کھلاڑیوں کا کھلاڑی ”کورونا“


لالی وڈ ہو یابولی وڈ، اب تک بے شمار فلموں کے ٹائٹل میں لفظ کھلاڑی استعمال کیا گیا جیسے، ہم کھلاڑی پیار کے، کھلاڑی، کھلاڑیوں کا کھلاڑی، میں کھلاڑی تو اناڑی، انٹرنیشنل کھلاری، مسٹر ایند مسز کھلاڑی، کھلاڑی 420، سب سے بڑا کھلاڑی، کھلاڑی 786 وغیرہ۔ رومانس اور ایکشن سے بھرپوران تمام فلموں کا کھلاڑی ہیرو ہوتا ہے جبکہ حقیقی زندگی میں جس طرح کورونا دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو ہوگیاہے اس سے تویہ لگتا ہے کہ اب کھلاڑیوں کا کھلاڑی کوئی فلمی ہیرو نہیں رہا بلکہ یہ فلمی ٹائٹل کورونانے لے لیا ہے یعنی ”کھلاڑیوں کا کھلاڑی کورونا“ ۔

کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں معاشی، تجارتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہیں جبکہ کھیلوں کے کئی بڑے میگا ایونٹس بھی ملتوی کردیے گئے ہیں جن میں اولمپک گیمز بھی شامل ہے۔ رواں سال آسٹریلیا میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد بھی خطرے میں ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ ماہ ہوگا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف کھیلوں سے وابستہ بہت سے کھلاڑی کورونا میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ کسی بھی کھلاڑی کی قوت مدافعت ایک عام آدمی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ روزانہ ورزش، جسمانی صفائی اور اچھی ڈائٹ ان کی زندگی کا معمول ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں کا کورونا میں مبتلا ہوناعام آدمی کے لئے حیرت کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دورہ انگلینڈ کے لئے جب کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ لیے تو حیران کن انکشافات سامنے آئے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے مزید سات کرکٹرز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وبا ء سے متاثرہ کرکٹرز کی تعداد دس ہو چکی ہے حالانکہ کھلاڑیوں میں ٹیسٹنگ سے قبل کورونا کی کوئی علامات نہیں پائی گئی تھی تاہم جب ٹیسٹ ہوا توکھلاڑی محمد حفیظ، فخر زمان، کاشف بھٹی، عمران خان، محمد حسنین، و ہاب ریاض اور محمد رضوان میں کورونامثبت آ گیا، اس سے قبل تین کھلاڑ یوں شا داب خان، حیدر علی اور حارث رؤف میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، اب تمام کھلاڑی آئیسولیشن میں ہیں۔

کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد کھلاڑیوں میں تشویش اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ کورونا ٹیسٹ کے بعد یہ حقیقت تو سب کو معلوم ہوگئی کہ کھلاڑی کورونا میں مبتلا ہیں لیکن ابھی بھی اس بات کی تحقیق نہیں کی گئی کہ کھلاڑیوں کو یہ وائرس کیسے لگا؟ اور کیا ان کھلاڑیوں کے گھر والے کورونا سے محفوظ ہیں یا نہیں؟

ادھرانگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کی تصدیق کرتے ہوئے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والے کھلاڑیوں پر سفری پابندی لگا دی۔ ای سی بی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کورونا متاثرہ کھلاڑی 28 جون کو انگلینڈ میں داخل نہیں ہوں سکیں گے۔ پاکستانی ٹیم 28 جون کو برطانیہ پہنچے گی ضرور لیکن پاکستانی اسکواڈ بلیک فینچ نیوروڈ وارسیسٹر میں 14 روز قرنطینہ میں رہے گا۔ ای سی بی کے مطابق 13 جولائی کوپاکستانی کرکٹ ٹیم ڈربی شائر کے لئے روانہ ہو گی جہاں وہ پہلے ٹیسٹ میچ کی تیاری کرے گی۔

پاکستانی اسکواڈ ڈربی شائر میں دوانٹرنل فور ڈے پریکٹس میچ بھی کھیلے گا۔ کورونا وائرس کے باعث بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے اپنا دورہ سری لنکا ملتوی کر دیا ہے۔ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو جولائی اور اگست میں اپنے دورہ سری لنکا میں تین ٹیسٹ میچ کھیلنے تھے جب کہ حال ہی میں نیوزی لینڈ کرکٹ نے بھی اپنا بنگلہ دیش کا دورہ ملتوی کیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھارتی کرکٹ ٹیم بھی کورونا کے باعث اپنا دورہ سری لنکا ملتوی کرچکی ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کی طرح پاکستان کی ٹاپ ٹینس پلیئر سارہ محبوب خان اور ان کے والد ٹینس کوچ محبوب خان بھی کورونا میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اس بات کا انکشاف ٹینس پلیئر کے والد محبوب خان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کیا جبکہ ٹینس کے عالمی کھلاڑی نواک جوکووچ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔ اس سے قبل کروشیا، سربیا اور بلغاریہ کے تین کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ کورونا نے پوری دنیا کو موت کے کھیل کا میدان بنا رکھا ہے۔

دنیا کی کوئی بھی ویب سائٹ وزٹ کر لیں یا کوئی بھی نیوز چینل دیکھ لیں یا کوئی اخباربھی پڑھ لیں، کورونا کا سکورنگ بورڈ نمایاں ہوگا۔ کھیل کوئی بھی ہوکبھی نہ کبھی اس کا فائنل تو ہوتا ہی ہے لیکن موت کے اس کھیل کا فائنل نہ جانے کب ہوگا؟ کھلاڑیوں کے کھلاڑی کورونا کو ہرانے کے لئے ویکسین کب تیار ہوگی؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

Facebook Comments HS