ایک خط: کشمیر میں چلتی گولی کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ننھی گولی سلام

آج تیرے دادا دھماکہ خان نے پورے شہر پہ لرزہ طاری کر دیا۔ نقصان اور لاشیں دیکھ کر فوراً تو یاد آئی۔ توروز ہی چلتی تھی مگر اتنا نقصان تو نے کبھی نہ کیا، لیکن تیرا دادا بڑا سفاک نکلا تجھ سے بھی بڑ کر۔ وہ بڑے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تو چھوٹی تھی تجھے ایسی حرکتیں شوبھا نہیں دیتی۔ تو بھی اپنے دادا کی طرح نقصان کرتی ہے۔ ہرے بھرے اور ہنستے مسکراتے گھروں کو اندھیرے اور تاریکی میں دھکیل دیتی ہے، اور کئی پر تو آدھی بستی کو اجاڑ دیتی ہے۔

تیرے چلنے کی آواز سے ہم کئی سالوں سے آشنا ہیں۔ جب تیری آواز کانوں سے ٹکراتی ہے سناٹا اور سکتہ طاری ہونے کے بعد ہمیں کسی کے مرنے اور گھائل ہونی کی فکر جینے نہیں دیتی۔ تو ابھی چھوٹی ہے، تیری سوچ کچی ہے اس لیے تو یہ نہیں دیکھتی کہ جس کو تو لگنے والی ہے وہ کسی باپ کا اکلوتا نور نظر، کسی خاندان کا اکلوتا کماؤ، کسی بہن کا اکلوتا بھائی، کسی ماں کا اکلوتا بیٹا، ہو سکتا ہے۔ لگنے سے پہلے کچھ تو سوچا کر۔ تجھے ترس نہیں آتا ماؤں کا غم سے پھٹا سینہ دیکھ کر، بہنوں کا رونا اور چیخنا چلانا تجھے نظر نہیں آتا، باپ کی بے بسی تجھے نظر نہیں آتی، آخر یہ سب کیوں کرتی ہے تو۔

تیرے خاندان نے یہاں بہت تباہی مچائی۔ تیرا پورا قبیلہ توپ، دھماکہ، گن، پیلٹ، ٹیر گیس یہاں آباد ہیں۔ تو ان میں سب سے چھوٹی ہے لیکن سب سے خطرناک، سفاک اور قاتل۔ تم نے اور تمہارے قبیلے نے یہاں خوب تباہی مچائی لیکن زیادہ نقصان تو ہی کرتی ہے۔ زیادہ جانیں تو ہی لیتی ہے۔ تو ایک ہی سکینڈ میں ہنستے کھیلتے گھر کو برباد کر دیتی ہے۔ ان کے چہروں کی ہنسی اور آنکھوں کا نور چیھن لیتی ہے۔ کچھ تو خدا کا خوف کر۔

پہلے پہل تو بندوق سے نکلتی تھی تو ٹانگوں پہ لگتی تھی مگر اب تو حد ہی کررہی ہو۔ دل کے قریب لگتی ہو، کبھی پیٹ چیرتی ہو، کبھی سینہ چاک کرتی ہو، کبھی سر پھاڑ دیتی ہو، کبھی چہرہ زخمی کرتی ہو غرض سارے کا سارا جسم چھلنی کرتی ہو۔ ہم کشمیریوں کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں تو نے اپنا قابل دید نشان نہ چھوڑا ہو۔ ۔ !

نقش جب زخم بنا زخم بھی ناسور ہوا
جا کے تب کوئی مسیحائی پہ مجبور ہوا

اس بات کا تجھے احساس کبھی تو ہوتا ہوگا کہ تو بے گناہوں کا سینہ چیرتی ہے۔ تیرے آنسو بھی نکلتے ہو ں گئے جب تو کسی معصوم کی زیست چھین کر صف ماتم بچھاتی ہے۔ تیرے بھی جذبات مجروح ہوتے ہوں گئے جب تو ایک دو نہیں دس بارہ جانیں ایک ساتھ لیتی ہے۔ تجھے بھی درد ہوتا ہوگا نہتے کشمیروں کے معصوم اور جواں سینوں کے پار ہوتے وقت۔ لیکن تو بھی تو مجبور ہے۔ تیرا چلانے والا ظلم اور جابر ہے۔ تیری طرح وہ بھی کانپ جاتا، تیری طرح درد محسوس کرتا، تیری طرح احساس رکھتا تو شاید یہ حالات نہ ہوتے اور اتنا خون نہ بہتا۔ تو نے بہت جانیں لیں خدا راہ اب چلنے کے بعد اپنا راستہ بدل لیا کر کسی بے گناہ پہ اب نہ لگا کر۔ اتنی ماؤں کی بددعائیں مت لے جہنم میں جلے گئی۔

رہنا چاہتے ہیں تم سے دور
زخموں سے چور
کشمیری

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معشوق احمد (کولگام) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *