عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی اور پاکستان میں اس کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزرشتہ رات اچانک وذرات خزانہ کی جانب سے ایک غیر متواقع نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں پٹرولیم مصنوعات میں 25 روپے سے زائد تک اضافہ کرکے حکومت وقت نے غریب عوام پر پٹرول بم گرادیا۔ ایک طرف تو حکومت یہ کہتی رہتی ہے کہ ہمارا مقصد عوام کو ہر ممکن ریلیف دینا ہے مگر یہاں تو مہینہ ختم ہونے کا بھی انتظار نہ گیا 26 جون کی رات کو عوام پر ایک نیا بوجھ ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس ماضی میں ہم اگر میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی دیکھیں تو بدقسمتی سے عوام تک ریلیف نہ پہنچ سکا۔

جب جب بھی پاکستان میں پٹرول سستا ہو ا تب سے پٹرول مافیا بہت حرکت میں نظر آنے لگا آہستہ آہستہ پٹرول شارٹ ہونے لگا اور پٹرول پمپس بند ہونے لگے غریب عوام جس کے لیے حکومت نے قیمتوں میں نمایا ں کمی کی تاکہ سہی معنوں میں عوام کو ہر طرح سے ریلیف ملے گا خاص کر ٹرانسپورٹ اور مہگائی میں کمی آئے گی مگر یہ صرف و صرف حکومت کی اپنی اچھی سوچ اور نیت تھی جو کہ بندنیتی صرف سوچ کی حدیک ہی محدود رہی۔

حقیقی تبدیلی تب دیکھنے میں جب پٹرول پمپس سے جو پٹرول غائب تھا اور عوام مارے مارے پھر رہے تھے اور وہاں راتوں رات پٹرول بھی ملنا شروع ہوگیا کیوں کہ پٹرول کی نئی قیمت کا اطلاق رات 12 بجے ہونا تھا اور حکومت نے رات 10 بجے کے قریب نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ۔ یقینی بات ہے آج پاکستان میں پٹرول کی قلت نہیں ہوگی کیوں کہ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے تک اضافہ ہوا ہے جس سے تمام پٹرول پمپس مالکان کا کاروبار اچھے سے چلے گا اور غریب عوام پھر سے چکی میں پسیں گے۔

اور یہ ہی ان کی دلی تمنا تھی کہ کاروبار گھاٹے میں نہ جائے چاہے حکومت جتنی مرضی عوام کے حق میں بات کرے۔ کاروباری معزز اشخاص کے بارے میں ایک بات سن رکھی ہے جس کا اطلاق آج دیکھنے میں آیا ہے کہ ”کارباری بندہ کبھی نقصان میں نہیں جاتا چاہے جتنی مرضی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے“ الحمدللہ ہمارے کاروباری شخصیات نے اس بات کو حتمی رنگ دے کر سنی سنائی بات کو حقیقت کے قریب تر کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قمت عالمی منڈی میں تیل کی قمت بڑھنے پر حکومت کو اس کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا۔ مگر یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قمت میں کمی ہوتی تو یکم تاریخ کا انتظار کیوں کیا جاتا تھا؟ تب بھی تو فل وقت نوٹیفکیشن جاری کے کے رات 12 بجے کے بعد اطلاق ہونا چاہیے تھا مگر ایسا ہوتا نہیں تھا اور شاید نہ کبھی ہو، جب تک پٹرول مافیا اس ملک میں موجود ہے۔ کروناوائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اس بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قمت انتہائی کم ہوئی حتیٰ کہ تاریخ کے پچھلے کئی سالوں بعد اتنی کمی ہوئی۔ بہرحال پاکستان جیسے غریب ملک میں اتنی کم قیمت میں تیل ملنا کسی عید کی خوشیوں سے کم نہیں۔ پیچھے 4 ماہ میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں حیرت انگیز 38 روپے تک کمی کی جس کے بعد 114 سے 76 روپے فی لٹر تک پٹرول ملتا رہا۔

مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں حکومت بے بس اور مافیا طاقتور نظر آتی ہے۔ جیسے ہی پٹرول سستا ہوتا گیا مافیا حرکت میں آتا گیا۔ پہلے آہستہ آہستہ پٹرول ملنا بند ہوا پھر پٹرول پمپس ہی بند ہوتے گئے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت وقت نے عوام کو ریلیف دینے کی بہت کوشش کی خاص کر وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے۔ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قمتوں میں کمی ہوتی تو اس کا ریلیف عوام تک پہچا دیا جاتا تھا مگر یہ پٹرول مافیا ایسا ہے جو کہ حکومت کے اقدامات اور احکامات کو ہوا میں اڑا رہے ہیں۔

اگرہم اس خطے کی بات کریں تو یقین کریں کہ اس وقت بھی پاکستان میں سب سے سستا پٹرول مل رہا ہے زیادہ دور کی بات نہ کرے تو اگر ہم اپنے ہمسایہ ملک بھارت کی بات کریں تو وہاں پٹرول کی قیمت پاکستانی 150 روپے فی لٹر ہے ایسی طرح بنگلہ دیش کی بات کریں تو وہاں پٹرول کی قمت 130 روپے فی لیٹر ہے۔ مگر جب عالمی منڈی میں تیل کی قمت میں کمی ہوئی تو ہمارے اس خطے کے ممالک نے پٹرول کی قیمت کم کرنے کی بجائے مہنگا کیا۔ بھارت نے تو 10 روپے فی لٹرتک قیمت میں اضافہ کر دیا اور اس طرح وہاں کی حکومت نے اپنے خزانے بھرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

مگر پاکستان کی حکومت نے پٹرول ریلیف دیا تاکہ مہنگائی میں کمی آئے اور عوام کو حقیقی ریلیف ملے مگر حکومت کا یہ اندازہ بہت بری طرح ناکام رہا، ریلیف ملا تو ضرور مگر غریب عوام کو نہیں بلکہ مافیا کو۔ حکومت اور عوام کے درمیان مافیا آئی اس اس نے سارا کا سارا ریلیف خود لے لیا۔ اس حد تک کہ حکومت بے بس نظر آنے لگی کیوں کہ حکومت کے اندر ہی کچھ کالی بھٹریں ہیں جو مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیسے اس مافیا کے خلاف ایکشن لیتی ہے کیا اس ایکشن کے دوران حکومت کی اپنی کالی بھیڑوں کا راز فاش ہوگا؟ کیا اب بھی وزارت پٹرولیم کے بغیر ہی وزارت خزانہ سے وٹیفکیشن جاری کر دی گی؟ حکومتی اس اقدام کی امید ہی رہے گی۔ کیونکہ ”امید پر دنیا قائم ہے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply