خاموشی اور تنہائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھوپ بڑی خاموشی سے غائب ہوگئی، اور آسمان پر بادلوں نے قدم جمالیے، پھر اچانک ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، وہ سڑک کنارے چلتے چلتے، کافی دور نکل آیا تھا، آج اسے دن بڑا لمبا لگ رہا تھا، سوچیں اس کے قدموں کا ساتھ نہیں دے پارہی تھیں، خیال کہیں اور منزل کا کچھ علم نہیں تھا، رات بھی آنکھوں میں گزاری، یادوں کا ایک سمندر تھا، جس میں وہ غوطہ زن رہا، کبھی ماضی کے اچھے دن اور کبھی دوستوں کے ساتھ تلخیاں اسے پریشان کرتی رہیں۔

اس نے جوانی کے ایام کہاں کہاں نہ گزارے، ایک کے بعد ایک سین کی صورت میں پردے پر جیسے اترتے جا رہے تھے۔

اسی عالم میں سورج کی گرنیں کھڑکی کے راستے اس کے چہرے پر پڑیں، اور دن چڑھنے کی اطلاع کرگئیں، اپنی سوچوں میں غلطاں وہ کچھ کھائے پیئے، بغیر سوچے سمجھے اسی حال میں کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔ وہ پچھلے چند برسوں سے اپنی بیوی کے انتقال کے بعداس کیفیت سے خود کو آزاد نہیں کرپا رہا تھا۔ دوران زچگی وہ بڑی خاموشی سے اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔ یہ غم شاید کوئی نیا نہیں تھا وہ زندگی میں دکھ کے استقبال کر کر کے تھک چکا تھا۔

اس کو نہیں معلوم تھا کہ جیون ساتھی کا ساتھ اتنا مختصر بھی ثابت ہو سکتا ہے، ابھی تو وہ ایک دوسرے کو صحیح طور پر جان بھی نہیں پائے تھے۔ اس کی بیوی نے پیار کے معنی اسے سمجھانا شروع کیے تھے، اس کے اندر کا غصہ کم کرنے کے بہانے تراشتی تھی، بات بات پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے بارے میں سوچتی، اس کو یہ احساس تھا کہ وہ اس کی زندگی کا چلن تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔

ایک تیسرے فرد کی آمد کا دونوں کو بڑی شدت سے انتظار تھا، ننھے مہمان کے استقبال کی بھرپور تیاریاں جاری تھیں، اس کو اپنے درمیان محسوس کرنے لگے تھے، اسے جیسے نئے آنے والے میں اپنی بیوی کا عکس بھی دکھنے لگا تھا۔ کبھی کبھی ایک انجانا سا خوف اسے گھیر لیتا، کہیں اس کی خوشیاں کو لوٹ نہ لے، وہ جانتا تھا کہ اس کی خوشیاں دیرپا نہ ہوتی تھیں، اب بھی کچھ ایسا دھڑکا لگا تھا، وہ دن بھی آیا جب انتظار کے لمحات ختم ہونے کو تھے، اور پھر وہی ہوا، حالات کے غموں کی مٹھی میں سے خوشیاں ریت کی مانند سرک گئیں، ایک بار پھر آہ لی، مگر یہ برداشت سے باہر تھی، کیونکہ اس آندھی میں اس کا سب کچھ ہی اجڑگیا، چھوٹا سے گروندا جیسے بکھر ہی گی،

آنے والا اس کی زندگی کی خوشیاں بھی ساتھ لے گیا، ننھے مہمان کو دنیا میں لانے کا فرض ادا کرتے بیوی خود ہی رخصت ہوگئی، اس کا خواب ٹوٹ گیا،

وہ ایک بار پھر تنہا ہوگیا، اب کہ اس کے لیے وقت گزارنا زیادہ تکلیف دہ ہوگیا، اس کو نئے سرے سے خود کو سمیٹنا تھا، یہ سب مشکل کام لگتا تھا، ریزہ ریزہ ہونے والے لمحات اسے سانپ کی طرح ڈسنے لگے تھے، دنیا سے تعلق ٹوٹ سا گیا تھا، کسی سے ناتا جوڑنے کی خواہش ختم ہوگئی۔

جب بھی کسی کے ساتھ واسطہ پڑتا، اسے کوئی نہ کوئی دھوکہ ہوتا، مایوسی اس کے رگ و پے میں شامل ہوچکی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا چھوڑ دیا تھا، آگے اسے کچھ دکھائی دے نہیں رہا تھا، اس نے حالات کے آگے آنکھیں موندلی تھیں۔

آج بھی کئی مہینوں بعد اسی کیفیت میں باہر کی دنیا میں قدم رکھا، بے ارادہ قدم شہر خموشاں کی جانب بڑھنے لگے، بیوی اور بچے کی قبر پر پہنچ گیا، وہاں بے چینی کے باوجود اسے کسی حد تک سکون ملتا، اسی شانت حالت کے لیے شاید وہ کچھا چلا آیا تھا۔ اس نے قبر سے ایک نیا رشتہ قائم کر لیا تھا، کبھی کبھی وہاں باتیں بھی کرتا، زیادہ دکھی ہوتا تو زاروقطار آنسو بہالیتا، لیکن وہ جب بھی یہاں آیا، واپسی پر کافی ہلکا ہوکر جاتا، اس کی پریشانی اور ذہنی اذیت میں کسی حد کمی آچکی ہوتی، یہی وہ کیفیت تھی جس کی خاطر وہ اس طرف کا رخ کرلیتا تھا۔

یہ قبر ہی اس کی غمگسار تھی، وہی اسے دلاسا دیتی اور اس کے آنسو پونچھتی، وہ اب بھی اس کے آس پاس ہی ہوگی، دونوں نے ایک ساتھ بمشکل ایک سال گزارا، مگر کئی سال بعد بھی اسے اپنے سے دور نہیں پایا، وہ درختوں کے پتوں کو جھومتا دیکھتا تو ایسا ہی لگتا کہ گھر آنے پر اس کا استقبال کررہی ہے۔ اس کی ایک ایک بات یادوں کے گھر میں یہاں بے ترتیب انداز مین بکھری پڑی تھیں، جنہیں کبھی سمیٹنے کی کوشش بھی کی، تو ناکام ہی رہا، اسے یہ اچھا لگتا تھا کہ کہیں سے کوئی لمحہ، کوئی خوشی کی ساعت، اٹھالیتا اور اس کے ساتھ وقت گزارلیتا۔ کئی تلخ واقعات بھی اس کے حصے اکثر آ جاتے مگر وہ انہیں پاکر اب دکھی نہیں ہوتا تھا، دکھ اس کے مزاج اور طبیعت میں پوری طرح سے رچ بس چکا تھا۔

جانے والا ہر پل ماضی کی کوئی بات یاد دلادیتا، حال سے وہ زیادہ تر بے خبر ہی رہتا، اگر کہیں کوئی مل بھی جاتا تو دل اور دماغ کا آپس میں رشتہ قائم نہ رہ پاتا، بات چیت کے دوران کوئی ربط نہ ہوتا، ایسے میں خاموشی پر اکتفا کرتا، مزاج ویسے ہی گفتگو کا عادی نہ رہا تھا، جتنا علم دماغ میں ڈالا تھا، وہ شاید اب کہیں منجمد ہوچکا تھا، کسی بات کا تعین تک کرنا جیسے محال ہوگیا تھا۔ زندگی بے مقصد اور کسی سمت کا تعین نہ کرپارہی تھی، اس نے سوچ کو بھی موقوف کر رکھا تھا۔ زیادہ وقت نیند میں گزاردیتا۔ اگر آنکھیں کھلی بھی ہوتیں تو ذہن کو خالی رکھتا، یہ کوئی آسان کام نہ تھا، لیکن اس نے بڑی کامیابی سے خود کو دنیا کے جمیھلوں سے آزاد کر لیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 77 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

Leave a Reply