شاہد علی خان: قرنطینہ کی کورونا ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے چینی خاتون ووین کے بارے میں علم تھا، کہ اس نے ڈائری لکھی اور چینی حکومت اسے گرفتار کرنے کے لئے حیلے بہانے تلاش کرنے لگی۔ کورونا ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ایک صدی کے بعد ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ انسان اور فطرت ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ فطرت کی فتح ہوتی ہے۔ اور انسان از سر نو زندگی کے تماشے میں الجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اور یہ جنگ انسان کی طرف سے شروع کی گیی ہوتی ہے۔ جب وہ چٹانیں کاٹتا ہے۔ درختوں کی قطار پر حملہ کرتا ہے۔ پہاڑوں کو روندتا ہے اور فضا میں آلودگی کے غبارے چھوڑتا ہے۔ پھر فطرت کا انتقام شروع ہوتا ہے۔ اور فطرت کے انتقام کے آگے انسان بے بس و مجبور ثابت ہوتا ہے۔

روسی تھیئٹرکی ڈائریکٹر کیریل سیربرینکوف کو ماسکو میں ڈیڑھ سال تک نظربند رکھا گیا۔ اس درمیاں انھوں نے ایک ویڈیو تیار کی کہ ’جب آپ گھر کے اندر پھنس جائیں تو پاگل ہونے سے کیسے بچیں۔ آزادی کے غیر متوقع لمحات کا جائزہ لیتے ہوئے یولیا تسویتکوفا نے ایک سروے میں بتایا ’جب انھوں نے مجھے 500 میٹر کی چہل قدمی کے لیے جانے دیا تو وہ بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی آزادی کی طرح لگا لیکن اس نے اس بات کا اور بھی احساس دلایا کہ میں باقی اوقات کتنی غیر آزاد ہوں۔‘

شاہد خان کا روزنامچہ پڑھتے ہوئے میرے پیش نظر سب سے پہلا احساس آزادی کا تھا۔ پھر مجھے اس ویڈیو کی یاد آیی کہ جب آپ گھر میں قید ہوں تو پاگل کر دینے والے احساس سے کیسے آزادی حاصل کریں۔ جس دوران شاہد خان نے کورونا کے تعلق سے اپنے تجربوں کو بیان کیا، ان سے پہلے مجھے کوئی ایسی ڈائری یا کتاب نظر نہیں آیی جس میں کسی کورونا مریض نے اپنے تجربوں کے نچوڑ کو پیش کیا ہو۔ یہ ڈائری کسی ناول سے کم نہیں جس میں زبان کا لطف بھی ہے اور کورونا کے تعلق سے ہر طرح کی تفصیلات و معلومات کا ذکر بھی۔ اسے آپ قرنطینہ کے دنوں کی ڈائری بھی کہ سکتے ہیں، ایک خوبصورت سفر نامہ بھی اور ایک ایسا ناول جس کو آپ آخری سطر تک پڑھنے کے لئے بے قرار ہو جاییں۔ اس فن پارہ میں پرآشوب دنیا کا عکس بھی ہے، رشتوں کی گرمی بھی، خوف کا احساس بھی، جینے کی تمنا بھی، مذہب بھی، ایمان کی پختگی بھی، اور موت کو شکست دینے کا عزم بھی۔

ووین چین کے وہان شہر میں رہتی تھی۔ جب وہ کورونا کی شکار ہوئی تو اس نے اپنی آنکھیں کھلیں رکھیں۔ اسنے سیاست سے سسٹم تک کا جائزہ لیا اور ایک ڈائری لکھی۔ اس ڈائری نے چین میں طوفان برپا کر دیا۔ حکومت اس ڈائری کی مخالف تھی۔ مگر یہ ڈائری اس عالمی سیاست کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی تھی، جس نے پوری دنیا اور عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ میں جب شاہد علی خان کی ڈائری سے گزر رہا تھا، مجھے بار بار ووین کی ڈائری کی یاد آ رہی تھی۔ پہلے ووین کی ڈائری کے بارے میں کچھ بات کر لیں۔ ووہن کو کورونا وائرس نے گھیر لیا، چینی مصنف فینگ فینگ گھبرایی نہیں۔ اس کو اپنی موت کا غم نہیں تھا۔ وہ کروڑوں کی زندگی بچانے کے لئے ڈائری لکھنا چاہتی تھی۔ ، اس کے آبائی شہر نے روز مرہ کی زندگی کو ہلاکت میں تبدیل کر دیا۔ وہان موت کی تاریخ لکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عالمی وبائی بیماری تیسری چوتھی دنیا تک پھیلتی چلی گیی۔ ان کی آن لائن ڈائریپر اعتراضات ہوئے لیکن وہ ڈائری لاکھوں چینی قارئین کے لئے مطالعہ کا حصہ بن گئی۔ فینگ فینگ، جو اپنے پیدائشی نام، وانگ فینگ کے بجائے اپنے قلمی نام کا استعمال کرتی ہیں، نے کہا کہ وہ حکومت کے لئے کسی خوشامدی کی حیثیت سے، یا ایک اضطراب آمیز نقاد کے طور پر کاسٹ نہیں ہونا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں، اسٹریٹ کلینرز اور پڑوسیوں کی مدد کرنے والے پڑوسیوں کی بہادری کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک گواہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا، ”اگر مصنفین کو تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تومیں ان سے کہونگی کہ وہ وقت کی گواہی کے لئے خود کو تیار کریں۔

