وعدہ حور پر بہلائے ہوئے پاکستانی
احباب کو یاد ہوگا ڈیڑھ سال پہلے میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی ”مجھے ہے حکم اذاں“ ۔
مربی اعجاز حسن صاحب کا اصرار تھا کہ خان کو ایک سال کا وقت تو دیں، پھر کچھ نہ کریں تو بھلے تنقید کرنا، علی اظہر صاحب بھی ایسی نصیحت فرماتے تھے، انکل غفور کا حکم تھا کہ چھ ماہ تک مثبت رپورٹ کریں، حالات بہت بدل جائیں گا، ترقی کا انقلاب آئے گا۔
ان سب کے مشوروں اور حکم پر میں نے بھی مثبت رپورٹنگ کا اراداہ کیا لیکن کبھی کوئی اچھی خبر ملی ہی نہیں کہ لکھتا، اس لیے بڑی کوشش سے تنقید سے اجتناب کرتا رہا۔
ہاں خان صاحب کے صحت کارڈ کی تعریف میں آسمان زمین کے قلابے ضرور ملائے تھے۔ (لیکن صحت کارڈ بھی خان کے باقی وعدوں کی طرح اعلان ہی رہا) ۔
کافی بار یہ عہد توڑتے توڑتے رہ گیا، سانحہ ساہیوال نے جھنجھوڑ کے رکھ دیا، پے در پے ریلوے کے حادثات نے بھی مایوس کیا، ڈالر کی بے قابو اڑان نے تو ہلا کر رکھ دیا، دوائیوں کی قیمت میں دو سو سے چار سو فیصد اضافہ، شگر کی قیمتوں میں یکا یک کلو پر تیس روپے کا اضافہ، پیٹرولیم گیس بحران، مطلب ہر طرف مایوسی ہی مایوسی تھی لیکن چونکہ ہم مسلے ملازم کی طرح سرسبز مستقبل کے لال نوٹ پر بہلائے گئے تھے اس لیے خاموش رہے۔
مسلے ملازم (مسلمان، آج بھی عمرکوٹ کے کٹر ہندو لوگ مسلمان کو مسلا کہتے ہیں ) کا واقعہ اس طرح ہے کہ:
بٹوارے سے پہلے ہمارے سندھ میں ایک ہندو دیوان کے پاس مسلمان ملازم تھا۔ ملازم اتنا حساس اور نرم دل تھا کہ دیوان کی برادری کی جس بھی لڑکی کی شادی ہوتی رخصتی کے وقت اس کے والدین کو روتا دیکھ کر یہ بھی رونا شروع کر دیتا تھا، نتیجتاً لڑکی کے سسرالیوں کو شک ہوتا کہ یہ مسلا رو رہا ہے کوئی تو گڑبڑ ہے اور پہلے دن سے لڑکی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے تھے۔
ایک دن اس نوجوان کے مالک کی بیٹی کی شادی بھی طے ہوئی، مالک چونکہ ملازم کی طبیعت سے واقف تھا، اس نے ملازم کو ایک سو کا نوٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لو اور مہربانی کر کے رخصتی کے وقت رونا نہیں۔
ملازم نے ایک آنی نہ دیکھی سو سو کا نوٹ رکھ کر خوشی سے ناچنے لگا۔ شادی کا دن آیا، سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا رہا مالک وقتاً فوقتاً ملازم کو آنکھ مار کر خبردار کرتا رہا، شام کو رخصتی کا وقت ہوا، اب نوجوان کی حالت بھی بدلنے لگی، کافی ضبط سے کام لیا، کبھی لڑکی کی ماں کو روتے دیکھتا تو کبھی اس کی بہنوں کو، بڑی ماں کی دعاؤں نے تو اسے کافی پریشان کیا لیکن پھر بھی کنٹرول کیے رکھا، جیسے ہی دلہن ڈولی کی طرف بڑھنے لگے گھر والوں کی آہیں سسکیاں بھی بڑھتی گئیں، گلی میں کہرام مچا تھا۔ اب اس نوجوان کا ضبط بھی جواب دے گیا، دوڑ کر مالک کے پاؤں پکڑ کے کہا مالک اب بہت ہو گیا یہ لیں اپنے سو روپے اپنے پاس رکھیں مجھے سے اب رہا نہیں جاتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھ جیسے ہزاروں پاکستانیوں کو، حسین سپنوں اور ترقی یافتہ پاکستان، دو سو ارب ڈالرز کی واپسی، کرپشن کے خاتمے، مجرموں کو ہاتھوں سے پھانسی دینے جیسے اعلانات، تعلیمی و صنعتی انقلاب، ماہرین معیشت کی ٹیم، صرف سو دن کے اندر ملک کا نقشہ ہی بدلنے کے وعدے، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھروں کے ”لال“ نوٹوں پر بہلایا گیا تھا، لیکن اب ہم تنگ آچکے ہیں، ضبط جواب دے چکا ہے۔ انکل غفور سمیت دوستوں کے ہاتھ جوڑ کر عرض کرتے ہیں حضور والا یہ لیں سنہری سپنوں کو اپنے پاس رکھیں ہم سے اب مزید ضبط نہیں ہوتا، ہمیں وہ پرانا والا پاکستان لوٹا دو، وہ کشتی وہ پانی۔ ۔ ۔
وہ موٹرویز کا جال، ایشین ٹائیگر، وہ پچاس کی چینی، سو کا ڈالر، ساٹھ کا پیٹرول پچاس ہزار پوائنٹس والا سٹاک ایکسچینج۔
(جو دوست ابھی تک ان وعدوں پر بہلائے ہوئے ہیں، 92 کے ورلڈ کپ اور سمارٹ کے سحر کا شکار ہیں وہ طنز کے بجائے دلائل سے نئے پاکستان کی خوبیاں بیان کریں )


