اہم قومی مسائل پر جے یو آئی بلوچستان کی اے پی سی
ملک بھر میں سیاسی جمود ہے۔ ن لیگ، پی پی سمیت چھوٹی بڑی جماعتیں خاموش ہیں۔ اس جمود اور خاموشی کے پیچھے فی الحال کورونا لیکن درحقیقت سیاسی جماعتوں کی اپنی کمزوریاں، منصوبہ بندی کی کمی، وژن کا نا ہونا اور کارکنوں کی عدم دلچسپی ہے۔ بلکہ کارکنوں اور قیادت میں اعتماد کا فقدان ہے۔
ایسے میں جمعیت علماء وہ واحد قوت ہے جو اس جمود اور خاموشی کو توڑتی رہی ہے۔ آزادی مارچ ایسی توانا اور بھرپور آواز اپنے بدترین مخالف کے دور حکومت میں بلند کرنا بلکہ ہر طرح سے للکارنا، حکومت کے پس پردہ قوتوں بارے کھلم کھلی گفتگو، ان کو چیلنج کرنا ثابت کرتا ہے کہ جمعیت علماء کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں ہے، منصوبہ بندی کے ساتھ کام ہورہا ہے، وژن واضح ہے، کارکنوں اور قیادت میں باہمی اعتماد کا رشتہ ہے۔
گزرے ہفتہ کے روز جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ آل پارٹیز بھی نیازی حکومت کے خلاف ہونے والی جدوجہد کا تسلسل ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں زیر بحث موضوعات پر قوم کے سامنے دو ٹوک اور واضح موقف پیش کرنا اور قوم کے حقیقی مسائل پیش کرنے کا ایک تسلسل تھا۔
اگر حکومت مخالف جدوجہد کے تناظر میں اس آل پارٹیز کو دیکھا جائے تو سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار اسے بروقت اور اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ حکومت کی سابق اتحادی جماعت بی این پی کے سربراہ اختر مینگل سمیت بلوچستان کی اہم سیاسی جماعتوں کی شرکت سے آل پارٹیز کی اہمیت اور ضرورت عیاں ہے۔ آل پارٹیز میں بلوچستان کی سبھی حقیقی سیاسی جماعتیں شریک تھیں۔ سردار اختر مینگل سمیت سینیٹر جہانزیب جمالدینی، نیشنل پارٹی کے سینیٹر کبیر محمد شہی، سینیٹر کہدہ محمد اکرم دشتی، پختونخوا میپ کے سینیٹر عثمان کاکڑ، عبدالرحیم زیارتوال، جمعیت اہلحدیث کے مولانا عصمت اللہ اور جے یو آئی بلوچستان کی صوبائی عاملہ کے سبھی اراکین شریک تھے۔ اس آل پارٹیز نے ثابت کیا کہ قوم نیازی حکومت کی طرح ن اور پی پی کی اپوزیشن سے بھی مایوس ہیں لیکن جمعیت علماء اپنے تئیں روشنی کے چراغ جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے
آل پارٹیز کا ایجنڈا واضح اور حقیقی مسائل پر مبنی تھا، اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، کورونا صورتحال سمیت صوبائی خودمختاری، لاپتہ افراد اور بلوچستان میں عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کھل کر بحث مباحثہ ہوا۔ بنیادی طور پر حال ہی میں اٹھارہویں ترمیم پر نیازی حکومت کی جانب سے دیے گئے ریمارکس سے چھوٹے صوبوں خصوصاً بلوچستان کے عوام میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے کہ نیازی حکومت کے کسی بھی غلط اور احمقانہ فیصلے کا بنیادی حقوق سے محروم بلوچستان کے عوام کو بہت زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
این ایف سی ایوارڈ میں طے شدہ اصول کے مطابق صوبوں کا حصہ بڑھنا چاہیے تھا لیکن وہ حصہ نہیں بڑھایا جا رہا۔ بلوچستان کے وسائل سے بلوچستان کے عوام پہلے ہی محروم ہیں، ہر فیملی کا کوئی نا کوئی پیارا لاپتہ، دن دیہاڑے گھروں پر فائرنگ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جانا معمول کی کارروائی۔ ان تمام مسائل پر عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا جمعیت علماء نے آل پارٹیز کا انعقاد کر کے کسی حد تک اشک شوئی کی ہے جو یقیناً اس گھٹن اور خاموش ماحول میں ہوا خوشگوار جھونکا ثابت ہوگا۔
سیاسی جماعتوں کے جمود کی ایک اور وجہ قیادت اور کارکنوں میں اعتماد کی کمی ہے۔ اعتماد کی اس کمی کے باعث بھی اچھی خاصی سیاسی جماعتیں میدان میں آنے سے گھبرا رہی ہیں۔ لیکن جمعیت علماء کے کارکن اور قیادت میں باہمی اعتماد کا رشتہ مستحکم ہے اور اس رشتے میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے۔ اعتماد کا رشتہ ہے تبھی قیادت مشکل فیصلے اور مشکل قدم اٹھا رہی ہے۔ دفاعی پوزیشن سے نکل کر اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ آل پارٹیز کانفرنس چونکہ خالص قومی اور بلوچستان کے مسائل پر تھی اس لئے جمعیت علماء کی مرکزی قیادت نے آل پارٹیز کو ایشوز تک ہی محدود رکھا اور بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کے کسی قسم کے اقدام کی بجائے حکمران جماعت کے اراکین کی جانب سے پہل کرنے کے ساتھ مشروط رکھا۔
اجلاس میں ایجنڈے پر تفصیلی غور ہوا اور مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا
اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں حکومتی بیانات تشویش ناک ہیں، آج کا اجلاس اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے حکومتی عزائم پر تشویش کا اظہار کرتی ہے، آل پارٹیز کانفرنس فیصلہ کرتی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم پر اس کی روح کے مطابق مکمل عمل در آمد کیا جائے گا اور اس میں کسی قسم کی ترمیم یا رد و بدل برداشت نہیں کی جائے گی۔
دسویں این ایف سی ایوارڈ میں آئین پاکستان کی دفعہ 160 کی شق نمبر 3 کے ذیلی شق اے کے تحت صوبوں کا حصہ 57.5 حصہ متعین ہے جس میں کسی قسم کی کمی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو وفاق کی جانب سے اگر رد و بدل کی کوشش کی گئی تو اس کی ہر سطح پر جمہوری قوتوں کی طرف سے سخت مزاحمت کی جائے گی۔
اجلاس میں ملک کے وفاق کی جانب سے ملک کی وفاقی پارلیمانی، آئینی، سیاسی نظام، سیاسی پارٹیوں اور ملک کے سیاسی اداروں (پارلیمنٹ) کے اختیارات غصب اور سلب کرنے اور انھیں بے وقعت بنانے کی دانستہ کوششوں اور اس کے برعکس ملک میں ڈمی اور غیر سیاسی عناصر کو آگے لانے کی شدید مذمت کرتے ہیں، تمام پارٹیاں واضح کرتی ہیں کہ ملک کو حقیقی منتخب پارلیمنٹ اور اسمبلیاں بحرانوں سے نکال سکتی ہیں۔
آج کی آل پارٹیز کانفرنس ملک میں بالعموم اور صوبہ بلوچستان میں بالخصوص ایف سی کی ظالمانہ، انتظامی اختیارات ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور تمام ملک اور بالخصوص بلوچستان میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کرتی ہے اور ملک میں جاری غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاریوں کی مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور گرفتار افراد کو فوری طور پر بازیاب اور رہا کیا جائے۔
آل پارٹیز کانفرنس میں ملک میں جاری میگا پروجیکٹس (سی پیک) کے جاری منصوبوں پر تفصیلی غور ہوا۔ اجلاس میں شدت کے ساتھ یہ محسوس کیا گیا کہ سی پیک میں بلوچستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور تاحال سی پیک کے حوالے سے کوئی پروجیکٹ لانچ نہیں کیا گیا آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سی پیک میں شامل صوبے کے تمام اہم منصوبوں پر مکمل عمل در آمد کیا جائے۔
آل پارٹیز کانفرنس صوبہ بلوچستان میں ٹڈی دل کے حملے کے حوالے سے حکومت کی غفلت، کوتاہی اور لاپرواہی کی مذمت کرتی ہے۔ ٹڈی دل اب تمام صوبے پر حاوی ہے اور صوبائی حکومت اس کی روک تھام میں مکمل ناکام ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور ٹڈی دل کے تدارک کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کورونا جو عالمی ہے۔ پاکستان کے تمام علاقے اس کی لپیٹ میں ہے۔ تاہم عام آدمی کے علاج معالجے کی سہولتیں ہسپتالوں میں میسر نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس ناکامی کی ذمہ دار ہیں۔ اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس تربت، کیچ اور ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ کے دل سوز واقعات پر افسوس کا اظہارر کرتی ہے۔ قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتی ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان بھر میں ٹیکس سکواڈ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔ چمن اور تفتان باڈر دوبارہ کھولنے اور فعال بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ مقامی آبادی کو قانون کے مطابق کاروبار کی اجازت دی جائے۔
آل پارٹیز کانفرنس جانچ پڑتال کر کے جعلی ڈومیسائل منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ بلوچستان کے عوام کے حقوق متاثر نہ ہو۔
آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ وفاق کے موثر اکائی ادارے سینٹ کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔
بہرحال سیاسی جمود کے اس ماحول میں جمعیت علماء بلوچستان کی یہ آل پارٹیز قابل تحسین قدم ہے۔ قومی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم قدم ہے۔ اور جب قومی منظر نامے کی بات ہوتی ہے تو نجی ٹائپ اعتراضات کو طاق نسیاں میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس سیاسی جمود اور خاموشی میں اٹھنے والے یہ قدم کسی بہتر نتیجے پر ختم ہوں گے۔
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی قیادت کو اس اہم اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔


