دو مکالمے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیو جانس کلبی 400 قبل مسیح کا ایک بہت بڑا فلسفی تھا۔ سکندر اعظم نے اپنے استاد ارسطو سے اس فلسفی کا بہت نام سنا تھا۔ اس کے اور سکندر کے درمیان دو بار ایسے مکالمات ہوئے جو نا صرف تاریخ کا حصہ بن گئے بلکہ سکندر کی زندگی اور سوچ کا رخ بدل گئے۔ سکندر اکثر اپنے مصاحبین کے ساتھ اس فلسفی کا ذکر کیا کرتا۔ یہ اور بات کہ وہ فتوحات میں اس قدر آگے نکل گیا تھا کہ اس کے لئے اس موڑ سے واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔ مگر استاد سے اس کی ملاقاتوں نے اس کے دل اور دماغ پر گہرے نقوش چھوڑے تھے۔

پہلا مکالمہ:

ایک دن سکندراعظم اس کی شہرت سن کر اس سے ملنے کے لئے پہنچا تو وہ سردی کے موسم میں بڑے سکون اور آرام سے ایک بیابان میں بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا۔

دیوجانس اس کی آمد پر نا حیران ہوا نا پریشان بلکہ بلکہ اسی طرح بے تاثر لیٹا رہا، سکندر نے کچھ دیر انتظار کیا مگر استاد کو بے جنبش پا کر قریب پہنچا اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے بڑے ادب سے اس کے سامنے کھڑا ہو کر بولا، ”میں سکندر ہوں، یونان کا فاتح اور ماسیڈونیا کا بادشاہ۔ اپنے استاد ارسطو سے آپ کی بہت تعریف سنی ہے، میں آپ کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، بتائیے میں آپ کے لئے کیا کروں؟“

اس پر دیو جانس نے وہ تاریخی جملہ کہا جو فلسفے کی کتابوں میں امر ہو گیا اور بعد ازاں ایک ضرب المثل بن گیا۔ اس نے کہا، ”میرے لئے کچھ کرنا چاہتے ہو تو ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو جاؤ۔ میں دھوپ سینک رہا ہوں اور تم اس کے راستے میں کھڑے ہو“

سکندر اس کی بے نیازی سے بے حد متاثر ہوا۔ اس ملاقات کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے کہا ”اگر میں سکندر نہ ہوتا تو دیوجانس ہوتا۔“

دوسرا مکالمہ:

جب سکندر کی فتوحات اپنے عروج پر تھیں تو اس نے پھر اس سے ملنے کی خواہش کی۔ اس بار دیو جانس کلبی نے قاصد کو جواب دیا کہ وہ بادشاہ کو کھانے پر بلانا چاہتا ہے۔ اس نے سکندر اعظم کو کھانے پر تو بلایا مگر سکندر اور اس کے مصاحبوں کے لئے الگ الگ خیموں میں کھانے کا بندوبست کیا۔ مصاحبوں کے لئے عام کھانا جب کہ سکندر کے لئے جواہرات سے بھرے تھال رکھے اور کپڑے سے ڈھانپ دیے۔ سکندر کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہو گیا تو بولا، ”استاد محترم ہمارا کھانا کب آئے گا؟“ ۔ کلبی بولا، ”یہی تو ہے کھانا“ ۔ سکندر نے کہا بھلا کوئی زر و جواہر کیسے کھا سکتا ہے؟

یہ جواب سننے کے بعد دیو جانس نے پھر ایک تاریخی جملہ بولا، ”اے بادشاہ کھانی تو انسان نے دو روٹیاں ہی ہوتی ہیں تو پھر آپ نے دنیا بھر میں اتنا اودھم کیوں مچا رکھا ہے، میں تو سمجھا تھا کہ شاید عام کھانا تو عام انسانوں کے لئے ہوتا ہے اور آپ جیسے بڑے بادشاہ ہیرے جواہرات کھاتے ہوں گے۔“

ان الفاظ نے سکندر اعظم کی آنکھیں کھول دیں اور اس کے دل پر بہت اثر ہوا۔ استاد کی یہ بات وہ مرتے دم تک نا بھولا اور آخری وقت کہ گیا ”جب میں مر جاؤں تو میرے دونوں ہاتھوں کو میرے کفن سے باہر رکھنا تاکہ لوگ جان سکیں کہ جب میرے جیسا بادشاہ بھی دنیا سے گیا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *