ہر مخالف کو نہ غدار پکارا جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے شعبے کے استاد الاساتذہ اور ماہر پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان استاد، مفکر، دانشور اور سماجی کارکن عمار علی جان اور کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دینے والے معروف کالم نگار، ادیب اور دانشور جناب محمد حنیف کو ان کے اداروں نے بیک جنبش قلم فارغ کر دیا ہے۔ اختلاف رائے کی بنیاد پر تعلیمی اداروں سے نکالے جانے والے اس سانحے کے تناظر میں ہمارے دوست اور نوجوان نسل کے نمائندہ اور چنیدہ شاعر برادرم سید وصی شاہ نے دو مختصر مگر جامع مصرعوں میں اپنا کیلجہ نکال کر کاغذ پر رکھتے ہوئے تمام حساس دل اور با ضمیر لوگوں کے شکستہ اور زخم خوردہ جذبات کو خوب صورت ز بان دی ہے۔ پہلے یہ بولتے، پکارتے، للکارتے اور ماتم کرتے احتجاجی مصرعے ملاحظہ فرمایے۔

حرف تنقید علاج غم بیمار بھی ہے
ہر مخالف کو نہ غدار پکارا جائے

بی بی سی نے جب ان تینوں پروفیسر صاحبان کا موقف لیا تو تینوں کا ایک جیسا جواب تھا کہ انہیں محض رائے کے اختلاف کی وجہ سے ملازمت سے جواب دے دیا گیا۔ برادرم وصی شاہ اور ان جیسے حساس دل، روشن ضمیر اور مرنجاں مرنج قسم کے لوگوں کا دکھ اپنی جگہ مگر فکری طور پر بانجھ اور جہل کی دیمک لگے اس معاشرے کا حصہ ہو تے ہوئے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ تینوں احباب اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ فکری اختلاف کی بنیاد پر صرف ان کی ملازمتیں گئیں جانیں نہیں۔

ورنہ فکری طور پر اپاہچ اور غلام ذہنیت والے مخصوص ہجوم کے لیے کیا مشکل تھا کہ وہ تینوں پر مذہب، ملک و ملت کے حوالے سے کوئی سلگتا ہوا الزام لگا کے موقع پر عدالت لگا دیتے اور درسگاہوں کو ہی قتل گاہوں میں بدل دیتے۔ کوئی مذہبی جنونی خطیب حسین اپنے شدت پسند مذہبی راہنما کے بہکاوے میں آ کر خنجر لہراتا ہوا نکلتا اور اسلام کے نام پر علم و حکمت پھیلانے والے پروفیسر خالد حمید کو ”جہنم رسید“ کر دیتا۔ مذہب و عقیدے کے تحفظ کے نام پر باچا خان یونیورسٹی میں بپھرا ہوا ہجوم اٹھتا اور امن، محبت اور باہمی بھائی چارے کے پرچارک مشال خان کے خوب صورت جسم کو چاک چاک کر دیتا۔

مذہب ہو، عقیدہ ہو، فرقہ ہو، نظریہ ہو یا کوئی مسلک ہو، ان سب کے دفاع کے لیے دلیل، برہان، قلم اور استدلال کی قوت کی ضرورت ہوتی ہے مگر طرفہ تماشا ہے کہ ہمارے ہاں ان چیزوں کا تحفظ بھی تیغ و تفنگ اور گولہ و بارود سے کیا جاتا ہے۔ جہاں د لیل دم توڑ دیتی ہے وہاں سے دنگل اور دنگا فساد شروع ہو جاتا ہے۔

دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس
عجیب لوگ تھے بس اختلاف کر تے تھے

چند روز قبل ایک پرانے طالب علم نے خاکسار سے پوچھا کہ سر مجھے آج تک شدت پسندی اور انتہا پرستی جیسی اصطلاحات کی سمجھ نہ آ سکی۔ اس وقت میں نے اسے طالبان کی مثال دی تھی جو ملک میں جہاد کے نام پر فساد پھیلاتے پھر رہے ہیں اور معاشرے کو بارود کے ڈھیر پر بٹھا رکھا ہے۔ وہ طالب علم یہ سوال آج پوچھتا تو میں فکری انتہا پسندی اور تنگ نظری کی قبیح شکل دکھاتے ہوئے اسے ان تین صاحبان علم و ادب کی مثال دیتا۔

ہمارے معاشرے میں استادوں کی اکثریت مٹی کے مادہوؤں اور لکیر کے فقیروں کی ہے۔ ہزاروں میں کوئی ایک جواں مرد ایسا ہو گا جو اپنے شاگردوں کو سوال کر نا سکھاتا ہے ورنہ ہر جگہ بیزار کن اور فکری بانجھ پن میں گندھی ہوئی روایتی یکسانیت ہی دکھائی دیتی ہے۔ میں ذاتی طور پر ان تینوں حضرات سے کبھی نہیں ملا۔ ان کی تخلیقات، نگارشات اور تحریروں کے توسط سے ان کے نظریات و خیالات سے آگاہی ہوئی۔ یہ تینوں حضرات اپنا نقطۂ نظر مدلل، تحمل اور استدلال سے پیش کر نے میں مشہور ہیں۔

خاص طور پر پرویز ہود بھائی تو فزکس کے حوالے سے ایک باوقار اور قابل اعتبار نام ہے۔ وہ بین الاقوامی حوالے سے بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ایف سی کالج لاہور کے طلبا کی بد قسمتی ہے کہ انہیں اتنے بڑے استاد، دانشور اور مدبر سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہم نوبل پرائز جیتنے والے ڈاکٹر عبد السلام کو عقیدے کی بھینٹ چڑھا کے ملک بدر کر چکے ہیں۔ اب ہود بھائی جیسے لوگوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

ایسا کرنے سے ہمارا اسلام تو پتہ نہیں کتنی جلا پائے گا لیکن ہمارے مذہبی پیشواؤں نے ابھی سے سائنس کے مستند نظریات کو ببانگ دہل مسترد کرتے ہوئے زمین کو ساکن اور چاند، سورج کی پیہم گردش کے نئے نکور نظریات پیش کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ہم نئے پاکستان کے نقشہ نویسوں، ٹھیکیداروں، معماروں، راج مستریوں اور مزدوروں سے دست بدستہ عرض پرداز ہیں کہ وطن عزیز کی فضا پہلے ہی کورونا، مہنگائی، بیروزگاری، معاشی بدحالی اور انتہا پسندانہ رجحانات اور رویوں کی وجہ سے مسموم، مطرود اور مردود ہوئی ہے خدا را! اسے مزید گمبھیر، گھٹن زدہ اور شدت پسند نہ بنایے۔ فکری اختلاف کو عداوت اور رائے کے اختلاف کو مخالفت نہ بنایے۔ بقول ثنا اللہ ظہیر

میں دے رہا ہوں تجھے خود سے اختلاف کا حق
یہ اختلاف کا حق ہے مخالفت کا نہیں۔ ۔ ۔

ابھی دو دن قبل ہی قلم قبیلے کے سب سے معتبر اور موضوع و اسلوب کی گل کاریاں دکھانے والے جید اور مستند کالم نگار نے جناب انتظار حسین کے ایک کردار کے ایک معنی خیز جملے کے منظر نامے میں جہالت کی نادر اور خوب صورت تعریف وضع کرتے ہوئے لکھا تھا کہ

”بے شک جہالت اس بحران کو کہتے ہیں جب علم ظلم کی مزاحمت سے انکار کردے“
سو من حیث القوم شاید ہم واقعی جہالت کے بحران کی دلدل میں بری طرح دھنستے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply