الوداع الوداع سید بادشاہ الوداع


سید منور حسن بھی چل بسے، بلند آہنگ اورروشن چہرے والا سید بادشاہ توکل اوردرویشی کی مجسم تصویرتھا۔ ایسے مقرر بے بدل کہ سماں باندھ دیتے تھے۔ ان کے اٹھ جانے سے آج جماعت اسلامی توکل اور درویشی سے بھی خالی ہوگئی۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ اب الاستاذ سلیم منصور خالد کے ذریعے ہی حال احوال کا پتہ چلتا تھا۔ خاکسار جب کبھی کراچی جاتا تو بالالتزام قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا کرتا تھا۔

اس کالم نگار کے ساتھ بہت شفقت فرماتے یہ ان معدودے چند احباب میں شامل تھے جن سے پنجابی ساختہ ناتراشیدہ کالم نگار بڑے اہتمام اور رچاو سے اردو میں گفتگو کیا کرتا تھا۔

سید والا تبار منور حسن سے تعارف ان کی سیرت سرور عالم کے حوالے سے ایک منفرد تقریر کی وجہ سے ہوا تھا جو ڈاکٹر احسن اختر ناز مرحوم نے کاغذ پر اتارنے کے لیے دی تھی جس میں جناب منورحسن نے والہانہ انداز میں رسالت مآب کے سراپا انور کو الفاظ کے ذریعے مجسم کردیا تھا۔ اپنے نانا سے والہانہ لگاؤ جذب و سلوک کی تمام منازل طے کر گیا تھا اور یہ کالم نگار ان کی زلف گرہ گیر کا ایسا اسیر ہوا کہ کہیں کا نہ رہا۔ یہ سید منور حسن ہی تھے جو جماعت اسلامی کی مروجہ چونکہ چانچہ اور حکمت عملی کی مصلحت آمیزی کے برعکس بڑے دھڑلے سے صاف سیدھی بات کرتے تھے۔ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ "سید بادشاہ بندہ ضائع کر دیتا ہے جملہ ضائع نہیں کرتا"

جناب منور حسن مصلحت ناروا کے بالکل قائل نہیں تھے۔ اسی لیے جب ایک چھچھورے لفافی اینکر نے جہاد اور فلسفہ شہادت کے بارے میں ذومعنی سوال کیا تو جناب منور حسن نے تمام مصلحتوں کوبالائے طاق رکھ کر فرمایا "امریکہ کے خلاف لڑنے والے شہید ہیں” اس پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اسی طرح پاک فوج نے جناب منور حسن کے ایک اور بیان پر تحریری رد عمل دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کر دیا۔ یہ جناب منور حسن ہی تھے جنہوں نے وردی والے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اس معاملے میں صرف وزیر دفاع ہی ان سے استفسار کر سکتا ہے۔

اس کالم نگار سے بھی سید بادشاہ کی کئی معرکہ آرائیاں ہوئیں۔ وہ ازحد شفقت فرماتے۔ خلد آشیانی جناب مجید نظامیؒ کی طرح میری جسارتوں پر خوش ہوتے، حوصلہ افزائی کر تے اور خاکسار بھی ان کی محبت اورشفقت سے جائز ناجائز فائدہ اُٹھاتا۔

جناب منور حسن امیر منتخب ہوئے تو ایک میرپوری فتنہ پرور نے بڑی دردمندی سے کہا کہ لیاقت بلوچ کا راستہ روکنا بہت ضروری ہے۔ آپ منور صاحب سے جا کر ملو اور امیرالعظیم کا نام قیم جماعت اسلامی کے لیے تجویز کرو۔ خاکسار بلا سوچے سمجھے منصورہ لاہور پہنچا اور اپنا مقدمہ پیش کر دیا۔ شاہ صاحب مسکراتے رہے، باتیں سنتے رہے، سر ہلاتے رہے اور خاکسار اپنی رام کہانی سنا کر واپس آ گیا۔

کہتے ہیں سید بادشاہ نے برادر امیر العظیم کو قیم بنانے کی تجویز پیش کی تو برادر امیرالعظیم نے رونا دھونا مچا کر سماں باندھ دیا اور اپنی جان چھڑا لی اور 9 برس بعد اب سکریٹری جنرل ہوتے ہیں۔

جب سید منور حسن امیر منتخب ہوئے تو انہی دنوں ہالی ڈے ان اسلام آباد ہوٹل میں ملاقات ہو گئی۔ طویل عرصے بعد اچانک دیکھ کر خوش ہوئے۔ فرمایا بھائی آپ کے ہاں کچھ خاطر و تواضع کا رواج نہیں ہے۔ سامنے گلی میں واقع گھر لے گیا۔ 8 – 10  مقامی مصاحبین بھی ہمراہ تھے طویل گپ شپ میں روایتی بے تکلفی غالب تھی۔ خاکسار نے عرض کی آپ کی درویشی اور جماعت اسلامی کے نظم میں مقابلہ ہے۔ امکان غالب ہے آپ اپنی آئینی مدت پوری نہ کر پائیں گے اور شاید یہی ہوا۔ جب خاکسار نے 90 کی دہائی میں انٹر نیوز کی بنیاد رکھی تو حوصلہ افزائی کے لیے بلیوایریا والے دفتر میں بنفس نفیس تشریف لائے، کامیابی کے لیے دعائیں کرتے رہے اور آج میری کامیابی و کامرانی کے لیے بدست دعا ہاتھ نہیں رہے۔ شاہ جی رخصت ہوئے

