ارشد محمود ناشاد کی مثنوی ”کتاب نامہ“ کا مطالعہ

انسان کی سرشت میں شامل ہے کہ جہاں وہ اپنے موجود کو بہتر بناتے ہوئے امکانات کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے وہیں اپنے ماضی سے بھی ہمہ وقت بندھا رہتا ہے۔ اسے اپنے آباء کے ساتھ ایک فطری ربط ہوتا ہے۔ اسی طرح صاحبان قلم کی نگاہ ضرور مستقبل پر ہوتی ہے مگر انسان کا ماضی بھی ان سے اوجھل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ انسان کی ان تھک محنت لائق تحسین اور موجودہ ترقی قابل فخر ہے۔ یہی وجہ ہے

Read more

ڈاکٹر قاسم یعقوب کا ناول ” خلط ملط”

بلاشبہ آج نئے اہل قلم کی اکثریت انگریزی کو وسیلۂ اظہار خیال بنائے ہوئے ہے، با الخصوص نثر میں۔ (فی الوقت اس کے عیوب و فوائد گنوانے کی بحث میں الجھنا ہرگز مقصود نہیں۔ ) تاہم اس سے قطعی طور پر یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اردو زبان و ادب کی کوکھ بانجھ ہو چلی ہے۔ کچھ صاحبان ادب اردو میں بھی سنجیدہ نوعیت کے موضوعات کو عمدگی سے برت رہے ہیں۔ انہی میں ایک نام ڈاکٹر قاسم یعقوب کا

Read more

احمد جاوید کا ناول جینی

کارل مارکس۔ اک نابغہ کہ جس نے اپنی فکر و فلسفہ سے اک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ کہیں ہدف ملامت ٹھہرائے گئے تو کہیں مسیحا قرار دیے گئے۔ اقبال انہیں مسیح بے صلیب اور کلیم بے تجلی قرار دیتے ہیں تو بعضوں کا مذہب ان کا محض نام لینے سے بھرشٹ ہوتا ہے۔ تاہم ہر دو صورتوں میں ان کے افکار کی اہمیت مسلمہ ہے کہ جس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان

Read more

حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے

استاد ذوق کا یہ شعر مختلف مواقع پر بروقت استعمال کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آپ قبرستان جائیں تو کئی کتبوں پر یہ شعر کندہ نظر آئے گا۔ ویسے تو کتبے پڑھنا کوئی دلچسپ امر نہیں مگر پڑھتے رہنا چاہیے کہ غلام عباس کا ’کتبہ‘ کتنی ہی قبروں پر ایستادہ دعوت فکر دیتا ہے۔ اسی طرح طنز و مزاح نگاروں کے ہاں بھی یہ مصرعہ خاص پسندیدگی کا حامل رہا ہے۔ تاہم مقصد

Read more

اپنے نیرو سے کچھ باتیں

ہاں مگر جان کی امان نا بھی پاؤں تو بھی پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ منفی چھ ڈگری سینٹی گریڈ میں جوان بیٹے کی لاش لیے آپ کے منتظر، بوڑھے باپ اور بلکتی بہن، جس کے گھر میں اب لاشیں اٹھانے کو کوئی مرد نہیں بچا، ان کو کیا پیغام دیا جائے؟ آپ کا ذاتی نظریہ تو واضح ہو گیا، کیا ریاست ماں بھی مارنے والے کو شہید اور ذبح ہونے والے کو بلیک میلر کا سرٹیفکیٹ عطا کرے گی۔ سرائیکی کہاوت ہے کہ اپنا مارے تو کم ازکم سائے میں ڈال دیتا ہے۔

Read more

ایواکاڈو کی کاشت اور ہمارا سیاسی کولمبس

ستر کی دہائی میں جب خلیجی ممالک نے امارت کے ثمرات سے لطف اندوز ہونا سیکھا تو انہیں خواہشات کی تکمیل کے لیے افرادی قوت وطن عزیز نے بہم پہنچائی۔ تب عام مزدور کی قسمت بھی کسی قدر بدلی اور وہ پختہ گھر کے خواب کی تعبیر کو ممکن سمجھنے لگا۔ یوں ایک سہانے مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے ایک بڑی تعداد جوانوں کی سمندر پار چلی گئی۔ ایسے ہی چند دوست ان بیتے دنوں کی یاد تازہ کرتے

Read more

گدھا کہا نی

گدھا ایک حلیم الطبع اور منکسر المزاج جانور ہے۔ یہ ان جانوروں میں شامل ہے جو شروع سے انسانوں کا ہمدم ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو اس کی قدر نہیں۔ گرچہ مختلف ادوار اور مختلف علاقوں کے گدھوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تاہم مختلف علاقوں اور مختلف ادوار میں اس کے وجود کو الگ الگ مفاہیم پہنائے گئے۔ تاہم ہمارے ہاں گدھا اس حد تک گدھا ہوتا ہے کہ اس کی نا اپنی کوئی

Read more

بجٹ کے بعد سے باؤ کی کوئی خبر نہیں

پاکستان۔ وہ خوش قسمت ملک جسے قدرت نے بقول شخصے بارہ تو نہیں لیکن چار رتوں سے بہر حال ضرور نواز رکھا ہے۔ پودوں پر اور من میں پھول کھلاتی بہار ہمیشہ سے نئی امیدوں اور نویدوں سے لبریز دامن لیے دلوں کی شادمانی کا بندوبست کرتی ہے یا شاید (بصد افسوس) کیا کرتی تھی۔ روایات میں ملتا ہے کہ اس ملک کی خلقت کا تخم بھی بہار کے موسم میں ہی پھوٹا۔ بیج سے یاد آیا کسان بہار کے

Read more