عمران خان چند نشستیں بچانے کی فکر کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی حکومت معاشی محاذ اور کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکام تھی ہی لیکن اس کے لیے نئی آزمائش اتحادیوں کی ناراضی کی صورت میں بھی سامنے آ چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر حکومت سے اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ ایک اور اتحادی شاہ زین بگٹی نے بھی اسی قسم کا اشارہ دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب چہار اطراف سے حکومت پریشانیوں میں گھری ہے اندرونی طور پر وزرا کی چپقلش بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اس اختلاف کی خبریں خود وفاقی وزیر فواد چوہدری کے انٹرویو کے باعث زبان زدعام ہیں۔

فواد چودھری نے اپنے انٹرویو میں حکومت کو اپنے ہی رہنماؤں کی کشمکش کے باعث ناکام قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر اور دیگر رہنماؤں کے باہمی کشیدہ تعلقات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں۔ جس کے بعد منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی تلخی دیکھی گئی۔ اس تلخی کی ابتدا وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کی جانب سے وزیراعظم کے سامنے فواد چودھری کی شکایت سے ہوئی۔

اسی کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر فیصل واڈا نے اسد عمر، رزاق داؤد اور ندیم بابر پر تنقید کی اور وزیر اعظم سے کہا کہ حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کے لیے قابل غور بات ہے کہ صرف کابینہ کے اراکین ہی حکومت پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ تحریک انصاف کے دیگر اراکین اسمبلی بھی ناراض ہیں۔ کئی اراکین نے پچھلے دنوں پٹرول کی قلت اور وزراء کی ایوان سے مسلسل غیر حاضری پر نہ صرف ایوان میں بلکہ ٹی وی پر بھی تنقید کی۔

ان حالات میں عمران خان کو چاہیے وہ گورننس بہتر بنانے پر توجہ دیں مگر ان کی غیر سنجیدگی برقرار ہے۔ گزشتہ دنوں طویل عرصے کے بعد وہ قومی اسمبلی تشریف لائے لیکن وہاں انہوں نے نئی بحث چھیڑ دی۔ سمجھ نہیں آتا بجٹ سیشن میں ایبٹ آباد واقعے پر لب کشائی کی ضرورت انہیں کیوں پیش آئی۔ تسلیم کہ عمران خان دہشتگردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ کو اپنا سمجھنے سے انکاری رہے ہیں۔ کئی بار انہوں نے ڈرون حملوں کو ہمارے ہاں تخریب کاری کا بنیادی سبب قرار دیا۔ دھرنا دے کر انہوں نے نیٹو سپلائی روکنے کی بساط بھر کوشش بھی کی۔ خوں خرابہ روکنے کے لئے امن مارچ لے کر وہ وزیرستان کی جانب بھی نکلے اور انہوں نے بارہا کہا وہ اقتدار میں ملتے ہی اس جنگ سے نکلنے کا اعلان کر دیں گے۔ لیکن ان کا یہ دعوی سراسر غلط ہے کہ وہ اس جنگ میں شمولیت کے اولین مخالف تھے۔ خان صاحب بجا فرماتے ہیں کہ غذائی قلت کے سبب ملک کے چالیس فیصد لوگوں کی دماغی نشونما درست نہیں ہو پائی مگر، بقیہ ساٹھ فیصد آبادی کی یاد داشت ابھی سلامت ہے۔

ہر شخص کو اچھی طرح یاد ہے کہ امریکا سات اکتوبر 2001 میں افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ جبکہ تیس اپریل 2002 کو افغان جنگ کا طوق اپنے گلے ڈالنے والے جنرل مشرف کے اقتدار کے لئے ریفرنڈم منعقد ہونے تک عمران خان مشرف کی حمایت میں ووٹ مانگتے رہے۔ بہت بعد میں جب مشرف نے ان کو اوقات سے بڑھ کر حمایت کا صلہ دینے کے بجائے حصہ بقدر جثہ آفر کیا تو وہ روٹھ گئے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور دنیا ان کی بات کو کس نظر سے دیکھے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں افغان جنگ میں شریک ہوکر ہمیں نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارا ریاستی موقف دنیا کے سامنے کیا ہے اور سوچے سمجھے بغیر اس قسم کی گفتگو کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔

بجٹ سیشن میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم کا تمام فوکس معیشت پر ہونا چاہیے تھا لیکن اس متعلق انہوں نے پھر وہی گھسی پٹی باتیں دہرائیں جو وہ دو سال سے کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کون سی حکومت کہتی ہے کہ اسے ملک مستحکم حالت میں ملا۔ کب سنا کہ کسی نے کہا ہو ہمیں خزانہ بھرا ملا ہے اور کار مملکت چلانے میں کوئی دشواری نہیں۔ کیا عمران خان کو حکومت سنبھالنے سے قبل معیشت کی درست حالت زار کا اندازہ نہیں تھا۔ زر مبادلہ کے ذخائر اور گردشی قرضوں کا حجم ان سے مخفی تھا۔ یہ علم نہیں تھا کہ تیل کی ادائیگیوں، تنخواہوں اور پنشنز کے لیے سرمایہ موجود نہیں۔ یہ بات ان سے مخفی تھی کہ دو ماہ کے اخراجات سے بھی قلیل رقم خزانے میں باقی ہے۔ علم نہیں تھا برآمدات اور درآمدات کے درمیان تناسب خطرناک حد پھلانگ چکا ہے، اور وہ نہیں جانتے تھے کہ بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے ہر سال 8 سے 10 ارب ڈالر چاہیے ہوا کریں گے۔ عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل اپنے ٹی وی انٹرویوز میں کئی بار رو چکے تھے کہ پچھلی حکومتوں کی کرپشن کی وجہ سے گزشتہ 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا۔

ملک میں جمع ہونے والے 4 ہزار ارب روپے کا نصف حصہ ماضی کے حکمرانوں کے لیے ہوئے قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے اور جو رقم بچتی ہے اس سے ملک کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں۔ ساتھ ہی وہ فرمایا کرتے تھے کہ عوام ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ انہیں حکمرانوں پر بھروسا نہیں، وہ حکومت میں آکر آٹھ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرکے دکھائیں گے۔ اسی طرح اگلے ہی سانس میں وہ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ بھی کیا کرتے تھے۔

اب ایک طرف وہ اپنے وزراء کو کہہ رہے ہیں کہ چھ ماہ میں کارکردگی بہتر نہ کی تو معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے دوسری طرف خود وہی پرانا راگ الاپ رہے ہیں۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کی بجائے یا تو وہ مان لیں کہ وہ بھی عوام کو بیوقوف بناتے رہے یا پھر اپنی نا اہلی تسلیم کریں۔ دو سال بڑا عرصہ ہے اب مزید اس بہانے کے پیچھے نہیں چھپا جا سکتا کہ تحریک انصاف کو ملک لولی لنگڑی حالت میں ملا تھا۔ اہلیت اگر ہوتی اس عرصہ میں حکومت کم از کم پولیس کلچر میں اصلاح، عدالتی نظام کو غریب اور امیر کے لئے مساوی، ملک سے اقربا پروری و بدعنوانی کا خاتمہ اور بے روزگار کے لیے روزگار کی فراہمی تو یقینی بنا سکتی تھی۔

حالت یہ ہے کہ تحریک انصاف دو سال کے دوران اپنا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کر سکی۔ اس کا سبب منصوبہ بندی کا فقدان اور حکومتی وزراء کا اپنے فرائض کی بجائے دیگر معاملات میں دلچسپی لینا ہے۔ پی ٹی آئی نے جن وعدوں پر الیکشن جیتا آئندہ انتخابات میں اسے حساب دینا ہو گا۔ ماضی میں ہر برائی کا ملبہ تحریک انصاف ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر ڈال دیتی تھی اب مگر ہر کوئی جان چکا ہے کہ حکومت کی ناکامی کی وجہ اس کی صفوں میں نظم و ضبط کا فقدان اور وزراء کی نا اہلی و غیر سنجیدگی ہے۔ عمران خان کے پاس اب بھی وقت ہے گورننس پر بھرپور توجہ دے کر معاملات بہتر بنالیں تو شاید چند سیٹوں کی امید بن جائے ورنہ الزام تراشی پر ہی زور رہا تو اگلے انتخاب میں اترنا تو دور کی بات اس سے پہلے ہی تحریک انصاف کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *