فی جوڑا ایک بچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے چین میں قیام کے دوران فی جوڑا ایک بچہ کی پالیسی پر زور و شور سے عملدرآمد ہو رہا تھا۔ پاکستان میں ہم بچپن سے خاندانی منصوبہ بندی کے محکمے کے اشتہارات دیکھتے اور سنتے چلے آ رہے تھے جن پر لوگوں کی اکثریت نے عمل کر کے نہ دیا۔ یہاں تک کہ محکمہ سے تنخواہ وصول کرنے والوں نے خود پانچ سات بچے پیدا کیے لیکن ریڈیو اور ٹی وی پر ’بچے دو ہی اچھے‘ کا راگ الاپا جاتا رہا۔ مگر چین کا معاملہ مختلف تھا۔ ایک تو اس کی آبادی ایک ارب ہو چکی تھی، دوسرے حکومت کے پاس اتنے اختیارات تھے کہ وہ اپنی ہر پالیسی پر عمل کرا سکتی تھی۔

آخر شہریوں کو ساری مراعات اور سہولتیں بھی تو حکومت ہی فراہم کرتی تھی۔ اول تو بڑے شہروں کے تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ لوگ ویسے ہی حکومت کی پالیسیوں پر خوشدلی سے عمل کرتے تھے۔ شاذونادر ہی کوئی انحراف کرتا تھا۔ ایسا کرنے والے کو بہت سی مراعات اور الاؤنسز سے ہاتھ دھونا پڑتے تھے، جرمانہ بھی دینا پڑتا تھا اور میٹنگز میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔

بہرحال ہمیں تو بیجنگ میں ہر جوڑے کا ایک صحت مند بلکہ موٹا بچہ ہی نظر آیا۔ جلد ہی بچوں کا موٹاپا والدین کے علاوہ طبی اور سماجی ماہرین کے لئے بحث کا موضوع بن گیا۔ اخبارات میں اس کے بارے میں مضامین چھپنے لگے۔ ان بچوں کو ”ننھے شہنشاہ“ LITTLE EMPERORS کا نام دیا گیا۔ ظاہر ہے جب والدین کو پتا ہو کہ ایک بچے کے بعد اب ان کے گھر میں کوئی اور بچہ نہیں آئے گا تو وہ اپنا سارا لاڈ پیار اسی ایک بچے پر نچھاور کریں گے اور اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔

اپنی کتاب ”میں خوش نہیں ہوں۔ 1980 کے عشرے کے اکلوتے بچے کا اعلامیہ“ کی مصنفہ لیو یی نے لکھا ہے ”ہم بد قسمت ہیں کیونکہ ہم اکلوتے ہیں۔ قسمت نے دیگر نسلوں کے مقابلے میں ہمارے لئے کم خوشیاں لکھیں۔ ہمیں بڑوں کی توجہ تو بہت ملی لیکن ہم بچوں کی معصومیت کے ساتھ پلنے بڑھنے سے محروم رہے۔“ 2005 میں ہونے والے ایک سروے میں پندرہ سے پچیس سال کی عمر کے جواب دہندگان نے کہا کہ وہ تنہائی کا شکار تھے اور خودغرض تھے جب کہ بہت سوں کا کہنا تھا کہ گھر میں ان کی حیثیت سورج کی سی تھی جس کے گرد پورا خاندان گھومتا تھا۔

”لیکن ایسے بچے بھی تھے جو اپنے اکلوتے پن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والدین ان کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ انہیں خاندان کی توجہ کا مرکز بنے رہنا اچھا لگتا تھا۔ دوسری طرف کچھ چینی تحقیقی مطالعوں سے معلوم ہوا کہ یہ اکلوتے بچے ذہانت کے ٹیسٹ میں زیادہ اچھے اسکور لاتے ہیں اور دوسروں کو دوست بنانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

چین کی بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے سماجی، اقتصادی اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے لئے 1979۔ 80 میں حکومت نے ”فی جوڑا۔ ایک بچہ“ کی پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ اس سے پہلے بھی چین میں برتھ کنٹرول اور فیملی پلاننگ پر عمل ہوتا تھا، اس کے باوجود ستر کے عشرے کے اواخر تک چین کی آبادی ایک ارب تک پہنچنے والی تھی۔ اور چینی حکومت مجبور ہو گئی تھی کہ آبادی کو بڑھنے سے روکنے پر سنجیدگی سے توجہ دے۔ حکومت کی ابتدائی کوششوں کے ملے جلے نتائج نکلے چنانچہ 1980 میں ’ایک بچے‘ کی پالیسی کو ملک بھر میں نافذ کر دیا گیا۔

لیکن کچھ مستثنیات بھی تھیں جیسے نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کسی جوڑے کا اگر پہلا بچہ معذور پیدا ہو تو انہیں دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت تھی۔ اسی طرح کسان جوڑا اولاد نرینہ نہ ہونے کی صورت میں دوسرا بچہ پیدا کر سکتا تھا۔ سنا یہی تھا کہ دیہاتوں میں اکثر کسان بھائی اس پالیسی سے انحراف کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ہمیں اپنے کام کے لئے ”زیادہ ہاتھ“ چاہئیں۔ سنا یہی تھا کہ وہ جرمانہ دے دیتے تھے اور زیادہ بچے پیدا کرتے تھے۔

جب کہ شہری علاقوں کے لوگ پوری طرح اس پالیسی پر عمل کرتے تھے۔ البتہ ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ احفاظ کی ایک دفتر کی ساتھی کا ایک بیٹا تھا، کچھ عرصہ بعد دونوں میاں بیوی کو بیٹی کی خواہش ستانے لگی۔ کچھ عرصہ تو وہ اپنی خواہش کو دباتے رہے مگر پھر بیٹی کی خواہش نے انہیں سرکاری ضابطے توڑنے پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں انہیں کچھ مراعات اور الاؤنسز سے ہاتھ دھونا پڑے، انہیں جو ترقی ملنے والی تھی وہ نہیں ملی اور سرکاری میٹنگز میں تنقید الگ ہوئی ہو گی۔

اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ چینی آبادی کا صنفی تناسب بگڑ گیا۔ لڑکوں کی تعداد زیادہ ہو گئی اور لڑکیاں کم ہو گئیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کے ایک حصے کے طور پر اسقاط حمل کی اجازت تھی اور سنا یہی تھا کہ الٹرا ساؤنڈ میں بچے کی جنس کا پتا چل جانے کے بعد اکثر والدین لڑکی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کو ترجیح دیتے تھے۔ اوپر جن صاحبہ کا ذکر ہوا ان کا شمار مستثنیات میں ہوتا تھا۔ 2015 میں اس پالیسی کو ختم کر دیا گیا اور دو بچوں کی پالیسی اپنائی گئی۔ لیکن پرانی پالیسی کے نتیجے میں آج بھی چین میں عورتوں کے مقابلے میں 3۔ 4 % مرد زیادہ ہیں۔

ہمارے زمانے میں بھی اس وجہ سے شادی کے معاملے میں لڑکیوں کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ لڑکے زیادہ تھے، لڑکیاں کم تھیں، اس لئے لڑکے اپنی من پسند دلہن حاصل کرنے کے لئے اس کے نخرے اٹھانے اور مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔

معاملہ یہاں ختم نہیں ہو گا بلکہ شرح پیدائش میں کمی اور طبی سہولتوں کی بدولت اوسط عمر میں اضافے کی وجہ سے 2050 تک ساٹھ سال سے زیادہ عمر والے چینیوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو چکا ہو گا جب کہ ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کی تعداد کم ہو گی۔ لیبر فورس کم ہونے کی وجہ سے ریاست کے لئے بھی بوڑھے افراد کو سہولتیں فراہم کرنا مشکل ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *