بے بس عوام اور آہنی ہاتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوں جوں حالات آگے بڑھ رہے ہیں لوگوں کی ذہنی کیفیت پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے ابھی تک عالمی صحت کے ادارے اور دیگر کو کچھ پتا نہیں چل رہا کہ صورت حال کیا رخ اختیار کرے گی آئے روز کوئی نہ کوئی نئی علامت کا انکشاف ہو رہا ہے۔

اس وائر س نے دنیا کا رہن سہن بدل کر رکھ دیا ہے خوشیاں چھین لی ہیں ہر ایک امنگ اور ترنگ کو سلب کر لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ کوئی بھی کام جوش و جذبے کے ساتھ نہیں مجبوری کے تحت کر رہے ہوں۔

سکون نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہر کوئی سہما سہما ڈرا، ڈرا سا پھر رہا ہے کہ نجانے کیا ہو جائے گا۔ اس قدر خوف اور اس طرح کا خوف میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا ہے۔ ملنا جلنا قریباً ختم اب تو بعض لوگ ٹیلی فونک رابطے سے بھی گھبرانے لگے ہیں کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔ مگر حکومت ہے کہ لکیر کی فقیر بنی ہوئی ہے۔ اس کے ماتحت تحقیقی ادارے شاید ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں وہ کوئی خوشخبری لانے میں اب تک ناکام رہے ہیں کوئی دوا دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی اور اگر کی جا رہی ہے تو اس کا عام آدمی کو علم نہیں جو بھی کوئی حوصلہ افزا خبر آتی ہے کسی دوسرے ملک سے ہی آتی ہے۔

بہرحال ایک غیر یقینی و افراتفری کی صورت حال ہے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لہٰذا نفسیاتی عوارض تیزی سے بڑے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ کب ختم ہو گا کچھ معلوم نہیں اگر مئی کے آخر پر حالات کی بہتری کا بتایا جاتا ہے تو پھر جون کا کہہ دیا جاتا ہے اب جب جون گزرنے کو ہے تو اگست بلکہ باہر کی تحقیق کے مطابق جنوری دو ہزار اکیس کو یہ وائرس ختم ہو گا۔ معاملہ اتنا سادہ نہیں یہ خوف کی لہریں ہیں جو وقفے وقفے سے ابھاری جا رہی ہیں تاکہ اس دوران مبینہ طور سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ایسا ہو چکا ہے۔

خیریہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایک وائرس موجود ہے جو زندگیوں کو نگل رہا ہے مگر اس کی زد میں آنے والا پر انسان جان کی بازی نہیں ہار رہا ہاں البتہ اسے کچھ ماہ یا دنوں کے لیے اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے لہٰذا عرض ہے کہ جو خوف پھیلا ہوا ہے اس کو بھگانے کی کوشش کیجیے دل برداشتہ اور مایوس ہونے کی بالکل ضرورت نہیں!

یہ ہمارا میڈیا ہے جس نے خوف کی گردان الاپنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ہر برس جو ٹی بی، گردوں، ہیپاٹائٹس اور دل کے امراض میں مبتلا مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ان کے بارے میں اس طرح کیوں نہیں بتایا جاتا اور ان کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہوتی ہے؟

بہرحال حکومت کے لیے صورت حال بڑی مشکل ہے۔ وہ کھل کر اپنی مرضی نہیں کر سکتی یعنی وہ نہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے خود مختار ہے نہ ہی عوام کو روزگار یا عارضی امداد دینے میں آزاد ہے اور جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ جو رقوم باہر کے ملکوں سے آتی ہیں آ رہی ہیں وہ کدھر جا رہی ہیں تو اس کا جواب نہیں دیاجاتا اپنے مدد آپ کے تحت لوگوں کا نظام زندگی چل رہا ہے کچھ مخیر حضرات روٹی پانی کا بندوبست کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے کچھ مجموعی اضطراب میں کمی واقع ہوئی ہے وگرنہ تو لوگ بھوکوں مر گئے ہوتے۔

ادھر اس کی انتظامی کمزوری نے طاقتوروں اور سینہ زوروں کو شہ دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کریں ان سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی لہٰذا وہ اشیائے ضروریہ سے لے کر اشیائے غیر ضروریہ تک کو اپنے حساب سے فروخت کر رہے ہیں اور پریشان حال، بے بس اور لاچار عوام ان کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ یہ ہوتی ہے حکومت اور اس کے انتظامی ادارے جو عوام کو خوف زدہ کرنے کے ساتھ ان کی خون پسینے کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو پوچھیں بھی نہیں لہٰذا ضرورت ہے ایک آہنی ہاتھ کی مگر وہ آہنی ہاتھ حرکت میں کب آئے گا معلوم نہیں لہٰذا بے چینی کی اخیر ہو چکی ہے اور یہ بے چینی حکومتی حلقوں میں بھی اب پائی جا رہی ہے اس کے کچھ وزراء مضطرب نظرآتے ہیں جو واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ حکومت ڈلیور نہیں کر پا رہی دبے الفاظ میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ عوام کو کچھ دینے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے یوں بعض حکومتی لوگ اڑانیں بھرنے کو تیار ہو چکے ہیں کیا ہوتے والا ہے۔ در پیش صورت حال سے اندازہ لگانا مشکل نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سیاسی منظر نامہ بدل بھی جاتا ہے تو کیا کوئی سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کی صورت نکل سکتی ہے؟

اس کا جواب دانشور حضرات ہی دے سکتے ہیں مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب ریت مٹھی سے پھسل رہے ہے بلکہ یہ کہتا بھی غلط نہ ہو گا کہ پھسل چکی ہے لہٰذا اب پیوند کاری کا دور بیت گیا ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جو موجودہ نظام حیات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دے کیونکہ اس وقت ملک کے اندر بھی ایک ہیجان برپا ہے تو ملک کے باہر سرحدوں پر بھی اضطراب موجود ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ طاقتور افراد جنہوں نے عوام کی زندگیاں اجیرن کی ہوئی ہیں انہیں سختی سے روکا جائے۔

رہی بات وائرس کی تو اس حوالے سے اچھی خبریں تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں اب لوگ ذمہ داری کا ثبوت بھی دے رہے ہیں پہلے والی صورت حال نہیں رہی کچھ دواؤں نے اس وائرس کی خوفناکی پر قابو پا لیا ہے آنے والے دنوں میں مزید بیش رفت ہونے والی ہے کیونکہ تحقیق کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے لہٰذا ضرورت ہے تو اس امر کی کہ حکومت اور اس کے زیر اثر ادارے عوام کی بات سنیں انہیں مایوسی کے جنگل سے باہر لائیں اگر وہ اس میں مکمل طور سے ناکام رہتی ہے تو پھر سیاسی منظر کو بدلنے دیر نہیں لگے گی کیونکہ موجودہ صورت حال میں جس قدر مافیاز نے غریب عوام کو لوٹا ہے وہ ناقابل بیان ہے ایسے لوگ کسی رورعایت کے قابل نہیں انہیں قانون کی گرفت میں لانا ہو گا جو شاید اس حکومت کے بس میں نہیں کیونکہ وہ خود ہانپ رہی ہے ا اور دھیرے دھیرے بکھربھی رہی ہے اس سے توقع رکھنا فضول ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply