جسٹس محمد منیر اور عطا اللہ شاہ بخاری صاحب کا معرکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بننے کے چند سال بعد 1953 میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ایک تحریک نے زور پکڑا۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس تحریک کو شروع کرنے میں سب سے نمایاں کردار مجلس احرار کا تھا۔ 6 مارچ کو لاہور میں لارشل لاء لگایا گیا۔ اور جسٹس کیانی اور جسٹس منیر پر مشتمل ایک تحقیقاتی عدالت قائم کر دی گئی تاکہ یہ تعین کیا جائے کہ ان فسادات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ چار ستمبر کو مجلس احرار کے قائد عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو گواہی کے لئے اس عدالت میں طلب کیا گیا۔ اس گواہی میں انہوں نے کیا کہا۔ اس بارے میں ایک ویڈیو یو ٹیوب چینل الندا پر جاری کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں بیان کیا گیا ہے کہ اس موقع پر عطا اللہ شاہ بخاری صاحب اور جسٹس منیر کے درمیان ایک معرکہ ہوا۔ اور عدالت کی عمارت نعروں سے لرز اُٹھی۔ اس بارے میں عرض ہے کہ اس عدالت کی کارروائی کا حرف بحرف ریکارڈ محفوظ ہے۔ اور LUMS یونیورسٹی کی سائٹ پر موجود ہے۔ پڑھنے والوں کی سہولت کے لئے عطا اللہ شاہ بخاری صاحب کی گواہی کے عدالتی ریکارڈ کا عکس اس کالم کے ہمراہ دیا جا رہا ہے۔ (پڑھنے کے لئے متعلقہ صفحات پر کلک کریں)

عطا اللہ شاہ بخاری صاحب گواہ نمبر 21 کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے۔ ان کی گواہی پڑھنے سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ چینل الندا کی ویڈیو میں بیان کردہ اکثر تفاصیل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن چونکہ دس لاکھ سے زائد افراد یہ ویڈیو دیکھ چکے ہیں اور دو ہزار سے زائد افراد اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے بھی برسا چکے ہیں اور کئی کتب میں بھی یہی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس لئے مناسب ہو گا کہ اس گواہی کا حرف بحرف اردو ترجمہ پیش کر دیا جائے تاکہ پڑھنے والے خود موازنہ کر سکیں۔ عدالتی کارروائی کا ریکارڈ انگریزی میں ہے۔ اس موقع پر یہ سوال و جواب ہوئے۔

سوال : پاکستان کے قیام کے بارے میں احرار کا نظریہ کیا تھا؟

بخاری: بحیثیت جماعت احرار پاکستان بننے کے حق میں تھے۔

سوال: کیا احرار کے کسی لیڈر نے قائد اعظم کے بارے میں ” کافر اعظم ” کے الفاظ استعمال کئے تھَے؟

بخاری: میں نے سنا ہے کہ مولوی مظہر علی اظہر نے قائد اعظم کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کئے تھے۔

mazhar-ali-azhar

سوال: پاکستان بننے کے بعد کیا کسی احراری لیڈر نے پاکستان کو ” پلیدستان ” قرار دیا تھا؟

بخاری: نہیں

سوال: کیا کسی احراری لیڈر نے پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کو ” پلیدستان” قرار دیا تھا؟

بخاری : مجھے علم نہیں

سوال : سرگودھا کے اخبار ” بے باک ” کی یکم اپریل 1952 کی اشاعت میں ایک احراری لیڈر کی یہ تقریر شائع ہوئی

“یہ سچ ہے کہ چوہدری افضل حق نے پاکستان کو پلیدستان قرار دیا تھا۔ میں اسے دہراتا ہوں کہ انہوں نے وہی کہا تھا جو سچ ہے۔ تم بھی اب یہی کہو گے کہ یہ پلیدستان ہے۔ مجھَ بتائو جس ملک میں غریب بھوکے مرتے ہوں اور مزدوروں کا برا حال ہو۔ رشوت عام ہو۔ کسی کی شکایت نہ سنی جاتی ہو۔ یہ پاکستان ہے یا پلیدستان ہے۔ “

کیا آپ کو اس کا کوئی علم ہے۔

بخاری: نہیں۔ یہ بالکل غلط ہے کہ میں نے قائد اعظم کے بارے میں ” کافر اعظم ” کے الفاظ استعمال کئے تھے یا میں نے یہ کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو میں پیشاب سے اپنی داڑھی مونچھ منڈوا دوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے جامع مسجد دہلی میں جمعہ کے بعد التجا کی تھی کہ میں قائد اعظم سے مل کر ان کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں۔

سوال : کیا آپ پاکستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں؟

بخاری: ہاں

سوال: اس ریاست میں آپ کفار کو کیا حیثیت دیں گے؟

بخاری: اس سوال کا تعلق آئین سازی سے ہے اور اس کے بارے میں پاکستان کے 36 علماء نے ایک قرارداد منظور کی ہوئی ہے۔

سوال : کیا آپ کو علم ہے کہ اس قرارداد میں پاکستان میں غیر مسلموں کی حیثیت کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے؟

بخاری: جہاں تک مجھے اس قرارداد کے الفاظ یاد ہیں، اس میں کہا گیا تھا کہ قانون ساز اسمبلی میں غیر مسلموں کی سیٹیں ہوں گیں اور انہیں کچھ حقوق حاصل ہوں گے۔

سوال : آپ کی رائے میں کیا ایک مسلمان پابند ہے کہ ایک کافر حکومت کی فرمانبرداری کرے۔

بخاری: یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک مسلمان ایک غیر مسلم حکومت کا وفادار شہری بن سکے۔

سوال : پوری دنیا میں مسلمانوں کی کل کتنی آبادی ہے؟

بخاری: وہ ستر کروڑ کے قریب ہیں۔

سوال: ان ستر کروڑ میں سے کتنے اس اسلامی حکومت کے تحت ہوں گے؟

بخاری : چھ کروڑ کے قریب۔ یہ سارے پاکستان میں ہوں گے۔

سوال : باقی 64 کروڑ کا کیا بنے گا؟

بخاری : وہ اپنی قسمت کے بارے میں خود سوچیں۔

سوال: کیا آپ کو علم ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں ایسے آئین موجود تھے جن میں اس قسم کے خیالات کی وجہ سے جن کا پرچار آپ کر رہے ہیں، یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مسلمان قانون کی رو سے شہریت کے اہل نہیں ہیں۔

بخاری : مجھے پہلے اس کا علم نہیں تھا لیکن چونکہ عدالت ایسا کہہ رہی ہے تو ایسا ہی ہوگا۔ اگر دوسری غیر مسلم حکومتیں اپنے ریاست کی بنیاد اپنے مذہب پر رکھیں تو مجھے اس پر خوشی ہو گی۔

سوال : خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمان اپنے شہریت کے حقوق کھو بیٹھیں۔

بخاری: بالکل۔ اسلامی حکومت میں ذمی کے معین حقوق ہوتے ہیں۔ میں انہیں بغیر کتاب کے بیان نہیں کر سکتا۔ انہیں ریاست کی حفاظت میں قائم کیا جائے گا۔ یہ سربراہ حکومت یا مجلس شوریٰ کا اختیار ہوگا کہ وہ انہیں جو چاہے عہدہ دے۔

سوال : ہندوستان میں کتنے کروڑ مسلمان رہتے ہیں۔

بخاری: چار کروڑ

سوال : کیا آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہوگا اگر ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں کوئی شہری حقوق حاصل نہ ہوں۔

بخاری : میں پاکستان میں ہوں انہیں مشورہ نہیں دے سکتا۔

سوال: کیا ان چار کروڑ مسلمانوں کے لئے ممکن ہو گا کہ وہ اپنی ریاست کے وفادار شہری بن سکیں

بخاری: نہیں

سوال : اگر پاکستان اور ہندوستان میں جنگ ہو تو ان کا کیا فرض ہوگا؟ کیا وہ پاکستان کی افواج سے لڑ سکتے ہیں؟

بخاری: انہیں خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ ان کا کیا فرض ہے؟

سوال: آپ اس ملک کی مستقبل کی حکومت کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟

بخاری: میں اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہتا۔ یہ علماء کا کام ہے کہ وہ اس کا جواب دیں۔ میں ایسی حکومت پسند کروں گا جس کی بنیاد اسلام کے اصولوں پر ہو۔ جب تک یہ حکومت اس اصول کے مطابق ہے۔ میں اس بات پر برا محسوس نہیں کروں گا کہ اس کی تفصیلات ایک خالص اسلامی ریاست کے مطابق ہیں کہ نہیں ہیں۔

سوال : کیا آپ کے نزدیک احمدی کافر ہیں۔

بخاری : یقینی طور پر

سوال: پاکستان میں ایک اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد ان کافروں سے کیا سلوک ہوگا۔

بخاری : غیر مسلم کی حیثیت سے قانون ساز اسمبلی میں ان کی اپنی نمائندگی ہو گی۔

سوال : کیا انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی اجازت ہو گی؟

بخاری : میں اس پر کوئی رائے نہیں دیتا۔ یہ قانون ساز ادارے کا کام ہے۔

سوال : کیا آپ کے نزدیک سیاسی سرگرمیوں کے لئے مساجد کا استعمال جائز ہے؟

بخاری: میں مذہب کو سیاست سے علیحدہ نہیں کرتا۔

مذکورہ ویڈیو کے شروع میں بیان کیا گیا ہے کہ جب عطا اللہ شاہ بخاری صاحب گواہی کے لئے آئے تو لاکھوں مداح وہاں موجود تھے۔ اس کے ساتھ تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ عرض ہے کہ یہ تصویر اس تحقیقاتی عدالت کے موقع کی نہیں بلکہ گاندھی جی کی ” ہندوستان چھوڑ دو” تحریک کے موقع کی ہے۔ اور ہندوستان کی سول سروس ایگزام میٹریل کی سائٹ کے علاوہ ہندوستان کی بہت سی سائٹس پر موجود ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ مجلس احرار کا پاکستان کے بارے میں کیا نظریہ تھا۔ مجلس احرار نے قرارداد منظور کی تھی کہ ہم مطالبہ پاکستان سے کسی صورت اتفاق نہیں کر سکتے۔ [حیات امیر شریعت مصنفہ جانباز مرزا ص 353]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply