اکثر شب تنہائی میں

بیس اکتوبر نادر کاکوروی کی برسی ہے۔ 111 ویں برسی۔ اگر آپ کہیں کہ ”کاکوروی کون؟“ تو اس استعجاب میں آپ تنہا نہیں ہیں۔ منشی علی خان المعروف نادر کاکوروی 1857 لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انہیں زندگی میں بھی کم ہی پذیرائی نصیب ہوئی۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ جنہیں دنیا جانتی ہے وہ ان کے معترف ہیں۔ اقبال نے ایک ہی شعر میں دو نابغہ شخصیات سے انس کا اظہار کیا ہے۔ نادر و نیرنگ ہیں اقبال میرے ہم

Read more

”جلیبی بائی“ اور ”چپلی دراز“

عام تصور یہی ہے کہ تمام آلام و مصائب زندگی کے ساتھ منسوب ہوا کرتے ہیں اور سانس کی ڈور ٹوٹتے ہی انسان بھی مکت ہوجاتا ہے اور اس کے قائم کردہ تصورات و تشکیلات بھی زمانے کی نظر سے محو ہو جاتے ہیں۔ یہ تصور حال ہی میں ایک خوردنی تیل بنانے کی کمپنی نے اپنی اشتہاری مہم کے ذریعے خاک میں ملا دیا اور ایک ہی ہلے میں دو متوفین، یعنی حضرت امیر خسرو اور اردو کا جنازہ دوبارہ نکال دیا۔ آخر الذکر کے سلسلے میں احباب کی دھوم دھام کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔

زیربحث کمپنی اس سلسلے میں عادی مجرمان کے زمرے میں تو آتی ہی ہے، ”اشتہاری مجرم“ بھی ہے۔ چند برس قبل اسی کمپنی نے ایک اشتہار چلایا تھا، جس کا بنیادی نعرہ تھا ”کشمیر پر سودا؟ ہو ہی نہیں سکتا!“ یہ چونکہ کشمیر کی نقشہ پر فتح سے قبل کا دور تھا، اس لیے مطعون نہ ٹھہرا اور یوں ان تاجران ملک و ملت کا حوصلہ بڑھ گیا اور اب کی بار انہوں نے اردو زبان کی ترویج کی آڑ میں امیر خسرو جیسے درویش صفت شاعر کا کلام اپنے تیل کی کڑاھ میں جلیبی کی صورت میں تلوایا ہے اور لوگ باگ اسے خسرو ہی کے کلام سے مرصع کاغذوں میں لپیٹے، ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں اور ہر ایک دو ”دندی“ (بائٹ کا اردو ترجمہ ہو نہیں سکتا لہٰذا پنجابی سے گزارہ کیجئیے ) کے بعد اردو کی اس عظیم نشاۃ ثانیہ پر کمپنی ہذا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اردو کی اس جلیبی بائی درگت پر مبنی اشتہار کے مبصرین اور سراہنے والوں میں عدیم المثال شاعر ناصر کاظمی کے صاحبزادے باصر کاظمی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

Read more

مرزا توشہ اور ماموں عوام

مرزا اسد اللہ خان غالب کو مرزا نوشہ بھی کہا جاتا ہے اور خلق انہیں چچا بھی پکارتی ہے۔ بڑی دھج کے آدمی تھے، لہٰذا نوشہ یعنی دلہا یا جواں سال بادشاہ جتنا ان پر جچتا ہے کم ہی لوگوں کو زیب دیا ہوگا۔ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف پر نیب نے مقدمہ دائر کر رکھا ہے کہ ان دونوں حضرات نے مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توشہ خانہ

Read more

زمانہ سازی و نقشہ بازی

”ناک نقشہ“ محاورے کا استعمال عموماً رشتہ لے کر آئے مہمانوں کے سامنے ٹرالی دھکیلتی یا چائے، سموسے سے لدی ٹرے بردار لڑکی کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔ مہمان اگر ازغیبیئے نہ ہوں تو یہ تبصرہ زیر نمائش فریق کے باورچی خانے میں لوٹ جانے کے بعد ہوتا ہے اور اگر ہوں (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ) تو موجودگی ہی میں داغ دیا جاتا ہے۔ پہلی دوسری پیشی پر ہی لڑکیاں سمجھ جاتی ہیں کہ اس انتحاب محاورہ

Read more

ڈی جی خان ۔۔۔ شرطیہ نیا پرنٹ

ابتداء ہی سے واضح کردیں کہ اس مضمون کا عنوان قدرے مبالغہ آمیز ہے اور اس کا کوئی دور پرے کا بھی تعلق ڈیرہ غازی خان سے نہیں۔ ہمارا ارادہ قاری کو قرون اولیٰ اور عصر حاضر کے گھمرول میں ایسا الجھانا ہے کہ ہم اپنی بات بھی کہہ جائیں اور ڈی جی خان کی گرفت میں بھی نہ آئیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ ایک زمانے میں، تمام عہدوں سے زیادہ شہرہ ایک حساس ادارے کے ڈی۔ جی یعنی

Read more

بھائی جان گیٹ

کوئی بھی تنازع یا سکینڈل اس وقت تک قبولیت عام یا ذرائع ابلاغ کی توجہ کا حقدار نہیں ٹھہرتا جب تک اس میں ”گیٹ“ کا لفظ نہ شامل کر دیا جائے۔ یہ رجحان ”واٹر گیٹ“ سے امریکہ میں شروع ہوا تھا، ہم غریبوں کو ”میمو گیٹ“ تک انتظار کرنا پڑا۔ بیچ میں وکی لیکس نے ہمارا محاورہ بگاڑنے کی کوشش کی اور چند حلقے (ویسے ”ہلکے“ بھی ٹھیک ہے، اردو اور پنجابی میں ) ”ڈان لیکس“ کی ترویج میں لگ

Read more

بدیسی جپھا اور ملتانی قینچی سے Rape of the Lock تک

گزشتہ دنوں پے در پے عجیب و غریب واقعات رو نما ہوئے جن میں بظاہر تو کوئی تعلق یا ربط دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر عقل پر پردہ پڑ جائے تو کوئی بھی بوا بھسکو بن سکتا ہے۔ بوا کے بارے میں کہاوت ہے کہ ”بھسکو نے سلیقہ کیا میانی پھاڑ گھٹنے پر پیوند سیا۔“ ہم خیر کسی چیر پھاڑ کا تو ارادہ نہیں رکھتے، بس ان کی طرح اچھے، بھلے کام کو بگاڑنے میں ید طولیٰ کے حامل ہیں۔

Read more

”ٹیاں میرے باپ کی“

”چت بھی میری، پٹ بھی میری“ تک کا محاورہ تو ہم نے سنا تھا، مگر یہ ”ٹیاں میرے باپ کی“ گزشتہ دنوں ایک ہندی فلم میں سنا۔ ٹیاں ایک نہایت چھوٹی کوڑی کو کہتے ہیں جو اس محاورے کے موجد کے مطابق، ٹاس کے دوران فضا میں اچھالی جانے کے بعد زمین پر سیدھی بھی کھڑی ہو جائے تب بھی جیت ان ہی کی ہوگی۔ ایسی فصاحت ہماری مقامی زبانوں ہی کا امتیاز ہے (انگریزی میں ہماری محدود معلومات کے مطابق ٹیاں کا کوئی مترادف نہیں ) کیونکہ ایسی ہٹ دھرمی بھی ہمارے ہی مزاجوں کا خاصہ ہے۔

گورا بہت تیر مارے گا تو کہے گا ”ہیڈز آئی ون، ٹیلز یو لوز“ ، مگر صاحب یہ ڈھٹائی کہ ٹیاں کھڑی بھی ہو جائے تو نتیجہ ہمارے حق میں ہوگا، اس کے بیان کے لیے ایک اور مقامی زبان کے محاورے کا سہارا لینا پڑے گا، سندھی میں کہتے ہیں ”بے حیائی، بادشاہی“ ، گویا جب آدمی بے شرم ہی ہو جائے تو اسے کسی بھی دعوے یا اقدام سے روکا نہیں جا سکتا۔

Read more

سادات فیصلہ کریں

گزشتہ دنوں معروف ریڈیو صحافی اور کالم نگار رضا علی عابدی صاحب کے ایک بیان پر بہت تنازع ہوا۔ جناب نے منہ بھر کے ”شہید رانی“ پر الزام لگا دیا کہ انہوں نے ”گاؤں، دیہات کے لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بھرتی کیا۔ بس اس کے بعد جھاڑو پھر گئی۔“ یہ بیان پی آئی اے کے طیارے کو کراچی میں پیش آنے والے حادثے کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔ ایک اور قابل احترام شخصیت جناب افضال سید نے فیس بک پرایک پوسٹ بڑھائی جس میں لوگوں کو چینی کے بجائے گڑ استعمال کرنے پر مائل بلکہ مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی، لکھا تھا ”اس سے آپ کا پیسہ 15 سرمایہ داروں کی جیب میں جانے کے بجائے پچاس لاکھ غریب کسانوں کو ملے گا۔“

ہم ان دونوں اصحاب کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اول تو یہ دونوں سادات میں سے ہیں اور دوم ہماری ان سے واقفیت نہیں ہے اور ہم ہر اجنبی کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں (واقف کار موقع ہی نہیں دیتے ) ۔ ہم خود ہی عابدی صاحب سے پوچھ لیتے ہیں کہ انہوں نے گاؤں دیہات کے لوگوں کو اور وہ بھی ”شہید رانی“ کی رعایا کو اتنا بے وقعت اور کم مایہ جانا کہ وہ جہاز اڑانے جیسا چھوٹا کام کریں یا ان کا اشارہ ائر کنٹرول ٹاور اور جہاز کے تکنیکی عملے کی جانب تھا جن کی مبینہ غفلت کی وجہ سے حالیہ فضائی حادثہ پیش آیا؟ عموماً مسافروں کو کیبن کے عملے سے سابقہ پڑتا ہے، اور وہ اگر گاؤں، دیہات کے ہوں بھی تو زیادہ سے زیادہ ان کی شخصیت، لب و لہجہ یا جذبہ خدمت گزاری کی کمی عابدی صاحب کی شہری حساسیت پر گراں گزر سکتی ہے، جس سے آسمان تو گر سکتا ہے، جہاز نہیں۔

Read more