یہ قاضی حسین احمدؒ کی زندگی کا واقعہ ہے جماعت اسلامی نے اسلام آباد سے اپنے ترجمان اخبار جسارت کی اشاعت کا منصوبہ بنایا لیکن برس ہا برس سے اپنے بیورو چیف قلندر مزاج حمید احمد عابد کی بجائے سعودی عرب کے "اردونیوز” سے فارغ قرار پانے والے ایک دوست کو ریذنڈنٹ ایڈیٹر بنانے کا فیصلہ کیا اس معاملے سے اس کالم نگار کا دور دور کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن تھڑے والی گپ شپ میں کھل کر تبصرے کرتا رہا کہ جماعت اسلامی والوں کی عقل پر پتھر پڑگئے ہیں۔ تجربہ کار اور نرم و گرم چشیدہ بیوروچیف کے ہوتے ہوئے ایک ایسے شخص کو ایڈیٹر بنا رہے ہیں جسے اسلام آباد کے راستوں کا علم تک نہیں، وفاقی حکومت سے کام کرنے کا ایک دن کا تجربہ نہیں اور یہ کہ یتیموں ، مسکینوں اوربیواوں کے نام پر اکٹھے کئے گئے کروڑروں روپے چند ماہ میں ضائع کر دیں گے۔ ایک کشمیری دانش مند نے مشورہ دیا کہ امیر جماعت قاضی حسین احمد کو خط لکھ کر توجہ دلاؤ۔ موصوف خود بھی شاید اس منصب کے امیدوار تھے جس کا خاکسار کو علم نہیں تھا۔ جذبہ جہاد سے سرشار اس کالم نگار نے خط لکھ مارا۔ ایک سہ پہر اسلام آباد کلب میں چائے پر بلایا گیا کہ قاضی حسین احمدؒ نے اپنے سیکریڑی جنرل سید منورحسن کو اس بے ادبی پر ڈانٹ ڈپٹ کے لیے بھجوایا تھا ۔

وہاں پہنچا تو سید بادشاہ میرا خط لیے بیٹھے مسکرا رہے تھے "تم شرارتوں سے باز نہیں آؤ گے” انہوں نے جملہ اُچھالا اور خاکسار دل گیر و دل گرفتہ اپنا موقف بیان کرتا رہا، شاہ صاحب سر ہلاتے رہے ہوا۔ وہی اس “لاڈلے” کو ایڈیٹر بنایا گیا۔ اس نے تین چارماہ میں کروڑروں روپے ڈبوئے اور کراچی کی راہ پکڑی ۔ یہ مال مفت ، دل بے رحم والا معاملہ تھا سید بادشاہ نہ چاہتے ہوئے بھی نظم جماعت کے آگے بے بس ہو جایا کرتے تھے،

جناب منور حسن کے فیض یافتگان کی فہرست بڑی طویل ہے جن میں حسین حقانی بھی شامل ہے ۔ حسین حقانی دور نوجوانی میں سابق امیر جماعت اسلامی اور شاندار مقرر سید منور حسن کے بستہ بردار ہوتے تھے۔ ان کے جلسوں کو گرمایا کرتے تھے اور صبح منور شام منور۔ روشن تیرا نام منور کے نعرے لگایا کرتے تھے پھر یہ پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لئے تخلیق دیئے جانے والے اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) میں جماعت اسلامی کی سیڑھی لگا کر گھسے اور پنجاب کے ابھرتے ہوئے رہنما میاں نواز شریف کے مقرب بن گئے۔ اس کارخانے کو چلانے والے جرنیلوں کے یہ کفش بردار تھے، کون ان کی راہ روک سکتا تھا۔ انگریزی پر دسترس ان کا ہتھیار تھی۔ قبل ازیں جنرل ضیا کے جنازے پر شدت غم سے بے طرح روتے پائے گئے۔ اپنے اولین سرپرست، مربّی محترم سید منور حسن کو تو وہ کب کا بھول بھال چکے ہیں جو آج اپنے رب کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔

جناب منور حسن 77  کے عام انتخابات میں لاکھوں ووٹوں کی اکثریت سے ریکارڈ ووٹ لے کر جیتے تھے لیکن اسمبلی تک نہ پہنچ پائے تھے ۔ میری سماعتوں میں وہ نعرہ گونج رہا ہے

صبح منور شام منور

روشن تیرا نام منور

Facebook Comments HS

اسلم خان

محمد اسلم خاں گذشتہ تین دہائیوں سے عملی صحافت کے مختلف شعبوں سے منسلک رہے ہیں اب مدتوں سے کالم نگار ی کر رہے ہیں تحقیقاتی ربورٹنگ اور نیوز روم میں جناب عباس اطہر (شاہ جی) سے تلمیذ کیا

aslam-khan has 57 posts and counting.See all posts by aslam-khan