انڈیا کا پاکستان ہائی کمیشن میں عملے کی تعداد پچاس فیصد کم کرنے کا حکم


पाकिस्तान का झंडा

بھارت نے دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں ملازمین کی تعداد کو 50٪ تک کم کرنے کو کہا ہے۔ بھارت اس کے مطابق اسلام آباد میں اپنے ہائی کمیشن میں ملازمین کی تعداد کو بھی کم کرے گا۔

آنڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ، منگل کے روز، انڈیا نے پاکستان ہائی کمیشن کے انچارج کو فون کیا اور پاکستان ہائی کمیشن کے عہدیداروں کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

انڈیا نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن کے عہدیدار جاسوسی اور انتہا پسند تنظیموں سے وابستگی جیسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ 31 مئی 2020 کو دو پاکستانی عہدیداروں کو جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا گیا جس کے بعد انہیں انڈیا چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔

وزارت خارجہ نے ایک اعتراض درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کا یہ سلوک ویانا معاہدے اور سفارت کاروں اور قونصلر عہدیداروں کے طرز عمل سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ معاہدے کے خلاف ہے۔

انڈیا نے اس کے لیے پاکستان ہائی کمیشن کو سات دن کا وقت دیا ہے۔

انڈیا نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے عہدیداروں کو ڈرانے کے لیے مسلسل مہم چلا رہا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ دن پہلے ہی پاکستانی پولیس نے بھارتی ہائی کمیشن کے دو افسران کو حراست میں لیا تھا اور پھر کئی گھنٹوں کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

پاکستان پولیس نے بتایا کہ ان کے پاس سے جعلی نوٹ برآمد ہونے کے بعد انہیں تحویل میں لیا گیا۔

لیکن انڈیا کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے بندوق کی نوک پر ان کے افسروں کو اغوا کیا اور پھر کئی گھنٹوں تک پولیس کی تحویل میں ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا۔


بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp