جذباتی ذہانت کہ سادہ ذہانت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”مکالمہ“ کی ویب سائٹ پر کامران طفیل صاحب کی تحریر ”جذباتی ذہانت“ پڑھی۔ جذباتی ذہانت پر لکھتے لکھتے، کامران صاحب کو ایک نہیں دو کالمز لکھنے پڑے کیوں کہ قارئین نے جذباتی ذہانت کو سادہ ذہانت سے مکس کر دیا تھا۔ جیسے آج کل موت کی خبرکے بعد پہلاسوال ہو تا ہے کرونا سے یا سادہ؟

سادہ ذہانت کوناپنے کا معیار ”آئی کیو ٹسٹ“ ہو تا ہے جب کہ جذباتی ذہانت کا ”ای کیو ٹسٹ“ ہو تا ہے یہ آئی اور ای کے فرق سے بات کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے۔ ۔ ۔

جیسا کہ کامران صاحب نے اپنے کالم میں اس بات کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ جذباتی ذہانت کس بلا کا نام ہے تو انہی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اعلیٰ جذباتی ذہانت رکھنے والے لوگ، چاہے ان کی سادہ ذہانت اوسط درجے ہی کی کیوں نہ ہو، اس دنیا سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ وہ لوگوں کی نفسیات سے بہت جلدی واقف ہو جاتے ہیں۔ ایک چیز تو ہے انسان کو جان جانا، یہ کام تو ہوا عام ذہانت کا، دوسری چیز ہے انسانوں کے جذبات، ان کی کمزوریاں، اور پھر ان کو جوڑ توڑ کر اپنے مقاصد کے لئے کیسے استعمال کرنا۔ اور پھر ایسا سب کر کے استعمال شدہ انسانوں کو (جن سے کچھ اور نہیں نکالا جا سکتا) سائیڈ پر کر دینا اور آگے کو چل پڑنا اور یہ سائیکل بس یونہی چلتا ہی رہتا ہے۔

ایسے لوگ آپ کو اپنے دوستوں میں، رشتہ داروں میں نظر آئیں گے، آج سے انہیں کمینہ نہیں بلکہ جذباتی ذہین کہا کریں۔ سیاست دانوں اور ڈپلومیٹس میں اس کی بھر مار ہو تی ہے کہ ان کے پیشوں کی بھی یہی ڈیمانڈ ہے۔

لوگوں کی نفسیات سمجھ کر انہیں خوش کر نے، رلانے اور اپنا دیوانہ کر نے میں سیاست دانوں میں ہمیں جو جذباتی ذہانت کی سب سے اچھی مثال نظر آتی ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو کی ہے۔ جب وہ جنرل ا یوب کو ”ڈیڈی ڈیڈی“ کہتے انہیں ”کتا کتا“ کہلائے جانے تک لے کر جا سکتے ہیں تو سوچیں ان کی ہر طرح کے لوگوں (ایک آمر فوجی، اور عوام) کے جذبات اور نفسیات سے کھیلنے کی طاقت اور صلاحیت کتنی زیادہ تھی۔

”جذباتی ذہین“ لوگ اپنے شکار کو اس وقت تک شکنجے میں کسی بھی طرح جکڑے رکھتے ہیں (اور یہی ان کا اصل کمال ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہوتے ہیں کہ شکار کے لئے چارہ کیا ہے، وہ چارہ اسے ڈالتے رہتے ہیں، وہ محبت، توجہ، ہمدردی یا کچھ بھی ہو سکتا ہے)۔ استعمال شدہ مال کو سائیڈ پر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دیتے ہیں، نہیں! بلکہ اپنی ضرورت کے حساب سے اپنی زندگی میں لوگوں کے مقام کی ادل بدل کرتے رہتے ہیں۔

کس کو کہاں رکھنا ہے۔ ایسے ذہین اگر آج آپ کے پیروں میں بیٹھ کر معافی مانگ رہے ہیں تو یہ نہ سوچئیے کہ وہ کل کو بھی آپ کو منانے یا کھونے کے ڈر سے یہی کریں گے نہیں بلکہ ان کا ہر ہر عمل ان کی ضرورت سے بندھا ہوتا ہے اور یہ ضرورت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ مالی، جذباتی، صرف باتیں کرنے کے لئے ہی ایک کمپنی کی صورت، شہرت کے لئے آپ کے سہارے کی ضرورت، یعنی جب بھی کسی بھی طرح کی ضرورت سے آپ اس کے ساتھ بندھے ہیں، وہ آپ کو کہیں جانے نہیں دیں گے۔ بلکہ ہلنے تک نہیں دیں گے۔ اگر ان کو مزید سمجھنا ہے تو جونک کو دیکھ لیں۔ وہ اپنی بقا کے لئے آپ کا خون چوستی رہے گی۔

یہ لوگ نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی اچھی طرح سمجھتے اور ہینڈل کر سکتے ہیں۔ اپنے کالم میں کامران صاحب نے یہی لکھا ہے اور جو لوگ بہت زیادہ ذہین ہونے کے باوجود خود کشی کر لیتے ہیں وہ حالات کو انسان کو، خود کو سمجھ تو جاتے ہیں، مگر چونکہ ہینڈل نہیں کر پاتے اس لئے وہ سمجھ کر اور زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ اور کئی دفعہ حالات اور ان کا دماغ ان کے ہاتھ سے یوں نکلتا ہے کہ وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ انہوں نے مصطفی زیدی، ثروت حسین اورحالیہ سوشانت کی مثال سے سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے۔

جذباتی طور پر ذہین لوگ، اس دنیا میں، کامیاب لوگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے حالات جتنے بھی سنگین ہوں انہیں خود کو سنبھالنا اور دوسرے کو الو بنانا خوب آتا ہے۔ جسے عرف عام میں کہا جاتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر گدھے کو باپ بنانا۔ برا وقت آئے تو پاؤں میں بیٹھ جاؤ، اچھا وقت ہو تو ماتھے پر آنکھیں رکھ لو۔ یہ بھی ہر کوئی نہیں کر سکتا، بات نہیں ہوتی ایسا صرف جذباتی طور پر ذہین لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ دوسرے ذہین اپنی انا اور خودداری کو ہی ہینڈل نہیں کر پاتے۔ عام لوگوں میں مروت ہو گی، لحاظ ہو گا، دوسرے کے احساسات کا احساس ہوگا مگر ایسے ذہینیوں فطینوں میں تو عزت نفس بھی تب برآمد ہو تی ہے جب انہیں دوسرے انسان کی رتی برابر ضرورت نہ ہو، ورنہ یہ کس چڑیا کا نام ہے ان کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ ہو گا۔

جذباتی طور پر ذہین لوگوں کو آپ عرف عام میں ”یو زرز“ کہہ سکتے ہیں اور یہ لوگ خود غرضی کے سب سے اوپر والے پیمانے میں فٹ آتے ہیں۔ میں نے ایسے ہی لوگوں پر ایک نظم لکھی تھی تب یہ نہیں پتہ تھا کہ ایسے لوگوں کو جذباتی ذہین کہا جاتا ہے اس لئے عنوان کمینہ رکھا تھا۔

کمینہ
جو کام پڑنے پر پیروں میں ڈھیر ہو جائے
اور کام نکل جانے پر ماتھے پر آنکھیں رکھ لے
وہ یہ مطلب جان کے حیران تھی
افسوس اے لڑکی!
ٹیکنالوجی کے اتنے جدید دور میں
اور اتنی ذہین فطین ہو نے کے باوجود
تمہیں کمینگی کا مطلب نہیں پتہ تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *