اسامہ بن لادن کا قتل: ہمیں کیوں شرمندہ ہونا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی حکومت کا سربراہ جب اپنے ملک کی اسمبلی میں خطاب کر رہا ہوتا ہے تو پوری دنیا اس خطاب کا جائزہ لیتی ہے۔ جو گروہ اس ملک کے مخالف ہوتے ہیں وہ اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ کوئی بات ایسی مل جائے جسے اس ملک کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اس وجہ سے تمام سربراہان حکومت کو خاص احتیاط کرنی پڑتی ہے کہ دانستہ یا نا دانستہ کوئی ایسی بات نہ کہہ جائیں جس سے ان کے ملک کے موقف کو نقصان پہنچے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے۔

25 جون کو وزیر اعظم عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی میں تقریر کی۔ اور نا معلوم وجوحات کی بناء پر تقریر کے دوسرے حصے میں انہوں نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔ اور شروع میں ہی انہوں نے فرمایا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری حکومت کی جو سب سے بڑی کامیابی ہے وہ فارن پالیسی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد سننے والوں کی توجہ دو چند ہو گئی کہ وہ کس اہم کامیابی کا ذکر کرنے لگے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے دو بہت شرمناک واقعات ہیں۔ اور پہلا واقعہ یہ بیان کیا کہ امریکنوں نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں مار دیا اور پھر کچھ رک کر بولے کہ انہیں شہید کر دیا۔ اس کے بعد کیا ہوا ؟ ساری دنیا نے ہمیں گالیاں نکالیں۔ ہمیں برا بھلا کہا یعنی ہمارا اتحادی ہمارے ملک میں مار رہا ہے کسی کو اور ہمیں نہیں بتا رہا اور ستر ہزار پاکستانی مر چکے ہیں ان کی جنگ میں۔

اس معاملے میں عمران خان صاحب کے جو بھی نظریات ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں اس مرحلہ پر اس ذکر کو چھیڑ کر وزیر اعظم کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ الفاظ ادا ہونے کی دیر تھی پہلے تو خواجہ آصف صاحب اور اپوزیشن کے بعض اور راہنمائوں نے اس کی مذمت کی کہ وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا۔ وہ دہشت گرد تھے اور انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا تھا۔ بلاول بھٹو صاحب نے عمران خان صاحب کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ چند منٹوں میں بھارت کے میڈیا کی وہی حالت تھی جو اردو محاورے میں اندھے کی دو آنکھیں ملنے کے بعد ہوتی ہے۔ بھارتی میڈیا اس بیان کا سہارا لے کر پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے رہا تھا۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسامہ بن لادن گاڑی کے کسی حادثے میں نہیں مرے تھے۔ انہوں نے اور القاعدہ نے امریکہ کے خلاف اعلان جہاد کیا تھا۔ اور ٹون ٹاور پر جہازوں سے حملہ کیا تھا۔ اس میں ہزروں شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اگر پاکستان کا وزیر اعظم انہیں شہید قرار دے رہا ہے تو لازمی طور پر دنیا اس کا یہی مطلب لے گی کہ پاکستان القاعدہ کی کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے اور اسے جہاد قرار دے رہا ہے۔ اور دوسری طرف آپ یہ بیان بھی داغ رہے ہیں کہ ہم نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔ ہم نے تو اس کا سر کچلنے کے لئے اہم خدمات سرنجام دی ہیں۔

جب ان سترہزار پاکستانیوں کا ذکر آیا جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے تو ان کے لئے وزیر اعظم نے شہید ہونے کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ جب اسامہ بن لادن کا ذکر آیا تو ا نہیں شہید قرار دے دیا۔ جناب والا! اصل شہید تو ہمارے ستر ہزاربے گناہ ہم وطن اور ہمارے وہ فوجی ہیں جنہیں دہشت گردوں نے شہید کیا ہے۔ اور آپ ان کی بجائے القاعدہ کے لیڈر کو شہید قرار دے رہے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ہزاروں پاکستانیوں کا خون ان تنظیموں کے ہاتھوں پر ہے جو یا تو القاعدہ کی اتحادی تھیں یا اس کے بغل بچہ کی حیثیث رکھتی تھیں۔

اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی کاوشوں کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ مسلمان ممالک میں امریکہ کا تسلط بہت بڑھ گیا ہے۔ اس لئے ان ممالک میں حقیقی معنوں میں اسلامی نظام نہیں قائم کیا جا سکتا۔ اسامہ بن لادن سعودی عرب میں پیدا ہوئے وہ یقینی طور پر جانتے تھے کہ خود سعودی عرب میں امریکی فوجیں موجود ہیں۔ حالانکہ سعودی دارالافتاء نے عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی سربراہی میں یہ فتویٰ دیا ہوا ہے کہ شریعت کی رو سے جزیرہ عرب میں کسی کافر کو بطور ملازم رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسامہ بن لادن صاحب نے اپنے وطن کو مرکز بنا کر اپنے جہاد کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس کام کے لئے پاکستان اور افغانستان کو برکت بخشنےکا فیصلہ کیا۔

طالبان کے تعاون سے انہوں نے وہاں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ یہاں تک نائن الیون کا واقعہ ہو گیا۔ لازمی بات تھی کہ اب امریکہ افغانستان کو نشانہ بنائے گا۔ توقع تو یہ تھی کہ اسامہ بن لادن وہیں رہ کر داد شجاعت دیں گے۔ لیکن اس وقعہ کے فوری بعد انہوں نے افغانستان میں اپنے مرکز کو تحلیل کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں افغانستان پر چڑھ دوڑیں۔ وہاں پر لاکھوں کی تعداد میں معصوم شہری مارے گئے لیکن مقابلہ کرنے کی بجائے اسامہ بن لادن اپنی تین بیویوں اور بچوں سمیت روپوش ہو گئے۔

یقینی طور پر وہ جانتے تھے کہ وہ جس ملک سے دریافت ہوں گے، اس ملک کو عالمی سطح پر بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ۱س کے باوجود انہوں نے روپوش ہونے کے لئے اپنے وطن مالوف کی بجائے ہمارے وطن معتوب کا انتخاب کیا۔ پہلے وہ سوات میں شانگلہ کے مقام پر ایک گھر میں رہے۔ پھر کچھ عرصہ ہری پور قیام کیا۔ اور آخر کار ایبٹ آباد میں سکونت کا فیصلہ فرمایا۔ اس دوران امریکہ کی ایجنسیاں ہمارے اداروں سے رابطہ میں تھیں اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں کہیں روپوش ہے۔ لیکن ہمارے ادارے یہی اعلان کرتے رہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں ہیں۔

مجھے محترم عمران خان صاحب سے اتفاق ہے کہ جب امریکنوں نے ایبٹ آباد پر حملہ کر کے اسامہ بن لادن صاحب کو مار دیا تو وہ دن ہم پاکستانیوں کے لئے بہت شرمندگی کا دن تھا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس شرمندگی کا ذمہ دار کون تھا ؟ اگر امریکنوں نے ہماری مہیا کردہ معلومات سے مدد لے کریہ دریافت کر لیا تھا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے اس گھر میں موجود ہیں تو ہمارے ادارے یہ کھوج لگانے میں ناکام کیوں رہے؟

صرف امریکہ پر غصہ نکالنا کافی نہیں ہمیں سوچنا چاہیے کہ جب 2 مئی 2011 کو امریکی ہیلی کاپٹر جلال آباد سے پاکستان میں داخل ہوئے تو ہمارے ریڈار ناکارہ کیوں ثابت ہوئے۔ ایک امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد میں گر گیا اور اس سے ایک بڑا دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔ اس کی اطلاع اسی وقت بری افواج کے سربراہ جنرل کیانی صاحب کو اور ایئر فورس کےسربراہ رائو سلیمان قمر صاحب کو مل گئی اور سرگودھا سے پاکستان کے ایف 16 روانہ کر دیئے گئے۔ لیکن اس کے باوجود امریکی فوجی اپنا آپریشن مکمل کر کے بخیروعافیت افغانستان پہنچ بھی گئے اور ہم انہیں واپسی پر بھی نہ روک سکے۔

واقعی یہ شرمندگی کی بات ہے لیکن صرف امریکنوں کو کوسنے سے کیا ہو گا؟ اگر ہماری مستعدی کی یہ حالت ہے تو ہر کوئی اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا۔ کیا ہم دو ہیلی کاپٹروں کا راستہ بھی نہیں روک سکتے۔ اگر اس شرمندگی کا کچھ ازالہ کرنا ہے تو ہماری سویلین اور ملٹری قیادت کو مل کر منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *