زلفی بخاری نے دس لاکھ پاکستانی باہر بھیج دیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، جناب سید ذوالفقار عباس بخاری نے وزیراعظم کو بتایا کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران دس لاکھ پاکستانیوں کو باہر بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعظم ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترغیبات دینے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس سے ہمیں ایک دوسری میٹنگ یاد آ گئی۔ ممتاز مورخ شفیق الرحمان اپنی کتاب ”مزید حماقتیں“ میں ”محمد شاہ کا دربار“ کے نام سے ایک فصل میں لکھتے ہیں :۔

مسز محمد شاہ لال قلعے میں اس دھوم دھڑلے سے رہتی ہیں کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سیاسی دنگے فساد میں ہمیشہ ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ملک کی خارجی اور اندرونی پالیسی (جب کبھی اتفاق سے ہوتی ہے ) وہ خود ترتیب دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ اعلیٰ حکام کی پوسٹنگ وغیرہ بھی وہ خود ہی کرتی ہیں۔ وہ فارسی، سنسکرت اور مدراسی بول سکتی ہیں لیکن دیگر بیگمات کا خیال ہے کہ وہ سمجھ ایک زبان نہیں نہیں سکتیں۔ (ویسے دیگر بیگمات کا ہمیشہ کچھ اور ہی خیال ہوا کرتا ہے ) ۔ صبح شام شہر کی چیدہ چیدہ خواتین حاضر ہو کر آداب بجا لاتی ہیں اور شہر کی دوسری چیدہ چیدہ خواتین کے بارے میں تازہ ترین افواہیں سناتی ہیں۔

عزیزی محمد شاہ بھی لال قلعے ہی میں وہیں کہیں رہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان کا بادشاہ ہے لہذا اپنے تئیں شہنشاہ ہند کہلاتا ہے۔ رنگین خواب دیکھتا ہے، رنگین لباس پہنتا ہے، رجعت پسند ادب اور تنزل پسند شاعری کا گرویدہ ہے لیکن حرکتیں سب ترقی پسند کرتا ہے۔

کل وزیر جنگ نے بتایا کہ ملک کے کچھ اور حصوں نے خود مختاری کا اعلان کر دیا ہے۔ عزیزی محمد شاہ خوش ہو کر کہنے لگا ”اب ملک کا بیشتر حصہ خود مختار ہو چکا ہے۔ جتنے صوبے اور ریاستیں خود مختار ہوں گی، اتنا ہی ہمارا کام کم ہو جائے گا۔ ملک کے ریاستوں میں بٹتے ہی ان کی ریاست ہائے متحدہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں“ ۔

یہ تھا شفیق الرحمان کا رقم کردہ احوال۔ ہم لال قلعے میں ہونے والے سیاسی دنگے فساد، سلطنت کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کی تشکیل، افسران کی پوسٹنگ اور دیگر معاملات وغیرہ پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں جانتے۔ ہماری رائے میں بیگمات سے ڈرنا چاہیے اور ان کے معاملات سے دوری بہتر ہے۔ ہمارا موضوع فی الحال زلفی بخاری کی کامیابی ہے۔

انہوں نے اٹھارہ ماہ میں دس لاکھ پاکستانیوں کو ترک وطن کرنے پر قائل کر لیا ہے۔ بخاری صاحب نہایت جی جان سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ہمیں تعجب نہیں ہو گا اگر حکومت کے پانچ سال پورے ہونے تک وہ پانچ سات کروڑ پاکستانیوں کو اس بات پر کامیابی سے قائل کر لیں کہ ان کے لیے پاکستان چھوڑنا بہتر ہے۔ کپتان کی پوری ٹیم اس ہدف کو پانے میں ان کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم اس کے بعد اوورسیز پاکستان بنانے کی ذمہ داری بھی انہیں ہی تفویض کریں گے۔ ویسے بھی انصاف کی بات ہے کہ اگر امریکہ میں لٹل ٹوکیو اور چائنا ٹاؤن وغیرہ ہو سکتے ہیں تو ادھر نیو پاکستان کیوں قائم نا کیا جائے؟

یہ پاکستانی نا صرف یہ کہ ہمیں زر مبادلہ بھیجیں گے، بلکہ ہمارے ملک کے بہترین سفیر بھی ثابت ہوں گے۔ وہ انگریزوں اور امریکیوں کو قائل کریں گے کہ وہ اپنے بھاری سرمائے سمیت پاکستان کا رخ کریں اور ادھر ملازمت کریں یا چاہے تو کچھ بھی نا کریں سوائے اس کے کہ ملکی سیاست دانوں کے جنسی سکینڈل بناتے رہیں۔ ادھر انہیں بہترین پروٹوکول اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔ مزید ترغیب کے لیے انہیں محترمہ سنتھیا رچی کی تصاویر اور بیانات دکھائے جا سکتے ہیں کہ یہ خالی خولی دعوے نہیں ہیں بلکہ ایک عام سی امریکی ادھیڑ عمر بڑھیا کو اگر ملک کی اعلیٰ ترین شخصیات اور حساس ترین تنصیبات تک رسائی دے دی گئی ہے تو پھر خود سوچ لیں کہ اچھے کھاتے پیتے لوگوں سے کیسا اچھا سلوک کیا جائے گا۔

اگر زلفی بخاری پانچ سات کروڑ پاکستانیوں کو ملک سے باہر بھیجنے میں کامیاب ہو گئے تو ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، زر مبادلہ بھی بیس ارب کی بجائے چار پانچ کھرب ڈالر ملنے لگے گا، اور ہم ان پیسوں سے اعلیٰ درجے کی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کے علاوہ مکار مودی کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی بہتر کر لیں گے۔

لیکن یہ خیال رکھنا چاہیے کہ کپتان کا سب سے بڑا حریف یعنی میاں نواز شریف بھی اپنے خانوادے سمیت آج کل اوور سیز پاکستانی ہے۔ کہیں وہ زلفی بخاری کی ساری محنت پر پانی نا پھیر دے۔ باہر جانے والوں کو بہکانا نا شروع کر دے کہ ”دیکھو میرے زمانے میں تم چین سے اپنے وطن میں کماتے کھاتے تھے، اب کپتان کی حکومت میں غریب الوطن ہوئے پھرتے ہو جہاں کبھی کوئی شرطہ تمہیں پکڑ کر ذلیل کر دیتا ہے تو کبھی کوئی سکن ہیڈ دو لگا دیتا ہے۔ ادھر وطن میں تمہارے گھر میں جھاڑو پوچا لگانے والی ماسی گھر کا کام کرتی تھی، گاڑی چلانے کے لیے پندرہ بیس ہزار پر ڈرائیور رکھا ہوا تھا، دل کرتا تھا تو کام کرتے تھے ورنہ سو روپے میں میڈیکل سرٹیفیکیٹ بنوا کر دفتر بھیج دیتے تھے اور لمبی تان کر سوتے تھے یا سیر سپاٹا کرتے تھے۔ اب کپتان کی حکومت میں تمہارا یہ حال ہوا کہ ہے ہر کوئی پوچھتا ہے ’اس بچے پہ یہ بجوگ کیا ہے، کاہن آخر یہ روگ کیا ہے؟‘ ادھر تم ریستوران میں برتن دھوتے ہو اور اپنے بلکہ دوسروں کے ٹائلٹ بھی صاف کرتے ہو۔“ پہلے ہی نا جانے کس کے بہکاوے میں آ کر جھیل والا ڈاکٹر پاکستان نہیں آیا حالانکہ کپتان کی حکومت آتے ہی اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا۔

اس لیے ہماری رائے میں پہلے نواز شریف کو کسی بھی طرح وطن واپس آنے پر رضامند کیا جائے ورنہ زلفی بخاری اور کپتان کی حکومت کی تمام محنت برباد جائے گی۔

ویسے کیا محمد شاہ رنگیلے کی محنت برباد ہوئی تھی یا ٹھکانے لگی تھی؟ بادشاہ تو وہ ہماری پسند کا ہی تھا۔ رنگین خواب دیکھتا تھا، رنگین لباس پہنتا تھا، رجعت پسند ڈراموں اور تنزل پسند شاعری کا گرویدہ تھا لیکن حرکتیں سب ترقی پسند کرتا تھا۔ سب سے بڑھ کر خود کو شہنشاہ ہند سمجھتا تھا حالانکہ ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں بھی اس سے بالا ہی بالا لال قلعے میں بنتی تھیں اور پوسٹنگ تبادلے بھی وہیں سے کیے جاتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1297 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply