چین 1985 میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چینی مرد اور عورت مل جل کر گھریلو ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔

قارئین، گزشتہ بلاگز میں واقعات کی ترتیب آگے پیچھے ہو گئی تھی لیکن اب ہم ترتیب سے آگے بڑھیں گے۔ ستمبر 1985 میں چین جانے سے پہلے ہم نے چین کی عورتوں کے بارے میں بہت پڑھا تھالیکن آنکھوں دیکھی بات کا لطف ہی کچھ اور ہے، مثال کے طور پر ہمارے ہاں سے دوگنی لمبی بس کو جب ایک نو عمر خاتون ڈرائیور چلا رہی ہو اور دوسری بس سے آگے نکلتے ہوئے دوسری ڈرائیور کو زبان چڑھا دے تو وہاں مشاہدہ مطالعے سے زیادہ پر لطف ثابت ہوتا ہے۔

چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، اس لئے ظاہر ہے کہ یہاں کی پبلک بسوں، تفریح گاہوں اور خریداری کے مراکز میں بے پناہ رش ہوتا ہے لیکن چینی عوام ہجوم میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بسوں میں مرد عورتیں ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں۔ سڑکوں پر مرد عورت مزدور ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں یا فارغ اوقات میں وہیں سڑک پر بیٹھ کر گپیں مار رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے شوہر صاحب نے اپنے چینی دوستوں کی دعوت کی تو ان کے ایک چینی دوست ہماری مدد کے لئے آگئے اور مزے دار چینی کھانے تیار کیے ۔ آخر میں ہم نے بڑی احسان مندی کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کیا تو بے نیازی سے بولے ”میں تو روزانہ گھر میں کھانا بناتا ہوں“ ۔ ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ”تو پھر آپ کی بیگم کیا کرتی ہیں“ ہم سے رہا نہ گیا۔ ”وہ دوسرے کام کرتی ہیں، کپڑے دھوتی ہیں، بچی کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔“ سادگی سے بولے۔

اب ہم کیا کہتے کہ پاکستان میں ایسے کام مردوں کی شان کے خلاف سمجھے جاتے ہیں، پاکستان میں تو مرد صرف دفتر جا کے ہی پورے گھرانے پہ احسان کرتا ہے۔ جب کہ پاکستانی عورت ملازمت بھی کرتی ہے اور گھر کے سارے کام بھی کرتی ہے، یہ بات جب ہم نے چینی مردوں کو بتائی تو وہ بہت حیران ہوئے کیونکہ جس طرح چینی عورت کے گھر بیٹھ کر آرام کرنے کا تصور موجود نہیں اسی طرح مرد کے گھر کے کاموں کو ہاتھ نہ لگانے کا تصور بھی موجود نہیں۔ مرد اور عورت مل جل کر گھریلو ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔

اس زمانے میں غیر ملکیوں کی ضروریات اور ذوق کے مطابق اشیا آسانی سے نہیں ملتی تھیں۔ ضروری نہیں تھا کہ آپ جو چیز خریدنے جائیں، وہ آپ کو مل بھی جائے۔ بچوں کے ملبوسات کا مطلوبہ سائز میں ملنا اور بھی مشکل تھا۔ وہاں رہنے والے پرانے غیر ملکی نئے آنے والوں کو یہی مشورہ دیتے تھے کہ اگر کبھی آپ کو دکان پر اپنی پسند یا ضرورت کی چیز نظر آ جائے تو اسی وقت خرید لیں کیونکہ دوبارہ جب آپ اس دکان پر جائیں گے تو آپ کو وہ چیز نظر نہیں آئے گی۔

ان ہی دنوں ’چائنا ڈیلی‘ میں بھی اس بارے میں مضمون شائع ہوا تھا کہ چین کے بڑے شہروں میں خریداروں کو یہ شکایت تھی کہ دکانوں پر ضرورت کی چھوٹی موٹی اشیا نہیں ملتی ہیں۔ ویسے ہم اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ فرینڈشپ ہوٹل میں جہاں ہمارا قیام تھا، اس کے اندر بھی دکانیں تھیں اور باہر بھی چھوٹی چھوٹی مارکیٹس تھیں جہاں ہماری ضرورت کی بیشتر اشیا مل جاتی تھیں سوائے گوشت کے اور گوشت کا یہ تھا کہ دکاندار آپ کو گوشت کا ٹکڑا پکڑا دیتا تھا۔

آپ گھر آکر تختہ اور چھری سنبھالیے ، گوشت کی جھلی صاف کیجئے اور بوٹیاں بنائیے۔ ہمارے میاں کو جب پہلی مرتبہ گھر لا کر گوشت صاف کرنا پڑا توپریشان ہو گئے اور پاکستان کے قصائیوں کو یاد کرنے اور ان کی تعریفیں کرنے لگے۔ ہماری تو ہنسی چھوٹ گئی۔ ہائے اگر پاکستان کا کوئی قصائی سن لیتا تو اسے تو شادیٔ مرگ ہو جاتی۔

چین پہنچ کر پاکستانی کمیونٹی کی خواتین سے ہم نے جس چینی خاتون کا ہم نے سب سے زیادہ ذکر سنا، وہ ”آئی“ تھی۔ ’آئی‘ چینی میں خالہ کو کہتے ہیں، دوسرے لفظوں میں وہ پاکستان کی ’ماسی‘ Domestic Help یاMaid تھی۔ ’آئی‘ گھریلو کاموں کے لئے بھی رکھی جاتی تھی اور چھوٹے بچے کو سنبھالنے کے لئے بھی، وہ ہر اتوار کو چھٹی کرتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کی کچھ سالانہ چھٹیاں بھی ہوتی تھیں۔ ہر پاکستانی خاتون کا اس حوالے سے تجربہ مختلف تھا۔ کسی کی آئی بہت خوش مزاج اور تعاون کرنے والی ہوتی تھی اور کسی کو نک چڑھی آئی سے واسطہ پڑتا تھا۔

ہم بچوں کو روز شہر کے دوسرے کنارے پر واقع سفارت خانے کے اسکول چھوڑنے اور لانے جاتے تھے، اس لئے بہتر یہی سمجھا کہ اسکول میں ”مقامی“ استاد کی حیثیت سے ملازمت کر لی جائے۔ وہاں کا سفارت خانہ اپنی جگہ ایک چھوٹا سا پاکستان تھا۔ اور اسکول کو آپ چھوٹا سا اسلام آباد کہ لیجیے کیونکہ زیادہ تر اساتذہ وہیں سے آئے تھے۔ دیار غیر میں ان کا دم ہمارے لئے غنیمت تھا ورنہ وہاں نا مانوس شکلیں اور نا قابل فہم زبان سن سن کر ہمارا تو برا حال ہو گیا تھا۔ اسکول گئے تو پاکستانی استانیوں کو دیکھ کر آنکھوں میں تراوٹ آ گئی۔ (جاری ہے )

اس سیریز کے دیگر حصےتھین آن من چوک پر چینی طلبا کا احتجاج1985 کا چین: دانشور کی بحالی اور معیشت کی نمو
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *