تحریک انصاف کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے


\"zafarullah

پی ٹی آئی کے ایک سینیٹر ہیں۔ خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ اپنی بات کم کہنے اور دوسرے کی بات زیادہ سننے پر توجہ دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی جماعت کی غلطی تسلیم کرنے میں کبھی نہیں ہچکچاتے۔

عرض کیا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی جماعت نے گزشتہ ساڑھے تین سال میں درست سیاست کی ہے؟
کہنے لگے، طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ تو طے ہے کہ عوامی امنگوں کے مطابق چلے ہیں۔
عرض کیا، عوامی امنگوں کو معلوم کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
کہنے لگے، عوام کا حق انتخاب۔
عرض کیا، عوام کے حق انتخاب نے تو میاں نواز شریف کو اکثریت سے منتخب کیا۔
کہنے لگے، درست ہے لیکن عوام نے ہمیں بھی تو پارلیمان میں بھیجا ہے۔
عرض کیا، مگر آپ نے تو ساڑھے تین سال پارلیمان کی بجائے سڑکوں پر گزار دیئے۔
کہنے لگے، شروع میں عرض کیا تھا کہ طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا مگر کیا عوام کرپشن کا احستاب نہیں چاہتے؟
عرض کیا، ضرور چاہتے ہیں مگر جن لوگوں نے آپ کو منتخب کر کے پارلیمان میں بھیجا تھا ان لوگوں کو آپ کیا بتائیں گے کہ پارلیمان میں آپ نے کیا کردار ادا کیا؟
کہنے لگے، اس سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر عوام کی آگاہی بھی ضروری تھی۔
عرض کیا، آپ کے موجودہ سیاست کا ایک منطقی نتیجہ نکلتا ہے۔ آپ کے لیڈر کے بقول باقی ساری جماعتیں کرپٹ ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ شراکت اقتدار کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کی پارلیمان میں اکثریت کے ہوتے ہوئے پارلیمان کے اندر سے کسی تبدیلی کا امکان ہے۔ کیا آپ اس نتیجے سے اتفاق کرتے ہیں؟
کہنے لگے، اس نتیجے سے اتفاق ہے۔
عرض کیا، ان نتائج کے بعد کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگلے انتخابات میں اکثریت آپ کے پاس ہو گی؟
کہنے لگے، سچی بات یہ ہے کہ اکثریت حاصل کرنے کے امکانات تو کم ہیں ہیں۔
عرض کیا، پھر تو اگلے انتخابات کے بعد بھی کم و بیش صورت حال ایسی ہی رہے گی جیسے اب ہے؟
کہنے لگے، بہتری کی کوشش تو کی جا سکتی ہے مگر جب تک ان حکمرانوں کا احتساب نہیں ہوتا صورت حال کم و بیش یہی رہے گی۔
عرض کیا ۔ ان نتائج کے بعد کرپشن کے خاتمے اور عوام کے آگاہی مہم کے لئے ایک مشورہ دیا جا سکتا ہے؟
کہنے لگے، بسر وچشم۔
عرض کیا، آپ اگلے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں۔
کہنے لگے، اس سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا؟
عرض کیا- چونکہ آپ نے بدستور اگلی بار بھی یہی سیاست کرنی ہے۔ اس لئے آپ اپنے بجائے کسی اور کو منتخب ہونے کا موقع دیں تاکہ وہ پارلیمان میں کوئی کردار تو ادا کر سکیں۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم کوئی سڑک، کوئی نالی، کوئی سکول، کوئی ہسپتال ہی اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں بنا لیں گے۔
پوچھنے لگے، پھر ہم کیا کریں گے؟
عرض کیا۔ آپ بدستور سڑکوں پر احتجاج کریں گے اور ہم آپ کی حمایت کریں گے۔
ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ کہنے لگے میں یہ مکالمہ ضرور پارٹی کے سرکردہ لوگوں سے کروں گا لیکن یہ باتیں آف دی ریکارڈ ہیں۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah