ندامت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اس پر یہ سوچ قبضہ جمائے رکھتی جب بھی یہ سوچ اس پر حاوی ہوتی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی تیز نوک دار ہتھیار اس کی کھوپڑی میں جا دھنسا ہو اس کا جسم کانپ اٹھتا۔ بدن کے ایک ایک حصے سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر بہنے لگتے۔ اس نے سر کو جنبش دی عین اسی وقت اس کے ذہن کی سکرین پہ ایک سالہ نور اور اس کی ماں عالیہ کا عکس ابھرا۔ عالیہ، نور کو سلا نے کی کوشش کر رہی تھی اور نور سونے کے بجائے عالیہ کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ اس خیال کے آتے ہی اس کے جسم کا تناؤ بڑھ جاتا۔ میرا وارث میری زندگی کا سہارا یہ خیال اس کے دماغ کو نچوڑ کر رکھ دیتا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ سوچوں اور خیالوں سے کیسے پیچھا چھڑا یا جائے اگر انسان پیچھا چھڑا نا بھی چاہے تو نہیں چھڑا سکتا۔ کہیں یہ سوچیں مجھے شکست نہ دے دیں۔

اس خیال کے ذہن میں آتے ہی وہ کانپ اٹھا۔ وہ بیشک ایک تندرست جوان تھا لیکن سوچیں جسم پر نہیں ذہن پر وار کرتی ہیں ان نے سر کو دائیں بائیں کئی جھٹکے دیے اور باہر باغیچے میں نکل آیا اور وہاں موجود درخت پر نظر ڈالی جو بڑے سکون سے کھڑا تھا اسے بے اختیار ہنسی آئی منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا ”کیسا چالاک ہے مجھے غافل پا کر نہ جانے کن خیالات میں مگن ہے۔

پہلے تو وہ اپنی سوچ پر شرمندہ ہوا پھر اپنے آپ ہنس دیا۔
بھلا درخت بھی سوچتا ہے؟ درخت انسان تو نہیں؟
لیکن وہ تو انسان تھا اور ابھی ابھی سوچوں کے سمندر سے جان چھڑا کر اٹھا تھا۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ وہ عالیہ، نور اور باجی نسیمہ سے بچ بچا کر خیالوں کے سمندر میں دیر تک ڈبکیاں لگاتا رہتا اسے ہمیشہ نور کی آواز خیالوں کے سمندر سے نکالتی تھی۔ وہ ابھی تک باغیچے میں بیٹھا تھا۔ عالیہ اسے کھانے کا کہنے آئی تھی وہ اس کے ساتھ کھانے کے لیے اندر چل دیا۔ جب کھانے کی میز پر بیٹھا تو دیکھا نور اس سے کچھ فاصلے پر جھولے میں لیٹی ہے۔ وہ جب بھی نور کو دیکھتا اسے اپنے گرد مو جود ہر شے سے نفرت ہونے لگتی اور وہ وہ جگہ چھوڑ کر چلا جاتا اور اپنی خیالی دنیا میں گم ہو جاتا۔

اصغر نے کبھی نور کو گود میں نہیں اٹھایا۔ نور لاکھ اس کو اپنی جانب متوجہ کرتی مسکراتی اپنی توتلی زبان میں شور مچاتی مگر اصغر پر ہمیشہ بیٹے کا خیال غالب رہتا۔ عالیہ یہ سب دیکھتی تو کرب کی ایک لہر اس کے وجود میں اتر جاتی۔ وہ کئی بار عالیہ کو کہتا کہ اسے بیٹا چاہیے عالیہ چپ چاپ سنتی رہتی اس کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔ اصغر نے خیالوں ہی خیالوں میں بیٹے کی پوری زندگی گھڑ لی تھی۔ جونہی اس کا ذہن دیگر تفکرات سے خالی ہوتا یہ خیال آکر قبضہ جما لیتا۔ کئی بار تو یوں ہوتا کہ وہ اچھا بھلا رات کو سونے لگتا مگر دیر تک دشت خیالات میں بھٹکتا رہتا۔ رات کے پچھلے پہر جب نور کی آواز آتی تو خیالوں سے جاگ اٹھتا۔ عالیہ جلد از جلد نور کو خاموش کرواتی کہ کہیں اصغر غصہ نہ ہو جائے وہ نور کو لوری دیتی تو اسے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اصغر کو تھپکی دے کر سلا رہی ہو۔

اصغر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس کو وراثت میں باپ کی طرف سے جائیداد بھی ملی تھی۔ وہ بظاہر ایک تعلیم یافتہ انسان دکھائی دیتا تھا۔ وہ دفتر میں کام کرتے کرتے کب اس خیال میں ڈوب جاتا اسے پتہ ہی نہ چلتا۔ اکثر لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کے دیے ہوئے سے خوش نہیں ہوتے اصغر بھی ان میں سے ایک تھا۔

لمحہ لمحہ کر کے تین سال بیت گئے مگر اس خیال کا لمس آج تک اس کا پیچھا کرتا تھا وہ اس سے کبھی پیچھا نہیں چھڑا سکا۔ تاہم جب اسے نور کا خیال آتا وہ اپنے آپ کو کوسنے لگتا اور کہتا رب نے میرے ساتھ ایسا ظلم کیوں کیا۔

اصغر کی ماں نسیمہ محلے بھر کے لیے باجی تھی۔ شام کے وقت محلے کی بیٹھک نسیمہ کے گھر لگتی۔ سب کے مسئلوں کا حل باجی نسیمہ کے پاس ہوتا تھا لیکن باجی نسیمہ خود کس کرب میں مبتلا تھی اس کا حل کسی کے پاس نہ تھا۔ ان کی ہمسائی نصرت نے کئی بار مشورہ دیا کہ اصغر کی دوبارہ شادی کرا دو۔ نسیمہ سے اپنے بیٹے کا دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا اسے یوں محسوس ہوتا جیسے یہ بات اس کے بیٹے کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے کیوں کہ پہلے وہ بہت ہشاش بشاش رہتا تھا۔

جب سے نور کی پیدائش ہوئی وہ ہر کسی سے اکتایا اکتایا رہتا جیسے دنیا میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی ہو اسے دنیا سے کوئی سروکار ہی نہ ہو سروکار تھا تو بس اپنی خواہش سے۔ عالیہ یہ سب دیکھ دیکھ کر سوکھے پیڑ کی مانند بن گئی تھی وہ پیڑ جس کی جڑیں دم توڑ چکی ہوں اور انہیں کوئی بھی پانی سیراب نہ کر سکے۔ نسیمہ نے اصغر کی دوسری شادی کا فیصلہ کر ہی لیا۔ پہلے پہل اصغر راضی نہ ہوا بعد میں ماں کے بے حد اصرار پہ راضی ہو گیا۔

ماں نے اسے اپنے واسطے دیے کہا میں پوتے کا منہ دیکھے بغیر مرنا نہیں چاہتی مجھے پوتے کا منہ دیکھ لینے دو تم عالیہ کو فارغ کر دو تمہارے لیے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے ایک سے ایک لڑکی مل جائے گی تم جوان ہو، مالدار ہو بھلا تمہیں کوئی کیوں انکار کرنے لگا جھٹ سے اپنی بیٹی بیاہ دے گا۔ اصغر نے عالیہ کے سامنے راضی نامے کے کاغذ رکھے اور کہا اس پر دستخط کر و ورنہ میں تمہیں فارغ کر دوں گا۔ عالیہ نے بہت منت سماجت کی اپنی بیٹی کے واسطے دیے مگر اصغر ٹس سے مس نہ ہوا اور عالیہ نے مجبوراً دستخط کر دیے اور اس اجازت نامے کی بدولت عائشہ بیاہ کر اصغر کے گھر آ گئی۔

عائشہ میں کوئی خاص کشش نہ تھی وہ عام لڑکیوں کی طرح تھی۔ عائشہ پورے گھر میں یہاں وہاں منڈلاتی رہتی۔ اس کے آنے سے عالیہ اور نور کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا جیسے وہ اس گھر کا کبھی حصہ تھیں ہی نہیں۔ مایوسی عالیہ کے اندر رچ بس گئی تھی اس کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی وہ جب بھی نور کی طرف دیکھتی تو اس کی امید بندھ جاتی۔ عائشہ نے رفتہ رفتہ اس گھر میں اپنے قدم مضبوطی سے گاڑ لیے اور عالیہ کی جگہ اس گھر میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔

عائشہ کا جادو اصغر کے سر چڑ کر بولنے لگا۔ عالیہ اس گھر کی دہلیز کسی صورت بھی پار نہیں کرنا چاہتی تھی بیشک اصغر نے دوسری شادی کر لی تھی وہ اس سے بھی سمجھوتہ کر چکی تھی مگر حالات اس کے تابع نہیں تھے۔ اصغر اس سے دست بردار ہو گیا اور اسے نہ چاہتے ہوئے بھی اس گھر کی دہلیز چھوڑنی پڑی۔ عالیہ نے یہ سنا تو چکرا کر رہ گئی خود کو کوسنے دیے اب کس کے سہارے جیوں گی پہاڑ جیسی زندگی کس کے سہارے کٹے گی؟ عالیہ نے نور کو دیکھا تو کلیجہ منھ کو آ گیا۔

روتے ہوئے اس کو سینے سے لگا لیا۔ اس معصوم نے کون سا گناہ کیا ہے کہ اسے بھی میرے ساتھ سزا ملی اس کا باپ تو زندہ ہے۔ دکھ کی گہری جھیل میں اس کا بدن ڈوب گیا۔ بہر حال اسے یہاں سے جانا تھا اس نے اپنے وجود کی کرچیوں کو سمیٹنا شروع کیا اور سامان رخصت باندھ لیا۔ وہ نور کو لے کر اس گھر اس شہر سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی۔ عالیہ تمام خیال، تمام رشتے ناتے، ہر تعلق چھوڑ کر لاہور جا بسی۔ اب اس کا واحد سہارا نور تھی۔ نور ہی اس کے جینے کا مقصد تھی۔

عالیہ کی زندگی میں مشقت لکھی تھی سو وہ اسے مل گئی۔ عالیہ کے کاندھوں پر دو لوگوں کا خرچ تھا اس خرچ کو اٹھانے کے لیے عالیہ نے ایک قریبی نجی سکول میں ملازمت شروع کردی۔ عالیہ کو وہاں سے اتنی رقم ملتی تھی کہ مشکل سے ان کا گزارہ ہوتا تھا۔ عالیہ نے رہائش کا بندوبست اپنا زیور فروخت کر کے کیا تھا۔ حالات نے عالیہ کو بہت مضبوط بنا دیا تھا۔ اس نے زمانے کے سرد و گرم حالات کا سامنا ہمت سے کیا۔

رفتہ رفتہ کئی سال بیت گئے اصغر کے بالوں میں سفیدی آ گئی اس کے چہرے کا ماس ڈھلک گیا اس کی جوانی سفید چاندی کی نظر ہو گئی۔ نسیمہ نڈھال ہو گئی وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئی وہ تو اپنا وجود سنبھالنے کے بھی قابل نہ رہی اس انتظار میں نہ جانے کب وہ رخصت ہو گئی پتہ ہی نہ چلا۔ اصغر نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں مگر ان سے بھی اولاد نہ ہوئی اصغر نے انہیں بھی طلاق دے دی۔ نصرت اصغر سے ملنے آئی تو مارے دکھ کے کراہ کر رہ گئی اس کو نسیمہ سے خاص انس تھا اور اصغر نسیمہ کی نشانی تھی اس لیے اس کو اصغر کی حالت دیکھ کر دکھ ہوا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ شکر ہے باجی نسیمہ اس دنیا سے پہلے ہی رخصت ہو گئی ورنہ بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر ان کا کیا حال ہوتا۔

بیس برس بیت گئے اصغر کی یہ حالت دیکھ کر عائشہ کو فکر ہوتی مگر وہ کیا کرتی وہ اس کو اولاد نہ دے سکی صرف اس کے بارے میں فکرمند ہو سکتی تھی۔ اصغر نے ان بیتے برسوں میں عالیہ کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام ہی رہا۔ اسے کئی بار عالیہ اور نور کا خیال آتا اور وہ اپنے آپ میں شرمندہ ہو جاتا کیوں کہ واحد وجہ جس کے باعث اس نے اپنی خوشیوں کا سودا کیا تھا وہ آج بھی ادھوری تھی۔

ایک دعوتی تقریب میں اس کی ملاقات عالیہ کے کسی رشتے دار سے ہوئی وہ اسے دیکھ کر رک گیا۔ اس نے اصغر سے کہا تم بہت بدنصیب ہو تم نے عالیہ کو چھوڑ دیا اب تو نور بھی بڑی ہو گئی ہے۔ اس کی ماں نے اسے بہت مضبوط بنایا ہے۔ اصغر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہاں رہتی ہے؟ عالیہ کیسی ہے؟ نور کیسی ہے؟ ایک سانس میں اتنے سوال یہی تو وہ سوال تھے جو اسے بیس سالوں سے اندر ہی اندر ڈس رہے تھے۔ پہلے وہ شخص مسکرایا پھر اس نے بغیر کسی حیلے بہانے کے عالیہ کا پتہ بتا دیا۔

اصغر اسی دن لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس کے لیے یہ سفر طے کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ جیسے ہی وہ موجودہ پتے پر پہنچا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اس کا ایک ایک قدم بہت بھاری ہو گیا اس کا بوجھ تھا کہ مزید بڑھ گیا۔ وہ اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے کسی مزدور کی وزنی بوری اٹھا کر اس پر لاد دی گئی ہو۔ پتہ پڑھ کر وہ اس دروازے پر رک گیا اس دروازے پر دستک دینے کے لیے ہمت باندھ رہا تھا ہمت جٹا کر اس نے دروازے پر دستک دی۔

اندر سے آواز آئی کون؟ یہ آواز سن کر اس کی ہمت جواب دے رہی تھی یہ آواز بہت آشنا تھی اس آواز کو پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ اس نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ بیس سالوں کا کرب سمٹ کر اس ایک لمحے میں آ گیا تھا۔ عالیہ کی آواز میں کپکپاہٹ اس کے بالوں میں سفید چاندنی اور اس کی آنکھوں پر موٹے شیشے کی عینک آ گئی تھی۔ عالیہ کے ذہن پر آج بھی اصغر کی تصویر نقش تھی۔ اتنے میں اندر سے نور کی آواز آئی امی باہر کون ہے کب سے دروازے پر کھڑی ہیں۔ جواب ناپا کر نور بھی دروازے کے پاس آ گئی۔ نور جب آئی تو اس نے سوالیہ نظروں سے ماں کی جانب دیکھا۔ ماں کے لب تو کب سے خاموش تھے بمشکل ہی وہ لب کھول پائی۔ نور تم نے پہچانا نہیں یہ تمہارا باپ ہے۔

نور کے لیے یہ لمحہ ناقابل یقین تھا بیس سال اس شخص کی وجہ سے اس نے محرومی میں گزارے تھے۔ جب نور کو اس کی ضرورت تھی وہ نہیں تھا۔ نور کا چہرہ سپاٹ تھا وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کیا تاثر دے۔

اصغر بے ساختہ پکارا نور میری بیٹی اور نور کو بازو سے تھام لیا۔ نفرت، محرومی، شرمندگی، احساس جرم کون سا خیال تھا جو اس وقت اس کے ذہن میں وارد نہیں ہوا تھا اس کا پورا جسم کانپ اٹھا۔ مارے ندامت کے کٹے ہوئے شجر کی مانند ان کے سامنے ڈھیر ہو گیا۔

Latest posts by اقصیٰ رانا، سرگودھا (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقصیٰ رانا، سرگودھا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *