میڈم گل کھل کھلاتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے جاہل قوم کل میں نے آپ لوگوں کو کووڈ۔ 19 کے بارے میں آگاہ کیا تھا کہ اس کے 19 نقاط ہوتے ہیں اور وہ مختلف ممالک میں جا کر اپنے نقاط آفر کرتا ہے۔ یہ اس ملک پر منحصر ہے کہ وہ کون سا نقطہ پسند کرتا اور قبول کرتا ہے۔ اس ملک میں پھر کورونا کا وہی نقطہ کام کرتا ہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت نے تو بہت اچھا کیا کہ اس کا کوئی بھی نقطہ تسلیم نہیں کیا۔ اس لیے معاہدہ کے مطابق ہمارے ہاں کورونا کا کوئی کام تھا نہ وجود کیونکہ ہم نے اسے ٹھیکہ ہی نہیں دیا تھا۔

اگر کہیں کورونا کو ہونا بھی تھا تو معمولی سا زکام ہونا تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں ہونا تھا۔ لیکن بعد میں حالات تھوڑے بدل گئے۔ پچھلی حکومتوں کی دو سو ارب ڈالر کی کورپشن، ہماری دیانتداری اور پانی کے نلکوں سے گیس کی بو آنے کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ہم سے درخواست کی کہ پاکستان بھی کووڈ۔ 19 کی درخواست قبول کر لے۔ ہم نے سوچا کہ ٹھیک ہے اس طرح آئی ایم ایف کی شرط بھی پوری ہو جائے گی اور مولانا طارق جمیل صاحب کی امامت میں کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ مل کر کی جانے والی دعا کا ٹیسٹ بھی ہو جائے گا۔

پاکستان کو بھی کورونا کے کچھ نقاط تسلیم کرنا پڑے۔ تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ کچھ لوگوں کو زکام ہو رہا ہے۔ پنجاب میں ایسا لگتا ہے کہ خود ڈاکٹر صاحبہ کو زکام ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کو سچ سچ بتا دیا کہ وہ جاہل ہیں، مطلب پی ٹی آئی نہیں عوام۔ لیکن کورونا اصل میں سی ایم صاحب کو تلاش کر رہا ہے۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ پنجاب کا نیا شہباز شریف کون ہے۔

اب میں باقی ماندہ بیماریوں کے متعلق آپ کو پڑھاتی ہوں۔ آپ نے ملیریا کا تو سنا ہو گا۔ یہ ایک مؤنث بیماری ہے ملیر ایریا کراچی سے شروع ہوئی تھی۔ اس لیے اس کو ملیریا کا نام دیا گیا۔ ویسے میں تو شکر کرتی ہوں کہ ملیر سے شروع ہوئی تو اس کا نام آسان ہے ورنہ اگر یہ بیماری سانگھڑ سے شروع ہوئی ہوتی اس کا نام ”سانگھیڑیا“ لکھنا کتنا مشکل ہو جاتا۔ لیکن بہرحال یہ تو اس حکومت کا وژن ہے کہ اس کو ملیر سے شروع کیا اور ایک آسان نام رکھنے کا موقع مل گیا۔

ٹی بی کا بھی آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔ اس کو بھی خان صاحب مؤنث ہی سمجھتے کیونکہ آخر میں بی آتا ہے۔ یہ مجھے خان صاحب اور شیخ صاحب نے بتایا تھا۔ یہ شاید ان دنوں کی بات ہے جب حریم شاہ اور صندل خٹک ہماری وفاقی اور صوبائی کابینہ کو اکٹھے ہی موبائل فون پر گیمز وغیرہ کھیلنا سکھا رہی تھیں۔

ایک اور بیماری ٹائی فائیڈ صرف ان کو لگتی ہے جو ٹائی پہنتے ہیں اس لیے کبھی کسی عورت کو ٹائی فائیڈ نہیں ہوا۔ پولیو ایک مذکر بیماری ہے اس کو ہم نے ختم ہونے سے بچا لیا ہے اس لیے وہ ہمارا بہت مشکور ہے۔ پولیو کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں ہم اگر اس کا نام بدل کر ”ال پولیو“ رکھ لیں تو اور بھی زیادہ اپنا اپنا لگے گا اور یہ جو گورے ویکسین لے کر اس بے چارے کے پیچھے پڑے ہوئے شاید ان سے بھی جان چھوٹ جائے گی اس کی۔

ایک اور بیماری ہے یرقان، یہ کان کی ایک بیماری ہے لیکن کانوں پر کچھ زیادہ اثر نہیں ڈالتی بس تھوڑا سا کچا کر دیتی ہے۔ ہمارے خان صاحب پر اس کا حملہ ہوا تھا۔ اس وجہ سے شیخ صاحب کا کام آسان ہو گیا۔ وہ خان صاحب کو وہیں کنٹینر پر ہی گائیڈ کر دیتے تھے اور کسی سوچ بچار یا تیاری کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اور پھر یہی روٹین چل پڑی اور ہمیں سوچ بچار یا ہوم ورک کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ یرقان کے بھی لوگوں نے اب کئی پوائنٹ بنا دیے ہیں، اے، بی اور سی وغیرہ۔ یرقان یعنی کچے کانوں کی اس بیماری کی اے بی سی کے بارے میں ہم آپ کو پھر کبھی بتاؤں گی۔

الرجی کا بہترین علاج پی ٹی آئی کے پاس ہے۔ آپ نے کبھی کسی ہیروئنچی، پی ایم میرا مطلب ہے پیٹرول مافیا یا مجھے کھانستے نہیں دیکھا ہو گا۔ کیونکہ کھانسی دو لفظوں یعنی ”کھا“ اور ”نسی“ یعنی بھاگ جانے کا مجموعہ ہے۔ وہ پنجابی تھے جو کھا کر نستے تھے ہم ابھی بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں۔

اور پی ایم صاحب کا تو آپ کو پتا ہی ہو گا کہ وہ کتنے کرزمیٹک ہیں۔ وہ سامنے آتے ہیں تو کسی کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ حالانکہ کہ پہلے بندے نے بہت کچھ سوچ رکھا ہوتا ہے کہ آج کون کون بات کہنی ہے۔ اب ہم بیماریوں کی بات ختم کرتے ہیں اور کچھ دوسرے ضروری معاملات سے آپ کو آگاہ کرتی ہوں۔

جسمانی بیماریوں سے باہر نکل کر دیکھیں تو بھی اس ملک میں پچھلی حکومتوں کے کچھ مسائل ہیں جنہیں ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ مثلاً سٹیل مل کا یہ نام اس لیے رکھا گیا تھا کیونکہ وہ سٹیل یعنی چوری کی ہوئی تھی۔ اب اس کے ساتھ سلوک بھی ہم ویسا ہی کریں گے جیسا چوری کے مال کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم سارے مل کر چوری کی مل کا مل پائیں گے۔

اور آخری بات یہ ہے کہ نام میں ہی سب کچھ رکھا ہے۔ میرا نام ایسا اس لیے کیونکہ میں بھی کابینہ کے باقی ارکان کے ساتھ مل کر ہر وقت گل کھلاتی رہتی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 231 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *