سب کہہ دو، بول دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشانت سنگھ کی وفات پر سوشل میڈیامیں ایک کہرام سا برپا دیکھا۔ ایک وہ سلیبرٹی تھے دوسرا بالکل ینگ اور زندگی سے بھرپور دکھائی دیتے۔ کیا زندگی سے بھرپور دکھائی دینے والے سچ میں ایسے ہی نظر آتے جیسے ہماری آنکھیں انھیں دیکھ رہی ہوتی اور جیسے ہمارا ذہن انھیں قبول کر رہا ہوتا؟ ایک لاحاصل بحث کا سمندر تھا، جس میں قصور وار الفاظ خودکشی حرام ہے، ایک ہندو کی موت پر مسلمان ایسے کیوں دکھی ہو رہے؟ پاکستانیوں کو کشمیر میں ہونے والے مظالم یاد رکھنے چاہیے۔

مسلمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم میں سے کتنے اپنے گھروں سے اپنے باپ بیٹوں کو کشمیر جہاد کے لیے بھیجتے ہیں؟ کتنے سچے مسلمان انڈین گانے نہیں گنگناتے؟ مذہب و دشمنی سے قطع نظر ہم کتنے لوگ جذبہ انسانیت کے تحت چل رہے ہیں۔ یہاں یہ بحث نہیں کہ وہ ہندو تھا۔ اس نے حرام موت لی۔ نجانے کتنے نوجوان چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں کسی بھی ملک سے ہوں وہ موت کو اتنا آسان ہدف کیسے سمجھ لیتے ہیں؟ جتنے زیادہ لوگ آپ کو جانتے ہیں اتنے ہی لوگ آپ کے ہونے نا ہونے کا ماتم کرتے ہیں۔

وہ سلیبرٹی نہ ہوتا چند لوگ ہوتے اس پر بات کرنے والے۔ پھر ہندو مسلم، پاکستان انڈیا کی بات نہ ہوتی۔ بہت سارے ٹین ایجرز نے اس خودکشی سے متاثر ہو کر زندگی کو مشکل اور موت کو آسان سمجھا ہو گا۔ کتنے ہی دل اداس بھی ہوئے ہوں گے ۔ کروڑوں کے مجمعے میں بھی انسان تنہا ہوتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ آپ کا دل ہے جس تک آپ نے کسی کو رسائی دی ہی نہیں۔ تمام ماہر نفسیات کا کہنا ہے سب باتیں کہہ دینے والی نہیں ہوتی۔ مگر آج کے دور میں۔

جب لوگ نہ بھی موجود ہوں ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر آ کر آپ اپنی بھڑاس نکال دیں۔ خاموشیوں کی آواز سننے کا ایک دور ہوا کرتا تھا۔ اب خاموشیاں نہ گنگناتی ہیں نہ مسکراتیں، بلکہ روح کے جنگل میں بڑے بڑے شگاف ڈال دیتیں ہیں۔ جہاں ویرانیاں ڈیرے جما کر سب چین و سکون ہڑپ کر لیتی ہیں۔ کہہ دو، بول دو، مقابلہ کرنا سیکھو۔ آج کی نوجوان نسل کو حساسیت کے پرانے دور سے باہر لانے کی ضرورت ہے۔ انھیں سمجھانا ہو گا جب آپ پرفارم کر سکتے ہو دنیا کو اپنا ٹیلنٹ دیکھا سکتے ہو تو اپنے من مندر میں چھپے زخموں کو خود ہی نہ پوجے جاؤ۔

انھیں باہر نکال پھینکو۔ دنیا تب تک خوفزدہ کرتی ہے جب تک ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا نہیں سیکھ لیتے۔ جب ہم اپنی ذات کو مسلسل دوسروں کی طرف سے فیور ملنے کی امید میں نظر انداز کرتے ہیں۔ جب ہم خود کے خود ہی دوست نہیں رہتے۔ مسائل بتانے والا بے شک مسائل کے حل نکالنے والے سے قد میں چھوٹا ہوتا ہے۔ مگر موت کو ہرانے میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ آپ کے پاس بہت سارے پلیٹ فارمز ہیں۔ اپنے اندر کی گھٹن کو باہر لائیے، کہیے، بولیے، لڑیے۔ پہلی دفعہ بولنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ پہلا قدم ہی امتحان میں ڈالتا ہے، پہلی آواز ہی دھیمی نکلتی ہے مگر بعد میں سب ڈر، خوف، جھجک دور ہو جاتے ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *