سائنس اور آج کا میگناکارٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض لوگ کہتے ہیں سائنسی پیش رفت تجربات اور مشاہدات سے عمل میں آتی ہے، اس سے تشکیل پاتی ٹیکنالوجی کے میدان عمل میں مورل گائڈ لائن یا اخلاقی فلسفے کا کیا سوال، کیونکہ مورل فلسفہ تو تغیر پذیر ہے تو یہ قابل عمل کیسے ہو سکتا ہے؟

میرا کہنا ہے کہ اخلاقی فلسفے کی مدد سے تمدنی اصول و ضوابط متعین کر کے، تمدنی ترقی اور دور امن میں عقل و شعور سے کام لے کر شواہد کی روشنی میں تحقیق، دریافت اور ایجادات کا رستہ پایا گیا ہے۔ ایک سیکولر ڈسکورس سے اخلاقی معیارات وضع ہوئے ہیں اور جدید معاشرہ قائم ہوا۔ سائنس کسی سیکولر مورل گائیڈلائن کے بغیر اندھے کے ہاتھ میں پستول کی مانند ہے۔

سائنس کی افادیت انسان سے جڑی ہے اور سائنسی انسان کو بھلے جامد مذہبی بیانیوں کی ضرورت نہیں لیکن معاشرے کے ساتھ دوستانہ عمرانی معاہدے کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے تاکہ سائنس انسان کی بقاء کا آلہ رہے نہ کہ اس کی فنا کا۔

آلات کبھی بھی کاریگر کے مقام سے افضل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے سائنس اور اس سے جڑے معاملات پر ماڈرن ایتھیکل ویلیوز کا اطلاق ہوتا ہے۔ تاکہ سائنسدانوں کے قبیلے کو زمینی خدا بن کر انسان کا استبدادی حاکم بننے سے روکا جا سکے اور انسان سائنس کا نہیں بلکہ سائنس انسان کی خادم رہے۔

عقلی بنیادوں پر سیکولر مورل ڈسکورسز سے ترتیب پاتا بیانیہ یا اصول معاشرت بہرحال معاشرے میں فیئر نوشنز آف جسٹس اینڈ ایکویٹی کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ سائنسی و تکنیکی ترقی اور دن بہ دن بدلتی معاشرتی فارمیشنز حتمی نہیں ہیں تو ان پر اطلاق ہونے والے مورل بیانیے بھی حتمی نہیں ہیں۔ مورل فلسفہ تو بدلتے حالات کے ساتھ بدلتے ہوئے ہی اپلائی کرنا پڑتا ہے۔

جب سائنس تہذیب اور اس سے جڑی معاشرت ارتقاء پذیر ہے تو ان سب کے تال میل سے بنا معاشرہ اور اس میں رائج انسانی اخلاقی بیانیہ حتمی کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسا منجمد ڈاگما تو مذہبی اخلاقیات میں پایا جاتا ہے۔ سیکولر ڈسکورس سے جڑے ارتقاء پذیر مورل کوڈز میں نہیں۔

انسان کے شخصی اور معاشرتی حقوق کے ممکنہ تحفظ کو یقینی بناتے چند اخلاقی پیرامیٹرز انسان کے ماضی اور حال کے رویوں کو دیکھ پرکھ کر اور مستقبل کے رویوں کے امکانات کی پیش گوئی کر کے فارم کیے جاتے ہیں۔

یہ چیک اینڈ بیلنس کے ایسے اقدامات ہیں جو کہ طاقتور یا انفلواینشل کی جانب سے کسی ممکنہ تخریب، استحصال، محکومی اور استبداد کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ تاکہ سائنس کا ادارہ انسان پر بنا حاکمیت قائم کیے اس کی خدمت کرتا رہے۔

ان چیکس کا اطلاق سائنس یا اس سے جڑے شعبوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ آج کی ماڈرن ریاست میں عدلیہ، پولیسنگ، پارلیمنٹ، افسرشاہی، صدارت، وزارت، گورنری، مئیر شپ، افواج، ایجنسیوں سمیت ہر اس محکمے پر ہوتا ہے جو کہ معاشرے میں اختیار یا طاقت رکھتا ہے۔ یہ اخلاقیات فول پروف تو نہیں ہیں لیکن ان کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔

وقت کے زبردست کے ساتھ میگناکارٹا ہوتا رہنا چاہیے۔ کل یہ معاہدہ ریاستی و مذہبی طالع آزماؤں کے ساتھ ہوا تھا تو آج اسے گوگل، فیسبک، ایمازون، ایپل، مائیکروسوفٹ، آرٹیفیشیل انٹیلیجنس، الاگردمس اور انفارمیشن کو کنٹرول کرتی سیلیکون ویلی کے بلیئنر خداؤں کے ساتھ کرنا ہو گا۔ سٹیم سیلز، سائیبورگ، ڈی این اے، جنیومز، پارٹیکل فزکس لیبس کے فیصلہ سازوں یا سپیس ٹیک اور ہائی ٹیک پر تیزی سے کام کرتے جیف بیزوز اور ایلون مسک جیسے اجارہ داروں کے ساتھ کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply