پولیو کے قطروں سے کرونا ویکسین تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغرب کے اینٹی ویکسرز ہوں یا ویکسینیشن کے خلاف پاکستان کا سازشی ٹولہ، ان کے نزدیک انسانی زندگی کی خاص قدر نہیں۔ مغرب میں آٹزم کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے تو مشرق میں بانجھ پن کا۔ ان شوشوں میں بھی دونوں معاشروں کی ترجیحات واضح دکھتی ہیں۔ مغربی ماؤں کو یہ خوف دلایا جاتا ہے کہ ان کے بچے آٹزم کا شکار ہو گئے تو با اعتماد زندگی گزارنے سے محروم رہیں گے، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے جبکہ ہمارے یہاں جیسا کہ جینے کا واحد مقصد ہی بچے پیدا کرنا ہے تو اس لئے تیر بھی افزائش نسل کے مدعے پر داغا جاتا ہے۔ بانجھ پن اور نامردی کا لاگ الاپ کر پولیو کے قطرے اور حفاظتی ٹیکوں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے کہ ”یہ صحت مرکز نہیں دراصل مسلمانوں کی آبادی گھٹانے کے جال ہیں، کافروں کی تمنا ہے کہ جہاد میں مجاہدین کی تعداد کم پڑ جائے“ ۔ ہم ایسی ہی منطق سنتے آئے ہیں۔

جہاد تو نہ ہوا البتہ مسلمانوں کے ہزاروں بچے پولیو کے قطرے نہ پینے کے باعث معذور اور لاغر ضرور ہو گئے۔ یاد رہے کہ پولیو وائرس کا شکار بچہ زندگی کی ایک یا دو دہائیوں سے زیادہ نہیں جی پاتا اور جو جیتا ہے وہ بھی معذوری اور بے چارگی میں گرفتار رہ کر زندگی سے لڑتا ہے۔

جہالت اور انسان دشمنی کی نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ پولیو کے قطرے پلانے والوں کے خلاف اعلان ہوا کرتے، فتاویٰ تک دے دیے گئے۔ اکثریت میں غریب گھروں کی عورتیں پولیو ٹیموں میں بھرتی ہوئی جن کی زندگیاں ان ہی انسان دشمنوں کی وجہ سے اجیرن بنا دی گئی۔ مجھے اچھے سے یاد ہے کہ محلے اور خاندان کے مرد پولیو ٹیموں میں کام کرنے والی عورتوں کے کردار بارے کیا کیا کہا کرتے تھے۔ ایسی ہی باتیں بہتان سنتے ہم سب جوان ہوئے ہیں۔

دہشت گردوں نے اس گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے غوطے لگائے ہیں۔ اول تو پولیو کے قطروں کو سرے سے حرام، ناجائز قرار دیا گیا۔ یہود و ہنود کی چال گردانا گیا، اس سے بھی دو قدم آگے سیدھا حملوں پر اتر آئے۔ کراچی سے خیبر تک پولیو ورکروں کی جانیں دشمنوں اور قدامت پرست لوگوں کے رحم و کرم پر رہیں۔ صرف 2012 سے لے کر اب تک ستر پولیو ورکر اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ حفاظت پر مامور اہلکاروں کی جانیں الگ سے گئیں۔

پاکستان میں 2020 کی تازہ اعداد کے مطابق کل پولیو کیسز ایک سو ہیں۔ پولیو کی تمہید باندھنے کا مقصد تھا کہ موجودہ دور کے وائرس کی ویکسین کو لے کر ہمارا کیا رویہ ہو سکتا ہے۔

جب کرونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کر لی جائے گی تو دنیا بھر میں جشن کا سا سماں ہوگا۔ حکومتیں سکھ کا سانس لیں گی تو عوام کی خوش دیدنی ہوگی۔ مگر جونہی ویکسین پاکستان کو امداد کی صورت میں مہیا کی جائے گی سازشوں اور جہالت کا ایسا ڈھول پٹے گا جس کی تھاپ پر قوم ویسے ہی دھمال ڈالے گی جیسے اس وبا پر ڈالی گئی جس کی گونج ابھی تک سنائی دیتی ہے۔

کرونا ویکسین کے خلاف بھی ایسی کہانیاں گھڑی جائیں گی، اسی شکل میں دھوکہ دیا جائے گا۔ پہلے کرونا وائرس جھوٹ تھا، پھر سازش تھی، عام سا زکام تھا، انسانی اعضاء کی سمگلنگ تھی، سنا مکی کے پھول تھے، ادرک کا قہوہ تھا، قیامت کی نشانی بتانے والے بچے کی پیدائش تھی۔ کبھی کمیونسٹ چین کی سرمایہ دار امریکا اور یورپ کے خلاف چال تھی تو کبھی یہودیوں، امریکیوں کی مسلمانوں کے ایمانوں کو کمزور کرنے کی واردات۔ وہیں پر کرونا ویکسین پولیو ویکسین کی طرح مسلمانوں کے خلاف سازش کی بجلی بن کر گرے گی۔ جیسے آج تک ہم پولیو وائرس ختم نہیں کر پائے، خدشہ ہے کہ کرونا بھی ہماری جہالت اور سائنس دشمنی کا ناسور بن کر ہمارے سینوں پر نہ ڈولتا رہے۔

ویکسین کے خلاف فتاویٰ آئیں گے، منبروں پر سائنس دانوں کے جہنمی اور ملحد ہونے کی اسناد جاری ہوں گی، این جی اوز نے امریکیوں سے کتنے کروڑ ڈالر لئے کہ مسلمان عورتیں جہاد کے لئے مجاہد نہ پیدا کر پائیں، ویکسین کے کتنے قطروں سے مرد نامرد بنیں گے کی دلیل ہر سو سنائی دے گی۔

ویکسین پلانے والی حکومتی ٹیموں پر حملے کیے جائیں گے، ویکسینیشن کرنے والی بے روزگار عورتوں کے گھروں کی دیواروں پر کیسی وال چاکنگ کی جائے؟ ہمیشہ کی طرح خود کلام دانشور کیمیا دان بن کر کرونا ویکسین میں موجود خنزیر کی چربی اور شراب کے قطروں کا حجم کیلولیٹ کریں گے ساتھ ہی میں روایات کے سپاہی سائنس کا جوش دلا کر بتائیں گے کہ نوجوانوں پر اس ویکسین کے کیسے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو ان کے ایمان اور کردار کو تنزلی کی جانب دھکیل رہے ہوں گے۔

اسی تنزلی ایمان کے باعث پانچ ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار جنسی تشدد کے جرائم رونما ہوں گے۔ ویکسین میں پائے جانے والے حرام اجزاء نوجوانوں میں غیر فطرتی جذبات کے ابھار کا سبب بھی بنیں گے جس کے باعث پہلی بار لوح انسانی پر مرغیوں بکریوں، بلیوں اور ڈولفن کی غیر فطرتی ہتک ثبت ہو گی۔ واضح رہے کہ ویکسین کے ہیجانی اثرات کی شکار نوجوان مسلمان لڑکیاں ہرگز نہیں ہوں گی۔

ہر دروغ کے باوجود بھی جب بڑی تعداد میں عوام کو حفاظتی قطرے پلا دیے جائیں گے، وائرس ختم ہونا شروع ہوگا پھر وہی فرسودگی اور پاگل پن کے مناظرے ہوں گے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ یہ وائرس شائرس کوئی چیز نہیں، مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی تھی، یہ سائنس دان سازشی تھے۔ منصوبے کے تحت ہمیں گھروں میں قید کیے رکھا۔ مساجد کو قفل لگائے، عبادت سے دور رکھا۔

منافقت کا وقار بلند کرتے یہی افراد غریب کو حماقت کے مشروب تو پلائیں گے وہیں منبر پر بیٹھا عالم، درس دینے والا خود ساختہ دانش ور صحت مرکز جا کر خود بھی حفاظتی قطرے پئے گا اور اپنے عزیزوں کو بھی پلائے گا مگر ویکسینیٹڈ مولانا اور ویکسینیٹڈ دانشور ویکسین کے خلاف وعظ دیتے شرمسار نہ ہوں گے۔

دنیا سے وائرس مکمل طور پر ختم ہو بھی گیا تو پاکستان میں ویکسین کے باوجود کیسز سامنے آتے رہیں گے۔ یہاں تک کے سفری پابندیاں دوبارہ سے لاگو ہوں گی۔ بین الاقوامی سفر کرنے والے مسافروں کو ہوائی اڈوں پر الگ قطار میں کھڑا کر کے کرونا کی ویکسین کے ٹیکے لگیں گے، قطرے پلائے جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حج پر پاکستانی حجاج کی آمد پر پابندی عائد ہو، کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستان کی بمشکل سانس لیتی موجودگی بھی دم توڑ دے۔

حکومت پر سرکاری علما اشتہارات میں آکر ویکسین لگوانے کی تجاویز دیا کریں گے، وہیں پر پسند ناپسند کے دینی مفکرین کی مڈ بھیڑ نیا رخ اختیار کرے گی۔ دوبارہ سے غفلت کی باسی کھچڑی کی کھرچن پرائم ٹائم اور لیٹ نائٹ زدہ سوچ کی طبق میں پیش کی جائے گی۔
کرونا کی ویکسین بھی کرونا وائرس کی طرح مذہب کے بیوپاریوں کے ہاتھ عوام کے ایمانوں کا امتحان ہی بنے گی۔ انسان اس کشمکش میں پڑ جائیں گے کہ زندگی بچائیں یا اپنا ایمان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *