میم کلچر، موجودہ حکومت اور عوام کی بے حسی۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی عوام تک رسائی نے ہمارے رہن سہن کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت ابلاغ کے دروازے تو چوپٹ کھلے ہی تھے اس نے ہماری روز مرہ زندگی کو بھی ایک نئی جہت دی ہے۔ جو گانے، فلمیں اور ڈرامے ہم دیکھنا چاہیں وہ چند سکے خرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں، پرانی سے پرانی فلم اور ڈرامہ، امریکی و بھارتی سیزن، گانے، دستاویزی فلمیں غرض کہ ہر چیز انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ ہر عمر کے افراد کے لئے تفریح طبع کا سامان بھی موجود ہے۔

ہمارا مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہم تیسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں ہر چیز اس وقت مہیا ہوتی ہے جب پوری دنیا اسے ’پہن ہنڈا‘ کر پرانا کر دیتی ہے۔ میڈیا اسٹڈیز میں ایسے افراد کے لئے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے Laggards کہا جاتا ہے۔ اردو لغات میں ان کے معانی سست رو، پیچھے رہ جانا والا یا عام زبان میں کہا جائے تو ”پھاڈی“ کے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے امیر امرا کوئی فیشن اختیار کرتے ہیں تو کچی بستیوں میں رہنے والے فیشن ایبل اس کو اپناتے ہیں۔ (معذرت کے ساتھ میں نے یہ بات کسی خاص کلاس کے لئے نہیں بلکہ مجموعی طور پر تیسری دنیا کے باسیوں کے لئے کہی ہے جن میں میں بھی شامل ہوں ) ۔

انٹرنیٹ نے جہاں رابطوں، کاروبار اور دیگر دنیاوی ضروریات کو ایک نئی جہت سے آشنا کیا ہے وہیں اس نے مذاق اور مزاح کو تکلم سے زیادہ ’تصور‘ میں ڈھال دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہانیاں اور لطیفے گھڑے جاتے، سنائے جاتے اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتے۔ بعض لطائف اور کہانیاں آج بھی پرانے نہیں ہوئے۔ دور کسی گاؤں دیہات میں چڑے اور چڑیا کی کہانی آج بھی سنائی جاتی ہے۔ بچے ویسے ہی چندا کو ماما مانتے ہیں جیسے کوئی تیس سال پہلے مانتا تھا۔

لیکن میں ان تصویر زدہ لطیفوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جو سنائے نہیں جاتے بلکہ دکھائے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیائی لغت میں انہیں ”میم“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میم مزاح کا ایسا ذریعہ ہے جس میں کسی تصویر یا ویڈیو کو کسی کے قول یا فعل سے منسلک کر کے مزاح پیدا کیا جاتا ہے۔ اثر اس کا یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والا صرف ایک تصویر یا ویڈیو دیکھتا ہے اور جس شخص کا مذاق بنانا مقصود ہو، ہماری توجہ خود بخود ادھر چلی جاتی ہے۔ پھر اس پر ”ٹرینڈز“ بنتے ہیں اور کوئی ہفتے دس دن بعد یہ رحجان معدوم ہو جاتا ہے اور کسی نئے کردار کے قول یا فعل کو مزاح کا موضوع بنا کر نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

میمرز اس کام میں طاق ہوتے ہیں۔ وہ کسی شخص کی زبان کی لغزش یا جان بوجھ کر کہی گئی کسی غلط بات کو پکڑتے ہیں اور ہنسانے کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ گزشتہ دو سال میں ہماری حکومت نے اور کسی کی روزی روٹی کا سامان فراہم کیا ہو یا نہ کیا ہو، کم از کم میمرز کے لئے ایسا ایسا مواد مہیا کیا ہے کہ انسان ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جائے اور اگر اسے بھوک کا احساس ہو تو وقتی طور پر یہ بھی ختم ہو جائے۔

ابھی چند دن پہلے محترمہ زرتاج گل نے کووڈ 19 کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے انیس درجے ہوتے ہیں تاکہ ہر ملک اپنے حالات کے لحاظ سے اس کو اپلائی کر سکے۔ اس بیان کو لے کر میمرز نے وہ درگت بنائی کہ الامان! اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان صاحب کے ”آپ نے گھبرانا نہیں ہے“ نے بہت شہرت پائی اور اس پر ٹک ٹاکرز نے بہت ویڈیوز بنائے۔

مجھے سلطنت روم کی Bread and Circuses پالیسی یاد آ رہی ہے جس کے مطابق شہنشاہ نے حکم جاری کیا تھا کہ عوام کو سستی روٹی اور تفریح کا سامان فراہم کیا جائے۔ اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ عوام کھانا کھا کر شغل میلہ دیکھیں اور کرتا دھرتاؤں سے کوئی سوال نہ کرے۔ وزیراعظم صاحب سے گزارش ہے کہ سستی تفریح تو آپ سبھی نے بہت مہیا کر دی اب ذرا غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کر دیں تو کھل کر ہنسنے میں ذرا آسانی ہو گی ورنہ یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زوہیب یاسر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply