گدھا کہا نی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گدھا ایک حلیم الطبع اور منکسر المزاج جانور ہے۔ یہ ان جانوروں میں شامل ہے جو شروع سے انسانوں کا ہمدم ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو اس کی قدر نہیں۔ گرچہ مختلف ادوار اور مختلف علاقوں کے گدھوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تاہم مختلف علاقوں اور مختلف ادوار میں اس کے وجود کو الگ الگ مفاہیم پہنائے گئے۔ تاہم ہمارے ہاں گدھا اس حد تک گدھا ہوتا ہے کہ اس کی نا اپنی کوئی سوچ ہوتی ہے اور نا ہی اپنی رائے، کوئی بھی اس کے کان میں جو بات ڈال دے۔

۔ ۔ میرا مطلب ہے کوئی بھی اسے کان سے پکڑ کر اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہے لے جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں تو شہروں بلکہ ’شہر‘ میں بھی اس کی افادیت بارے غوغا اٹھا لیکن بنیادی طور پر یہ پینڈو جانور ہی ہے۔ گدھے کی باربرداری کی صلاحیتوں سے تو ہر کوئی واقف ہو گا لیکن یہ بات کم ہی لوگوں کے علم میں ہوگی کہ گدھا لگے بندھے راستوں کا مسافر ہوتا ہے۔ ٹھہریے اس کو تھوڑا سہل کر دیتے ہیں۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ مالک ایک مخصوص راستے پر چند روز گدھے کو چلاتے ہیں اور گدھا وہ راستہ حفظ کر لیتا ہے۔

بعد ازاں چاہے زمین ادھر کی ادھر ہو جائے گدھا اسی راستے پر ہی چلتا ہوا منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔ یوں اس کے گم ہونے کے امکانات قریب قریب معدوم ہو جاتے ہیں اور گر ایسا ہو جائے تو پھر یقیناً اس میں رقیبوں کی کارستانی کارفرما ہوتی ہے۔ گدھے جیسی عادات رکھنے والا دوسرا جانور بھیڑ ہے۔ وہ بھی ناک کی سیدھ میں چلنے کی ہی عادی ہوتی ہے۔ اگر کبھی آپ کو بھیڑ کو چلتے دیکھنے کا اتفاق ہو تو دیکھیے گا وہ گردوپیش سے ماورا ہو کر کس قدر انہماک و تندہی سے بڑھتی چلی جاتی ہے گویا کسی اہم مشن کی تکمیل مقصود ہو، چاہے آگے کسی کھائی میں ہی کیوں نا جا پڑے۔

دیہاتوں میں رہنے والے خوب واقف ہیں کہ ریوڑ کے ساتھ ایک گدھا بھی لازمی ہوتا ہے۔ وجہ اس کی یہی ہے گدھا اپنی راستہ حفظ کر لینے کی صلاحیت کی بدولت رہنما بن جاتا ہے اور بھیڑیں اپنی مستقل مزاجی کی بدولت گدھے کی معیت میں ریوڑ کا ٹیمپو بناتی ہیں۔ یوں باقی جانور گدھے اور بھیڑوں کے اس گٹھ جوڑ کا نشانہ بن جاتے ہیں اور ان کی تقلید پر مجبور ہوتے ہیں۔ یوں تمام ریوڑ بغیر گم ہوئے واپس گھر آ جاتا ہے۔ یعنی یہ کلی کمال گدھے کا ہی ہے۔

گرچہ بھیڑوں کی مستقل مزاجی کو بھی سراہا گیا ہے لیکن آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میرا مقصد گدھے کی تعریف ہے۔ عزیزان من ایسا ہر گز نہیں ہے، میں تو محض گدھے سے جڑی ایک کہاوت آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ کہاوت کی طرف بڑھنے سے پہلے ایک آخری جملہ بھی کہتا چلوں کہ یوں تو گدھے کی مادری زبان ڈھینچوں ڈھینچوں کو قرار دیا جاتا ہے تاہم کبھی کبھی عالم وجد ومستی میں (شاید خود کو گھوڑا یا گھوڑے کا کزن سمجھتے ہوئے ) گدھا ہنہنا بھی لیتا ہے۔

خیر کہاوت کا زمانہ وہ ہے جب گدھے کو مرسیڈیز کا درجہ حاصل تھا اور قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص راستے کے بیچوں بیچ بیٹھا رو رہا تھا۔ پاس سے گزرتے مسافر نے استفسار کیا کہ بھئی روتے کاہے کو ہو؟ کیا رہزنوں نے لوٹ لیا یا آلائم سفر سے گھبرا گئے ہو؟ روتے مسافر نے بیچ ہچکیوں کے جواب دیا، نہیں بھائی ایسی کوئی وجہ نہیں بلکہ میں تو روتا ہوں کہ میرے گدھے نے مجھے زمین پہ پٹخ دیا۔ دوسرے مسافر نے تسلی دیتے ہوئے کہا خیر سے ہڈی جوڑ سلامت ہے باقی گرتے ہیں شہسوار ہی۔ ۔ ۔ تو اب رونے سے کیا حاصل؟ روتے شخص نے جواب دیا نہیں بھائی میں گرنے کو نہیں روتا بلکہ اس گدھے کی گرانے کے بعد کی فاتحانہ ہنہناہٹ مجھے رلا رہی ہے۔

چونکہ آج کل روز ہی اس کہاوت سے ملاقات ہو جاتی ہے تو سوچا آپ سے بھی ملوا دیا جائے۔ جی ہاں، جب بڑھتی مہنگائی کا ذمہ دار فروٹ چاٹ کو قرار دیا جاتا ہے، جب معیشت کی ڈوبتی نبضوں میں زندگی ڈالنے کومرغی کٹا پال اسکیم دی جاتی ہے، جب زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے کل منصوبہ بیری کے درخت لگا کر پھر ان پر شہد کی پرورش رہ جاتی ہے، جب دائمی سکون گاہ قبر کو قرار دیا جاتا ہے، جب اجرت نا بڑھانے کا مقصد روزمحشر کے سوالنامے میں آسانی پیدا کرنا بتایا جاتا ہے، جب لاک ڈاؤن کی مخالفت کر کے کرونا نا پھیلنے کی وجہ کامیاب لاک ڈاؤن کو قرار دیا جاتا ہے، جب کوڈ۔ 19 کی تشریح اس کی 19 اقسام بتا کر کی جاتی ہے، جب چولہا جلانے کے لیے ٹڈی دل پکڑ کر بیچنے کے مشورے دیے جاتے ہیں، جب ٹڈی دل کے تدارک سے متعلق پالیسی یہ اختیار کی جاتی ہے کہ عوام کو بتائیں یہ کرونا کا علاج ہے۔ ۔ ۔

ایسے بہت سارے ”جب“ میری اس کہاوت سے ملاقات کرا دیتے ہیں اور میں حضرت غالب کی مانند سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

نوٹ: اگر جارج آرویل کا ناول ”اینیمل فارم“ آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر ہو چکا ہے تو بہت اچھی بات ہے ورنہ گدھا کہانی سمجھ کر ہی لطف اٹھا لیجئیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عرفان اللہ خان نیازی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *