر سیاستدان اسمبلی فلور پہ کھڑا ہو کے اپنے علاقے کی محرومیوں پر اتنا سخت لب و لہجہ اختیار کرتا ہے تو یہ ہم سب کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ یقیناً یہ ہمارے کون سے عمل کا ردعمل ہے۔

پیرزادہ صاحب کی تقریر میں کئی تاریخی حوالے بھی تھے اس لیے ان کی بات کو سمجھنے کے لیے بہاولپور کا تاریخی پس منظر جاننا بھی بہت ضروری ہے۔

بہاولپور کی ریاست تقسیم سے قبل ایک خودمختار، خوشحال، ترقی یافتہ اور مستحکم ریاست تھی۔ تقسیم کے بعد پنڈت نہرو راجھستان کا کچھ علاقہ ریاست بہاولپور کو دے کر بھارت کے ساتھ الحاق چاہتے تھے لیکن نواب (سر صادق محمد خان عباسی پنجم) نے یہ کہہ کر الحاق سے انکار کر دیا کہ،

” پاکستان میرے گھر کا سامنے والا دروازہ ہے اور بھارت پچھلا دروازہ، ہر شریف آدمی اپنے گھر کے سامنے والے دروازے سے داخل ہوتا ہے، پچھلے دروازے سے نہیں“ ۔

اس طرح 5 اکتوبر 1947 کو ریاست بہاولپور نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ اور مسائل میں گھری نوزائیدہ مملکت کی ہر طرح سے مدد کی۔ روایات کے مطابق ریاست بہاولپور کی طرف سے نہ صرف پاکستان کو خطیر رقم دی گئی بلکہ پہلے 6 ماہ کی تنخواہیں بھی ادا کی گئیں۔

گورنمنٹ آف پاکستان نے اپریل 1951 میں معاہدہ الحاق میں اہم اضافہ کر کے ریاست کو صوبائی حیثیت میں تبدیل کر دیا۔

پھر 1955 میں بنگالیوں کی عددی اکثریت کا توڑ کرنے کے لیے ون یونٹ بنایا گیا تو صوبہ بہاولپور کو بھی ون یونٹ کا حصہ بنا دیا گیا۔ 1960 میں سندھ طاس معاہدے میں بہاولپور کے پانی کے حصے پر ڈاکا ڈالا گیا۔ 1969 میں آمر یحییٰ خان نے جب ون یونٹ کا خاتمہ کر دیا تو تمام صوبے بحال ہوگئے لیکن بہاولپور کے مقدر میں اندھیرے لکھ دیے گیے اور اس کی صوبائی حیثیت کو غصب کر لیا گیا۔

اس کے بعد سے بہاولپور کا تاریکی میں کبھی نہ ختم ہونے والا سفر جاری ہے۔ جن کی طرف پیرازدہ صاحب نے اشارہ کیا ہے۔

وہ حالات یہ ہیں کہ اس وقت پسماندگی کے لحاظ سے ضلع بہاولپور صوبہ پنجاب میں چوتھے نمبر پہ ہے۔ یہاں پر 51 فیصد لوگ عربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں یہ شرح 26 سے 29 فیصد تک ہے۔ بہاولپور کو اس کے حصے کا پورا پانی دیا جا رہا ہے نہ انہیں ان کی زمینوں پر حق ملکیت دیا جا رہا ہے۔ اپنے وقت کی امیر ترین ریاست میں بیروزگاری اور بد حالی عروج پر ہے۔

یہاں کا باصلاحیت نوجوان روزگار کے لیے لاہور اور کراچی میں دھکے کھاتا پھر رہا ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں پانی کی کمی سے بنجر ہوتی جارہی ہیں۔ یہاں کا چولستان جو لاکھوں مویشیوں کی چراگاہ ہے وہ ہم سے چھینا جا رہا ہے۔

تو آج ضرورت اس امر کی ہے آپ پسماندہ علاقوں کے لئے اٹھنے والی سنجیدہ آوازوں کو سنیں آپ پیرزادہ صاحب اور اختر مینگل صاحب کی باتوں پر دھیان دیں وہ اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہے اپنے لوگوں کے حقوق مانگ رہے ہیں۔ اس پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کا۔
کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *