تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہوئی

علامہ طالب جوہری وفات پا گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ کیا اہل علم بھی وفات پا جاتے ہیں؟ علامہ خود جواب عطا فرماتے ہیں کہ:

کانچ کے کھلونوں پر اعتبار کیا کرنا
وہ بھی ٹوٹ جاتے ہیں جو خدا بناتا ہے

جو پیدا ہوا، فنا اس کا مقدر ہے، جو اجزا ظہور ترتیب ہوئے، ان عناصر کی شیرازہ بندی کا پریشان ہونا، امر ربی ہے۔ اسی امرروایت پر علامہ طالب جوہری نے کہا:

ہم نے بھی ترک کر دی اب جسم کی سکونت

علامہ طالب جوہری رخصت ہوئے۔ ان کی جسمانی تدفین بھی ہو گئی۔ ان کی رخصت صرف اہل تشیع کے ایک ذاکر کی موت سمجھنا، بہت بڑی غلطی ہو گی۔ عالم اسلام کا کوئی بھی گروہ ہو یا کوئی بھی مسلک ہو، تمام افراد کے دل میں اہل بیت کی عزت، سانحہ کربلا، مصایب شام غریباں سے متعلق جذبات یکساں اہمیت کے حامل ہیں اور علامہ طالب جوہری ان ہی کی ترجمانی کرتے رہے ہیں۔ کون ایسا مسلمان ہے جو ان واقعات سے لاتعلقی اختیار کر کے خود کو مسلمان کہلوا سکتا ہے۔

اگر جواب ہے کہ نہیں، تو پھر ان واقعات کی ترجمانی کرنے والا عالم، کس طرح ایک خاص گروہ یا فرقہ سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ طالب جوہری صرف شیعہ فرقہ کے عالم نہیں بلکہ عالم اسلام کے عالم اور ذاکر اسلام تھے، ان کی وفات، عالم اسلام کے ایک عالم کی وفات اور علم و خطابت کے اک عہد کی وفات ہے۔

وقت کی قینچی اس کے پروں کو کاٹ گئی
شمع سے رشتہ ٹوٹ گیا پروانے کا

علامہ طالب جوہری، ’علامہ‘ ، بھی تھے، ’طالب‘ ، بھی تھے اور ’جوہری‘ ، بھی تھے۔ عالم مر جاتا ہے، اس کا علم نہیں مرتا۔ علامہ نے جو علم دیا، محرم اور شام غریباں کے مصایٔب جس طرح پیش کیے، واقعات کی ترتیب، انداز تکلم، دلایل کا منطقی ربط، سامعین کو اپنے ساتھ بہا کر لے جانا، ماحول کو علمی محسوسات میں قید کر لینا، وہ عنا صر ہیں جنھوں نے علامہ طالب جوہری کو لافانی بنا دیا ہے۔ جسمانی طور پر آپ رخصت ہو گئے مگر اسلامی تاریخ، سانحہ کربلا، فن خطابت، کے طالبعلموں کے لیے آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

علامہ طالب جوہری کی شخصیت کا نمایاں پہلو خطابت تھا مگر وہ ہمیشہ ’طالب‘ رہے۔ غزالی کی طرح علم و عرفان کے صحراوؤں کی خاک چھانی اور یوں اعتراف کیاکہ:

کبھی پنجہ کشی رہی فلسفے سے، کبھی علم کلام سے سر پھوڑا
کبھی ڈس گیا سانپ تصوف کا، کبھی چھید گیا عرفان میاں
نہ میں وارث شاہ، نہ میر تقی، کشکول بدست گدا گر ہوں
کچھ ادھرسے لیا، کچھ ادھر سے لیا، یوں ہی جمع کیا دیوان میاں

آنحضرت محمد ﷺ جو کہ علم کا شہر ہیں اور حضرت علیؑ اس شہر علم کا دروازہ، اس شہر علم کے مضامین کے ’جواہر‘ آخر کیا تھے۔ علامہ طالب جوہری نے، شہر علم کے جواہر سے جو جوہر منتخب کیے وہ یہ تھے، دین حق کی سر بلندی کی خاطر قربانی دینے کا سبق، قر بانیوں کے بعد اسباق کو آنے والوں تک پہنچانے اور یاد کرواتے رہنے کا مشن، حق کی خاطر تنہا لڑنے کا عزم:

اک ٹوٹے نیزے کے سوا کچھ بھی اس کے پاس نہ تھا
پھر بھی فوجیں بھاگ گئیں تیور دیکھ سپاہی کے

’معرکۂ حق وباطل‘ ، صرف میدان جنگ میں ہی نہیں وقوع پذیر ہوتے۔ بلکہ وجود انسانی ہی رذم گاہ حق و باطل ہے۔ انسان کی مرضی ہے جو راہ چاہے، اختیار کرے :

کس کا دامن تھاموں کس کو ترک کروں
اک شیطان اور ایک پیمبر ساتھ میں ہے

علامہ طالب جوہری نے ’ہم یہ پرکھیں کس کو کتنا ہے ربط اپنے باطن سے‘ کا نعرہ لگایا، اور معرکہ حق و باطل میں سر کٹانے والوں کے پیغام کو آیندہ نسلوں تک پہنچانے، بزرگوں کی یاد میں گریہ کروانے، اور عا لم اسلام کو محرم میں اجتماعیت کا درس دینے کا کام کیا۔ عالم اسلام کے دو جواہر ایسے ہیں جو اسلام کی اجتماعیت کا مظہر اور عملی نمونہ ہیں، ایک اجتماع حج، دوسرا یوم عاشورہ۔ یہ دو اجتما عات دنیا کا دل دہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ موجودہ ( کرونا مرض) حالات میں حج شاید ہو نہ ہو، مگر عاشورہ کو تو کوئی نہیں روک سکتا، یہ تو نام ہی ہے سر کٹا کر، گریہ کرنے کا۔ علامہ طالب جوہری نے تمام عمر اسی درس کی یاد دہانی کروائی ہے۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
علامہ طالب جوہری جس سفر پر رخصت ہوئے :
اک موہوم نشانی پر طالب ہم نے کوچ کیا
منزل بھی انجانی تھی، رستہ بھی ان دیکھا تھا
میر تقی میر نے شکوہ کیا تھا :
’ پیدا کہاں ایسے پراگندا طبع لوگ‘ ۔
اور علامہ طالب جوہری یوں شکوہ کر گئے کہ:
’اب وہ سانچے ٹوٹ چکے جن سانچوں نے ڈھالے لوگ‘ ۔

” تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہو گئی اور اب تو دامن وقت میں گنجایش بھی نہیں“ ۔ یہ وہ جملہ ہے جو میں نے بچپن سے، ہر یوم عاشور، شام غریباں کو، علامہ طالب جوہری کی زبان سے سنا۔ میرا تعلق اہل تشیع سے نہیں مگر محرم کی سبیل، لنگر کی تقسیم، یوم عاشورہ کا احترام، اہل بیت کے مصایبٔ سننا اور علامہ طالب جوہری کی مجلس شام غریباں دیکھنا اور گریہ کرنا، بچپن سے ہمارے گھر کی روایت ہے کیونکہ اہل بیت سے محبت، عاشورہ، اور شام غریباں، تمام مسلمانوں کی وراثت ہے صرف اہل تشیع کی نہیں۔ علامہ طالب جوہری نے بھی اسے صرف اہل تشیع تک محدود نہیں رکھا اور تمام اہل اسلام تک درس کربلا اور عاشورہ کی اہمیت کو پہنچایا۔

علامہ طالب جوہری، آپ نے ساری زندگی اہل بیت سے محبت کی، اہل بیت اور آل رسولﷺ کے لیے گریہ زاری کی، اس حد تک کی کہ مجلسیں تمام ہویئں، وقت کے دامن کی گنجائیشیں تمام ہوئیں، مگر ذکر اہل بیت اور عاشورہ کا گریہ ابھی قیامت تک باقی ہے۔ آج آپ رخصت ہوئے۔ میری یہ تحریر آپ کی اہل بیت سے محبت اور اہل بیت کا گریہ کرنے والے کا گریہ ہے۔ میں نے گریہ کیا، مجلس تمام ہوئی، اور دامن وقت میں گنجائیش بھی نہیں رہی اور لفظ بھی جذبات کے اظہار کے لیے ناکافی ٹھہرے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words