خدا حافظ ڈاکٹر مغیث صاحب!
پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین ٰشیخ صاحب کی وفات کی خبر نے افسردہ کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ ان سے میری ملاقات 2009 میں پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ آف ماس کمونیکیشن اسٹدیز ( آئی سی سی ایس) میں ہوئی جب انھوں نے ڈیپارٹنمٹ میں انگریزی پڑھانے کے لیے بحیثیت ڈائریکٹر میرا انٹرویو کیا اور مجھے سلیکٹ کر لیا۔ میں نے خوشی خوشی پڑھانا شروع کیا کیونکہ وہ پہلی دفعہ تھا کہ میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھی۔ اسی دوران ایک فیکلٹی میٹنگ میں شرکت کی تو مغیث صاحب نے باقی اساتذہ سے میرا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ ’یہ وہ واحد فیکلٹی ہیں جن کو hiring کے وقت میں جانتا نہیں تھا اور یہ میرٹ پر آئی ہیں۔ مجھے ان کے الفاظ نے بہت خوشی دی اور یہ بات انہوں نے بعد میں بھی کئی اور مواقٰع پر کہی۔
میں نے کچھ عرصہ آئی سی سی ایس میں پڑھایا پھر ایم فل میں ایڈمیشن لے لیا اور درمیان میں ملک سے باہر جانا پڑا واپس آ کر پتا چلا مغیث صاحب ڈیپارٹمنٹ سے جا چکے ہیں۔ 2011 میں ایک دن سپریئر یونیورسٹی سے کال آئی کہ مغیث صاحب آپ سے ملنا چاہ رہے ہیں پتا چلا کہ وہ وہاں ماس کمیونیکیشن کے ڈین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور مجھے وہاں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر بلانا چاہ رہے ہیں۔ میرا سپریئر یونیورسٹی میں پڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ ایک تو رایؤنڈ روڈ پر ان کا کیمپس بہت دور پڑتا تھا اور دوسرا میں اپنی پڑھائی میں کافی مصروف تھی۔
لیکن جب ان کے اصرار پر ملنے گئی تو انھوں نے پھر یہی بات کی کہ میں اچھی ٹیم رکھنا چاہتا ہوں اور آپ میرٹ پر اچھا کام کرتی ہیں لہذا آپ یہاں ضرور پڑھائیں اور ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ معاوضہ اور کلاس کا وقت آپ کی مر ضی کا ہوگا۔ خیر اس کے بعد ان کوانکار کرنا اخلاقا مناسب نہیں لگا۔ خیال تھا کہ ایک سمیسٹر کے بعد معذرت کر لوں گی کیونکہ کیمپس واقعی کافی دور تھا اور ہفتے میں ایک دن جانا بھی مشکل لگتا تھا۔ لیکن مغیث صاحب نے چار سمسٹرز کروا دیے۔ مجھے یاد ہے کہ وہاں جتنے بھی اساتذہ دور دور سے اور اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر آتے تھے تو اس کی وجہ مغیث صاحب ہی تھے۔
2012 کے آخر میں، مجھے کانفرنس پیپر کے لئے اکیلے نییپال کا سفر کرنا تھا اور میں گبھرا رہی تھی کیونکہ یہ پہلی دفعہ تھا کہ مجھے اکیلے جانا تھا۔ جب مغیث صاحب کو پتا چلا تو کہنے لگے وہاں میرا ایک نیپالی اسٹوڈنٹ ہے جو پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا میں اس کو کہہ دیتا ہوں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس سے فون پر بات کر کے میرا حوالہ دیا اور میرا نمبر اس کو دے دیا۔ مجھے تعجب ہوا کہ ان کے شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد مصروفیت کی بنا پر ان سے ٹیلی فونک رابطہ رہا۔
2015 میں انھوں نے ایک بار پھر درخواست کی کہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب میں ماس کمونیکیشن کے ایم اے کے طلبہ و طالبات کو انگریزی پڑھا دوں۔ مجھے پتا چل چکا تھا کہ وہ سپریئر یونیورسٹی چھوڑ کر یو سی پی جوائن کر چکے ہیں۔ ان کو ہنستے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ جہاں جاتے ہیں پہلے پہل پروگرام چلانے کے لئے ہمیں بلا لیتے ہیں تو کہنے لگے ’اچھا پروگرام وہی ہوگا جہاں کے استاد اچھے ہوں گے‘ ۔ میرے لیے ہمیشہ یہ اعزاز کی بات رہی کہ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین ٰشیخ صاحب جیسے اعلی قد کے پروفیسر نے جس ادارے میں بھی ابتدائی طور پر ماس کمیونیکشن کے پروگرام کی بنیاد ڈالی میں وہاں ابتدائی طور پر اس کی وزیٹنگ فیکلٹی کا حصہ رہی۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ لاہور کی تین پرایؤیٹ یونیورسٹوں میں ماس کمونیکیشن کے پروگرام متعارف کروانے والے مغیث صاحب ہی ہیں۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ پاکستان میں علیحدہ سے میڈیا یونیورسٹی ہونی چاہیے۔ اس سارے عرصے میں ان سے academia سے متعلق سیکھنے کو ملتا رہا۔ بہت قابل، visionary اور شفیق انسان تھے۔ کورونا بہت ظالم ہے ایسے ایسے لوگ ہم سے چھینتا جا رہا ہے جن کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے۔ مغیث صاحب کا بہت شکریہ کہ انھوں نے میرٹ اور ٹیلنٹ کو ہمیشہ عزت دی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے وہ میری اچھی یادوں اور دعاؤں میں ہمیشہ رہیں گے۔