مجھے یقین ہے، شاہد علی خان نے یہی کیا اور ایک ایماندار مصنف کے طور پر وقت کی گواہی کے لئے خود کو تیار کیا۔ ان حالات میں جب سامنے موت کا جلوہ ہو، مگر آپ اپنی تحریر کے ذریعہ دوسروں کی جانیں بچانا چاہتے ہوں تو مجھے کہنے دیجئے، کوئی بھی انسانی جذبہ اس سے زیادہ عظیم نہیں ہو سکتا۔ شاہد علی خان کی فکر بھی یہی تھی کہ کمزورانسان آخر کس طرح زندہ رہتا ہے؟

جب چین کے شہر ووہان میں کرونا سے متاثرہ مریض نے ڈاکٹر لی سے اپنی زندگی کے آخری ڈوبتے سورج کو دیکھنے کی حسرت آمیز التجا کی، تو اس خبر کو کئی اخبارات نے ”آخری ڈوبتا سورج“ کے عنوان سے شایع کیا۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈوبتے سورج اور سیاہ رات کے بعد بھی صبح نو کے نور سے نئی کائنات جنم لیتی ہے۔

پوری دنیا میں، ایک بہت بڑی آبادی قرنطینہ، یعنی طبی حراست، یا طبی نظر بندی کا شکار ہیں۔ جب یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی، اس بیماری نے یورپ کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہم لاک ڈاؤن سے باہر کے مناظر دیکھتے ہیں تو چین سے کینیڈا اور دیگر ممالک ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ جو اقدامات ان ممالک میں اٹھائے گئے، کیا ہم صفر برابر بھی اپنے ملک میں تصور کر سکتے ہیں؟ اس وبا کو لے کر بارہ تیرہ برس پرانی کچھ کتابوں کی مثالیں دی جا رہی ہہیں۔ کچھ پرانی ہالی وڈ فلموں کو یاد کیا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ فلمیں شاہد علی خان نے دیکھیں یا نہیں۔ ۔ ۔ ووین کی ڈائری ان کے مطالعہ کا حصہ بنی یا نہیں، مگر جو کچھ انہوں نے تحریر کیا، وہ ان سب سے مختلف ہے۔ یہ ایک ذہنی طور پر بیدار انسان کا کرشمہ ہے جو انسانی جانوں کا تحفظ چاہتا ہے۔ شاہد علی خان اس بات سے واقف ہیں کہ کورونا کے گزر جانے کے بعد انسانی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی ایگی۔ لیکن آج کا انسان بھی ارنسٹ ہیمنگوے کے بوڑھے آدمی سے کم نہیں جو سمندر کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ البئر کیمو کے ناول دی پلیگ کے آخر میں ڈاکٹر ریو کہتا ہے، پلیگ ختم ہو گیا، مگر پلیگ دوبارہ اے گا۔ اسی طرح سموئل بیکٹ کے ناول ویٹنگ فار گوڈو میں بتایا گیا کہ انسان کی زندگی بھی عجیب ہے۔ خوف و دہشت کے ماحول میں بھی ایک انتظار قائم رہتا ہے۔

انتظار اب بھی باقی ہے۔ مگر یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بھی زندگی کورونا کے ساتھ ہی گزرے گی۔

شاہد علی خان اس رمز سے آشنا ہیں کہ تاریخ اکثر خود کو دہرایا کرتی ہے۔ وہ نفسیاتی معالج کی طرح خوف کے کینسر کو انسانی جسم سے الگ کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ یہ کتاب کورونا سے جنگ بھی ہے اور مستقبل کا اشاریہ بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply