ارشد محمود ناشاد کی مثنوی ”کتاب نامہ“ کا مطالعہ
انسان کی سرشت میں شامل ہے کہ جہاں وہ اپنے موجود کو بہتر بناتے ہوئے امکانات کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے وہیں اپنے ماضی سے بھی ہمہ وقت بندھا رہتا ہے۔ اسے اپنے آباء کے ساتھ ایک فطری ربط ہوتا ہے۔ اسی طرح صاحبان قلم کی نگاہ ضرور مستقبل پر ہوتی ہے مگر انسان کا ماضی بھی ان سے اوجھل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ انسان کی ان تھک محنت لائق تحسین اور موجودہ ترقی قابل فخر ہے۔ یہی وجہ ہے
Read more
