کثیر درجاتی کائنات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان اپنے ارد گرد کی دنیا کو جاننے کے عمل میں مصروف ہے۔ اس کا یہ عمل ایک عرصے سے جاری ہے۔ شاید تب سے جب انسان چوپائے سے دو پایہ بنا۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ اس کے ہاتھ آزاد ہوئے اور دماغ کو وہ قوت ملی جو باقی چوپایوں کا نصیب نہیں تھی۔ اس نے سوچنا شروع کیا اور دنیا کے مظاہر میں ایک ترتیب دیکھی جسے وقت کے ساتھ ساتھ قوانین فطرت کی شکل دی جانے لگی۔ قدیم تہذیبوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی قریب تک کا انسان اس خیال تک پہنچ چکا تھا کہ یہ ساری کائنات کسی ایک اصول کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ یہ ایک اصول کبھی ایک خدا کے تصور کی صورت سامنے آیا تو کبھی فلسفیوں کے نظریات میں عقل اول یا مادہ کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ یہ ایک اصل ہی ہے جو کثیر صورتیں بن کر انسانی حواس میں اپنا ظہور کرتی ہے۔

لیکن ایک بات جو تمام مذاہب، نظام ہائے فکر و سائنس وغیرہ میں مشترک رہی ہے وہ یہ ہے کہ واحد اصول کا اطلاق کائنات کے تمام حصوں میں ہر درجے پر ہوتا ہے۔ یعنی چھوٹی سے چھوٹی شے سے لے کر بڑی سے بڑی شے تک ایک ہی قانون فطرت لاگو ہے جو کہ تبدیل نہیں ہوتا۔ لیکن گزشتہ صدیوں میں مغرب میں ہونے والی سائنسی ترقی کے باعث انسان نے جدید آلات ایجاد کیے اور جدید ذرائع تحقیق سے انتہائی تفصیلی سطح تک کائنات میں رواں دواں قوتوں اور ذرات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک اصول کا اطلاق ساری کائنات پر یکساں ہونا مشکوک ہے۔ حقیقت جیسے کہ ہم جانتے ہیں ہر درجہ وجود میں یکساں نہیں ہے۔

اس کی ایک عام مثال انسانی آنکھ ہے۔ انسانی آنکھ کی ساخت اس طرح کی ہے کہ وہ سورج یا کسی بھی ماخذ سے آنے والی شعاؤں کو مکمل طور پر قبول نہیں کر سکتی۔ جسے ہم روشنی یا رنگ کہتے ہیں وہ برقی مقناطیسی شعاؤں کا ایک خاص حصہ ہے۔ سات رنگوں کی یہ دنیا (اگرچہ رنگ سات نہیں بلکہ سات سے کہیں زیادہ ہیں ) ہماری انسانی آنکھ کا کرشمہ ہے۔ سفید پوش برفیلے پہاڑ، سر سبز چراگاہیں، نیلا آسمان، سرخ گلاب، گلابی ہونٹ اور سیاہ زلفیں انہی برقی مقناطیسی شعاؤں کی بدولت ہمیں نظر آتی ہیں۔

لیکن اگر کسی انسان نے انفراریڈ دیکھنے والی عینکیں لگائی ہوں تو اسے یہ سب ایسا نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح ایکسرے کی شعاعیں ہمیں چیزوں کو مختلف شکل میں پیش کرتی ہیں۔ سائنسدانوں نے ان شعاؤں کو بالواسطہ دیکھنے اور محسوس کرنے کے آلات ایجاد کیے ہیں جن سے ان کی موجودگی کا اندازہ ہوتا ہے اور اب تو ان آلات کو جدید تکنیکی آلات میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ سائنس میں اس حقیقت کا ادراک برقی مقناطیسی لہروں کی ایک خاصیت یعنی ویولینگتھ (Wavelength) کی مقدار سے کیا جاتا ہے۔

ویولینگتھ ایک خاص فاصلہ ہے جو کسی خاص لہر Periodic Wave) ) کے دو قریبی اتار یا چڑھاؤ (Crests or troughs) کے درمیان مکانی بعد کا مقداری تعین کرتا ہے۔ اگر یہ فاصلہ ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے کے برابر ہو تو پھر ان لہروں کا اثر انسانی آنکھ محسوس کر سکتی ہے۔ اس سے چھوٹی یا بڑی ویولینگتھ کو ہماری آنکھیں بلاواسطہ نہیں محسوس کر سکتیں۔ یہی ویولینگتھ ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کس قدر چھوٹی یا بڑی شے کو دیکھ سکتے ہیں۔

اصول یہ ہے کہ جس قدر چھوٹی شے کو دیکھنا ہو اسی قدر چھوٹی ویولیگنتھ کی روشنی استعمال کرنی ہوگی۔ یہی وجہ ہے ایٹم یا مالیکیول یا بیکٹیریا وغیرہ کو دیکھنا انسانی آنکھ کے بس میں نہیں ہے کیونکہ وہ اس قدر چھوٹے ہیں کہ اتنی چھوٹی ویو لینگتھ انسانی آنکھ کے لئے قبول نہیں ہے۔ اس مثال سے واضح ہے کہ حقیقت صرف وہی یا اس قدر ہی نہیں ہے کہ جو عام انسان اپنی آنکھوں سے محسوس کرتا ہے۔ بلکہ انسانی آنکھ سے ماوراء بھی ایسے رنگ ہیں جن کو دیکھنے کے لئے ہمیں کوئی اور ”آنکھ“ چاہیے ہوگی۔

مختلف اشیاء کی لمبائی یا حجم مختلف ہوتا ہے۔ ایسے ہی فاصلے بھی کم یا زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ چیزوں کا فاصلہ ہم سے بہت زیادہ ہے جیسے دور دراز کے ستارے یا سیارے اور کہکشائیں جن میں کچھ کو ہم دیکھ لیتے ہیں لیکن اکثر کو ہم عام آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ اس لئے ہم نے دوربین ( Telescope ) ایجاد کی اور اس میں ایسے آلات نصب کیے جو دور کی اشیاء سے آنے والی ویولینگتھ کو دیکھ سکتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہم اب تک کائنات کا 10 کی طاقت 27 میٹر حصہ دیکھ سکے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ایک کے عدد کے بعد 27 زیرو لگا دیے جائیں جہاں ہماری گنتی بے نام ہوجاتی ہے۔ یاد رہے یہ وہ فاصلہ ہے جو ہماری دوربین ماپ سکتی ہے۔ کائنات کا سائز دراصل اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ کیونکہ اس سے دور کی روشنی ایک محدود رفتار (تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ) سے سفر کرنے کے باعث ابھی ہم تک نہیں پہنچ رہی۔ مزید یہ کہ کائناتی پھیلاؤ بھی انہیں ہم سے مزید دور کر دیتا ہے۔ جیسے اگر کسی دوسرے سیارے کی خلائی مخلوق ہمیں دیکھ رہی ہو اور وہ ہم سے 65 ملین میل دور ہو تو اسے زمین پر ڈائنوسار نظر آرہے ہوں گے!

ایک کہکشاں کا سائز 10 کی طاقت 20 میٹر ہے اور ہمارے شمسی نظام کا سائز 10 کی طاقت 13 میٹر جبکہ زمین کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ 10 کی طاقت 7 میٹر ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمارے انسانی جسم سے لے کر کائنات کی آخری حد تک فطرت کے قوانین یعنی کشش ثقل یا برقی مقناطیسی قوت ایک ہی طرح سے یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ نیوٹن کی میکانیات اس بڑے پیمانے کی اشیاء میں حرکت کے اصول مہیا کرتی ہے۔ اس سے چاند ستاروں اور سیاروں کی حرکت و ساخت کا تعین ہوتا ہے۔ اسی طرح آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت کشش ثقل کی نئی تعبیر کرتے ہوئے ہمیں بگ بینگ اور بلیک ہول وغیرہ کا پتا دیتا ہے۔

چھوٹے پیمانے کی اشیاء کو جانچنے کے لئے ہمیں چھوٹی ویولینگتھ کی شعاؤں جیسے ایکسرے وغیرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ خوردبین کی ایجاد سے ہم جانداروں کے اجسام میں موجود جرثومے اور خلیے دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ایکسرے کی مدد سے چیزوں کی اندرونی ساخت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر ہمیں ایسی اشیاء ملتی ہیں کہ جن کا سائز ایک میٹر سے بھی انتہائی کم ہے۔ ایک ایٹم کا اوسط سائز 10 کی منفی طاقت 10 میٹر ہے یعنی ایک میٹر کے ایک اربویں حصے کے برابر ہے۔ اس سے چھوٹے سائز کا الیکٹران 10 کی منفی طاقت 15 میٹر ہے۔ اکیسویں صدی میں ایسے تجربات کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں یہ ویولینگتھ 10 کی منفی طاقت 19 میٹر تک ہوگی۔

اتنی چھوٹی ویولینگتھ کو دیکھنے کے لئے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہے کیونکہ توانائی اور ویولینگتھ معکوس تناسب میں ہوتی ہیں۔ اس لئے اتنی زیادہ توانائی کی خاطر ہم نے بڑے بڑے سائز کی لیبارٹریاں قائم کی ہیں جن میں انتہائی پیچیدہ تکنیک و آلات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک مشین جنیوا اور فرانس کی سرحد پر زیرزمین تیار کی گئی ہے جسے ایل ایچ سی ) ( Large Hadron Collider کہا جاتا ہے۔ اسے یورپ کے 27 ممالک نے مل کر تیار کیا ہے۔

یہ ایک دائروی شکل کی مشین ہے جس کا محیط 27 کلومیٹر ہے۔ اس کی اندرونی سرنگوں کا درجہ حرارت منفی 271 ڈگری سیلسیس کے قریب ہے۔ پورے دائرے میں 192 کے قریب جدید ترین مقناطیس (Spuermagnet) نصب ہیں۔ سرنگوں کے اندر مصنوعی خلا (vacuum) پیدا کیا گیا ہے جس کا دباؤ زمینی فضا کے مقابلے میں کھربوں گنا کم ہے تاکہ شدید گرمی میں ہونے والے تعاملات کسی گڑبڑ کا شکار نہ ہوں۔ اس میں پروٹان گھومتے ہیں اور وہ ایک سیکنڈ میں 11000 مرتبہ چکر لگاتے ہیں۔

پھر کسی مقام پر پروٹان ٹکراتے ہیں اور ان کی اندرونی ساخت واضح ہوتی ہے۔ 2012 ء میں ہگز نامی ذرے (Higgs Boson) کی دریافت اسی مشین کا ایک بڑا کارنامہ تھا جس نے تین اساسی قوتوں کی یکجائی کے نظریے کو تقویت دی۔ یہ پتا چلتا ہے کہ یہ پروٹان اور اسی طرح نیوٹران سمیت دیگر کئی ذرات مزید چھوٹے ذرات یعنی کوارک (Quarks) سے مل کر بنے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے نظری تصوارت جیسے ڈارک میٹر، ڈارک انرجی، کوانٹم گریوٹی وغیرہ کو اس سرنگ میں تجربے سے گزارا جا سکتا ہے۔

ہمارے آلات ہمیں اس وقت جس توانائی یا ویولینگتھ کے نتائج دے رہے ہیں ابھی اس سے بھی آگے ایک دنیا ہے۔ اور یہ نئی دنیا کی دریافت ابھی نظریاتی یا تصوراتی نوعیت کی ہے۔ نظریاتی طبیعات دان اپنے ریاضیاتی اصولوں اور گزشتہ تجربات کی روشنی میں مزید چھوٹے پیمانے یعنی 10 کی طاقت منفی 35 میٹر تک کے اصول دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اتنا چھوٹا پیمانہ ہے کہ جہاں شاید کوانٹم میکانیات کو بھی مزید ترقی ملے گی اور ہمیں ایک نیا جہاں میسر آئے گا۔

یہ ایک ایسا جہاں ہے جو ہمیں کائنات کے آغاز کے بارے علم فراہم کرے گا۔ کیونکہ بگ بینگ نظریے کے مطابق کائنات اپنے آغاز میں انتہائی چھوٹے پیمانے پر مشتمل تھی۔ لہذا کوانٹم میکانیات کے اصول اس وقت لاگو ہونے چاہئیں۔ اور ساتھ ہی بڑے پیمانے کے اصول یعنی نظریہ عمومی اضافیت بھی اسی وقت لاگو ہوتے ہیں۔ یہ کائنات کا وہ عہد ہے جسے پلانک اسکیل کہا جاتا ہے یہاں چھوٹے اور بڑے پیمانے کے اصول یکجا ہو سکتے ہیں۔ کوانٹم گریوٹی ایک ایسا فریم ورک ہے جو اس درجے چھوٹی کائنات پر تحقیق کرتا ہے۔ سٹرنگ تھیوری (String Theory) بھی ایسا ہی ایک فریم ورک ہے۔

بڑے پیمانے کی اشیاء کے مقابلے میں خوردبینی اشیاء کا مطالعہ پچھلی صدی کی دریافت ہے جب انسانی علم اس قدر ترقی کر گیا کہ وہ جدید آلات تیار کر سکے یہی وجہ ہے کہ پچھلی صدی کے بعد سے سائنسی دریافتوں اور انسانی معاشرے کے تعلقات میں بے حد زیادہ رفتار سے ترقی ہوئی ہے۔ بیسویں صدی تک کا انسان جن فاصلوں اور توانائیوں پر تحقیق کر رہا تھا ان کے لئے نیوٹن کی میکانیات کے اصول بہت کارگر تھے لیکن جدید آلات نے چھوٹے پیمانے پر ان اصولوں کا اطلاق نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ کوانٹم میکانیات نے نیوٹن کے اصولوں کی جگہ لے لی۔ اسی طرح آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے زمان و مکاں کے ہزاروں سال کے نظریات میں بڑی تبدیلی کی ہے۔

صدیوں سے انسان جس ایک قانون فطرت یا ایک اصل کی تلاش میں ہے وہ اب مختلف درجوں میں مختلف اصولوں کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ کوئی ایک واحد نظریہ یا اصول ایسا نہیں جو کہ ہر پیمانے کی اشیاء پر یکساں لاگو ہو سکے۔ ہر پیمانہ ایک الگ جہاں ہے جس کے اپنے اصول ہیں۔ لیکن مختلف جہانوں کے اصول آپس میں متصادم نہیں ہیں۔ کوانٹم میکانیات میں نیوٹن کی میکانیات ضم ہوتی ہے۔ آئن سٹائن کے نظریے میں نیوٹن کی کشش ثقل بھی قائم رہتی ہے۔

سب اپنے اپنے درجے یا پیمانے پر درست ہیں۔ ہمارا سوال کائناتی یا عالمی ہوگا تو ہم بڑے پیمانے کے اصول لاگو کریں گے اور اگر سوال مخصوص یا چھوٹے پیمانے کا ہوگا تو جواب بھی اس کے مطابق ہوگا۔ اس سوچ کے مطابق ایک اہم سوال کا شافی جواب بھی میسر آ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کائنات کی اصل کیا ہے؟ کیونکہ کچھ ایسے مسائل ہیں جنہیں فلسفے میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

ایک مسئلہ شعور کا مسئلہ ہے یا جسے موضوعیت یا ذہن کا مسئلہ کہا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے۔ کچھ کے مطابق یہ ذہن یا شعور صرف ہمارے دماغ کی پیچیدہ ساخت کا عمل ہے جبکہ دوسروں کے نزدیک یہ ایک مادی نہیں بلکہ روحانی یا غیر مادی اور ماوراء قسم کی چیز ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ چھوٹے پیمانے کے اصول یعنی کوانٹم میکانیات سے بڑے پیمانے یعنی کائنات یا انسانی دماغ کے اصول دریافت ہو سکتے ہیں۔ چونکہ شعور ایک بڑے پیمانے کی شے یعنی انسانی دماغ کے ساتھ مخصوص ہے لیکن دماغ خود چھوٹے چھوٹے خلیوں یا ایٹموں سے مل کر بنا ہے۔

لہذا ممکن ہے کہ اگر دماغ کو دونوں سطح کے اصولوں پر پرکھا جائے تو ایک تعلق قائم ہو سکے جو یہ بتا سکے کہ شعور کا انسانی دماغ کی بنیادی ساخت سے کیا رابطہ ہے اور یہ کیسے عمل کرتا ہے۔ نیورو سائنس یا کوانٹم بائیولوجی جیسے جدید سائنسی شعبوں میں ان سوالوں پر تحقیق ہو رہی ہے۔ بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ شعور کے اصول ایٹموں پر لاگو نہیں ہو سکتے دونوں اپنے اپنے درجے میں درست کام کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک درجے کے مسائل دوسرے درجے سے مختلف ہیں۔

چھوٹے پیمانے یعنی کوانٹم کی دنیا میں عدم تعین ہے لیکن بڑے پیمانے یعنی نیوٹن کی دنیا میں تعینات قائم رہتے ہیں۔ نیوٹن کی میکانیات چھوٹے سیاروں یا ستاروں کے گرد حرکت کو واضح کر سکتی ہے لیکن بڑے اجسام جیسے کہکشاؤں یا بلیک ہول کے نزدیک آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا ہماری کائنات ایک کثیر درجاتی کائنات ہے۔ ہر درجہ کے اصول مختلف ہیں اور اسی لیے ہر درجے کے نظریات بھی مختلف ہیں جنہیں اکثر ( Effective Theories) کا نام دیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *