گلگت بلتستان نگران حکومت۔۔۔ توقعات اور امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2009 ء کا آڈر نافذ ہونے کے بعد سے اب تک گلگت بلتستان کی دوسری حکومت اپنا مدت پورا کرنے کے بعد گھر سدھار گئی ہے۔ اس حکومت کے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر بحث اور تجزیے ابھی جاری ہے اور اگلا الیکشن بتائے گا کہ عوام کی اکثریت انہے کیا مقام دیتی ہے۔ 28 جون 2020 ء کو نئے نگران وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کا انتخاب مکمل ہوا اور اس پر سوشل میڈیا اور چوپالوں میں گفتگو زور ؤ شور سے جاری ہے۔ کوئی کابینہ ممبران کی تقرری کو کسی مخصوص انداز میں دیکھ رہا تو کوئی یہ نکتہ اٹھا لایا ہے کہ اگلے الیکشن کم از کم ایک سال سے زائد مدت تک ملتوی ہونگے اور نئے وزرا کے وارے نیارے ہیں۔

لیکن اخباری اطلاع کے مطابق صدر مملکت نے 18 اگست کی تاریخ الیکشن کے لئے مقرر کر کے منظوری بھی دی ہے تو ایسے میں گلگت بلتستان کی فضا میں ایک دم سیاسی گرمی متوقع ہے۔ ایسے میں نگران حکومت جو کہ زیادہ تر جوان چہروں پر مشتمل ہے اور ان کی غالباً اکثریت اس سے پہلے اقتدار کی غلام گردشوں میں بھی نہی رہیں ان کے لئے یہ قلیل مدت آزمائش اور ان کی انتظامی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔

گلگت بلتستان کی عمومی فضا یہ رہی ہے کہ مرکز میں جس پارٹی کی حکومت ہو یہاں بھی جسے تیسے اسی پارٹی کی حکومت بن جاتی ہے اور وجہ یہ ہے کہ الیکٹیبلز ہر نئے الیکشن میں وفاقی حکومتی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ دوسرا بڑا فیکٹر گلگت بلتستان کی اسمبلی اور وفاقی حکومت کے درمیان دو سال کا وقفہ ہے۔ اس وقفہ کا بڑا نقصان یہ ہے کہ وفاق میں مختلف پارٹی کی حکومت ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان حکومت میں اس کی مداخلت بڑھ جاتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی رد وبدل ہوجاتا ہے۔ یوں گلگت بلتستان کی اسمبلی اخری دو سالوں میں lamb duck بن جاتی ہے۔

خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔ موجودہ نگران حکومت کو سر دست کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سے چند اہم پر نظر ڈالتے جو زیادہ تر الیکشن سے متعلق ہیں۔

مہنگائی میں کمی اور قیمتوں پر اعتدال، یہ تو ممکن نہی کیونکہ نگران حکومت نہایت قلیل مدت کے لئے آئی ہے نیز بجٹ بھی سابقہ حکومت دے گئی ہے۔ اور ویسے بھی قیمتوں اور مہنگائی کا تعلق ہمارے ملک میں تیل کی قیمتوں سے جڑا رہتا ہے تو ایسے میں یہ نگران حکومت کیا کر پائے گی جبکہ وفاق کا بس نہی چل رہا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ نگران حکومت اپنے اقدامات سے کیا ثابت کر پائے گی کہ اس کا جھکاؤ حکومتی پارٹی کی طرف نہی ہے اور ہر کسی کو الیکش میں لیول فیلڈ میسر ہوگا تاکہ الیکشن بے معنی اور رسمی نہ ہوں۔ سب سے مشکل مرحلہ یہ ہے کہ الیکشن کے لئے دن تھوڑے ہیں اور اس وقت کرونا نے بری طرح اپنے پنجے گاڑا ہے، آگے حج اور محرم کے مہینے ہیں ایسے میں کرونا کی موجودگی میں سیاسی جلسہ جلوس اور کارنر میٹنگز ممکن ہونگی اور کیا نگران حکومت اجازت دے پائے گئی نیز پولنگ بوتھ اور اور اس سے ملحقہ ایریا پر کرونا SoPs پر عملدرآمد ہو سکے گا۔

گزشتہ دونوں الیکشن میں گلگت بلتستان کی سیاسی فضا مکدر رہی جس کی بڑی وجہ مختلف مذہبی جماعتوں کی شدومت کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینا اور اپنے مخالفین کو سخت لتاڑنا تھا۔ اس بار کے الیکشن میں کیا نگران حکومت کوئی ایسی حکمت عملی وضع کر پائے گئی کہ یہاں کی فضا منافرت اور مسلکی آویزش سے پاک رہے۔

2019 ء میں گلگت بلتستان کی مردم شماری ہوئی ہے گو کہ اس مردم شماری کے نتائج ابھی تک شائع نہیں ہوئے ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اس سے یقیناً نوجوان ووٹرز کا اضافہ ہوگا۔ کیا نگران حکومت نئی ووٹرز لسٹ تیار کرنے اور الیکشن اس لسٹ کے تحت کرنے کے لئے پلاننگ کر پائے گئی یا جان چھڑا کر پرانی لسٹوں پر ہی گزارا کرے گئی۔ نئی لسٹیں نہ بنانا یقیناً الیکشن میں مثبت تبدیلی کے خلاف قدم ہوگا کیوں کہ نوجوانوں کی اکثریت الیکشن سے باہر رہ جائے گئی۔

بہرحال یہ تو تھے چند سوالات جن کا جواب جلد ہی نگران کابینہ کے اقدامات سے ظاہر ہوں گے تاہم کابینہ کی تشکیل تقریباً اسے افراد پر ہے جن کا ماضی ابھی تک کسی سیاسی اور مذہبی چپقلش اور طرف داری میں نہی رہا ہے۔ سب پڑھے لکھے اور باعزم لگتے ہیں ایسے میں امید تو یہی رکھی جاسکتی ہے کہ کچھ اچھا اور مثالی کام کر جائیں گے ورنہ تو الیکشن اگے بھی آتے رہیں گے دنیا کہاں رکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply