موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہاں فکر حسین (ع) کا ذکر ہو گا، عشق خانوادہ ء پیمبر رحمت (ص) کی بات ہو گی، مرحلہ ء شام غریباں میں چراغ بجھنے سے قبل ہچکیوں کی لو بڑھے گی، تو ایسے میں طالب جوہری کا ذکر بھی ہو گا۔ ۔ ۔

علامہ طالب جوہری 1939 کو انڈیا میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مصطفی جوہری کے زیر نگرانی حاصل کی، 1949 میں اپنے والد کے ہمراہ پاکستان آئے، 10 سال نجف میں اعلی دینی تعلیم حاصل کی، علامہ طالب جوہری کو نجف اشرف کے ممتاز عالم، آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی، آیت اللہ سید علی رفانی، آیت اللہ سید محمد بغدادی، آیت اللہ باقر الصدر نے فارغ التحصیل ہونے کی سند دی! علامہ 1965 کو کراچی واپس آئے۔ ، پانچ سال جامعہ امامیہ کے پرنسپل رہے، اس کے بعد گورنمنٹ کالج ناظم آباد کراچی میں اسلامیات کے مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا،

علامہ طالب اعلی خطیب، فلسفی، تاریخ دان اور شاعر تھے۔ انہوں شاعری کا آغاز 8 برس کی عمر میں کیا، اب تک علامہ خاصی تعداد میں غزلیں، قصیدے، سلام، نظمیں اور رباعیات کہہ چکے تھے،

1968 میں علامہ نے وجود باری کے عنوان سے پہلا مرثیہ کہا
علامہ طالب جوہری کے مرثیے سے مصائب کا ایک بند

کرتے تھے شاہ بیٹے کی میت سے یہ کلام
ناگاہ چار سمت سے امڈی سپاہ شام
چلنے لگے خدنگ و تبر، نیزہ و حسام
پشت فرس سے پشت زمین پر گرے امام
ساہی کی مثل تن تھا سراسر حسین (ع) کا
تیروں پہ دیر تک رہا پیکر حسین (ع) کا

ان کی کتابیات میں
تفسیر القرآن :
احسن الحدیث (قرآنی تفسیر)
مقاتل :
حدیث کربلا
مذہب:
ذکر معصوم
نظام حیات انسانی
خلفائے اثناء عشر
علامات ظہور مہدی
فلسفہ:
عقلیات معاصر ( 2005 )

شاعری:
حرف۔ نمو ( اردو شاعری )
پس آفاق (اردو شاعری)
شاخ صدا (اردو شاعری)

ان کے کلام سے انتخاب
گاؤں کے چھوٹے سے گھر میں کچھ لمحے مہتاب رہا
لیکن اس کی یاد کا پودا برسوں تک شاداب رہا
اپنی ساری گم شدہ بھیڑیں جمع تو کیں چرواہے نے
ان بھیڑوں کے پیچھے پیچھے پورے دن بے تاب رہا
فصل خزاں کی شاخ سے لپٹا بیلے کا اک تنہا پھول
کچھ کلیوں کی یاد سمیٹے راتوں کو بے خواب رہا
بچھڑے تھے تو ساکت پلکیں سوکھے پیڑ کی شاخیں تھیں
اس سے بچھڑ کر دور چلے تو کوسوں تک سیلاب رہا
جسم نے اپنی عمر گزاری سندھ کے ریگستانوں میں
دل کم بخت بڑا ضدی تھا، آخر تک پنجاب رہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دیار ہجر میں تجدید عاشقی کے لیے
ہم ایسے لوگ ضروری ہیں ہر صدی کے لیے
بہ نام زہرہ جبیناں جگر کو خون کر
لہو جلایا مزاروں کی روشنی کے لیے

انہوں نے ہمیشہ اپنے سننے والوں کو قرآن کی فقط تلاوت کرنے کی بجائے سمجھ کر تلاوت کرنے کا درس دیا۔ اپنی تقریر کے ذریعے اس بات سے روشناس کروایا کہ حوالہ دینا کتنا اہمیت رکھتا ہے۔ ادب و آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ اختلاف کرنا کوئی ان سے سیکھے اور پھر اس اختلاف کو بیان کیسے کیا جاتا ہے یہ ہنر بھی وہ خوب جانتے تھے۔

”بھئی عجیب مرحلہ فکر ہے جہاں میں آج اپنے سننے والوں کو لے آیا ہوں“ ان جملوں کے ادا ہونے بعد سامعین عجیب کیفیت میں مبتلا ہو جاتے جیسے علامہ صاحب کے الفاظ ان کے دل میں نقش ہو رہے ہوں۔ وہ اپنی بات کو دھیمے انداز میں ایسے شروع کرتے کے سامنے بیٹھے لوگ اس سحر میں گرفتار ہو جاتے قرآن سے بات کا آغاز ہوتا اور پھر گفتگو تمام علوم کا احاطہ کرتے ہوئے مصائب محمد و آل محمد ﷺ پر ان الفاظ سے تمام ہوتی۔

”تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہو گئی۔ اور اب تو دامن وقت میں گنجائش بھی نہیں۔“

لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم ہر بڑی شخصیت کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کے قصیدے بیان کیے جا سکے جبکہ ان زندگی میں ہم نہ ہی ان کی قدر کی اور نہ ہی ان کو وہ عزت و مرتبہ دیا جس کے وہ اہل تھے۔

بالخصوص علمی شخصیات کے ساتھ یہ سلوک ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی روشنی کو پھیلایا۔ کیوں کہ ہم علمی مزاج سے عاری قوم بن چکے ہیں جس کی بنا پر علمی شخصیات ہماری ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہی۔

طالب جوہری ایک شخص نہیں بلکہ ایک منفرد فکر پر مبنی دنیا کا نام تھا جس دنیا میں نفرت کی کوئی جگہ نہ تھی جہاں علم کے چراغ ہر طرف روشن تھے جن کی روشنی محدود نہیں تھی۔ اس دنیا کی خوشبو ہر باذوق انسان محسوس کر کے خود کو معطر کر سکتا تھا۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کے رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply