عقلی زندان اور معنی کے خزانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زبان و بیاں کو معنی کے پس منظر میں دو لیولز پہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لیول معلومات کے تبادلے کا ہوتا ہے اور اس کا زیادہ تر تعلق ان مادی حقائق کے اظہار اور ابلاغ سے ہوتا ہے جن کا ہم اپنے حواس خمسہ کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً موسم کا حال، اخبار میں چھاپی گئی کوئی خبر، کسی سائنسی مفروضے یا تجربے کا بیان، کسی قانونی حکم کا متن، یا کھانا پکانے کی کوئی ترکیب وغیرہ۔ ا س طرح کے اظہار میں زبان کی ترکیب اور جملوں کی ترتتیب میں انفرادی تفاوت تو ہو سکتی ہے لیکن الفاظ کے معنی متعین ہوتے ہیں اور الفاظ کا ذخیرہ اہل زبان کے ثقافتی، جغرافیائی اور سماجی پس منظر کی زرخیزی یا تنگدستی کا عکاس ہوتا ہے۔ مثلاً عربی زبان میں محبت کے لئے دس الفاظ اور اونٹ کے لئے سو سے زیادہ اسما یعنی نام موجود ہیں۔ انگریزی، فارسی اور لاطینی میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عام فہم گفتگو اور معلومات کے تبادلے کے دوران الفاظ کی فراونی کے باوجود معنی اور تفہیم کے معاملے میں زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا نہیں پڑتا۔

معاشرے کے اکثر افراد زبان و بیاں کے اس عام فہم پیرائے اور الفاظ کے مجرد اور متتعین معنی کے عادی ہوتے ہیں اور معاملہ تب پیچیدہ ہو جاتا ہے جب لوگ سماجی حقیقتوں، روحانی سچائیوں، فلسفیانہ تصورات، شاعرانہ اظہارات، اور فنی کمالات کو بھی عام فہم الفاظ میں مجرد اور جامد حقیقتوں کے طور پر سمجھنے اور بیان ن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اعلیٰ اخلاقی بیانیوں، فکری قضیوں، روحانی سچائیوں، سماجی حقیقتوں اور جمالیاتی تجربوں کا اظہارمعلومات کی عام فہم زبان میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے علامات، مثالوں اور استعاروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ الفاظ کے لغوی معنی کی بجائے اصطلاحی اور اشارتی معنی اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گو کہ اس طرح کا اظہار عمو ما شاعری میں نظر آتا ہے لیکن عرفانی ادب خصوصاً گرنتھوں، ویدوں، حکایتوں، قصوں اور عارفانہ نثر ی متن میں اس اظہار کے معراج کی مثالیں کثرت سے نظر آتیں ہیں۔

جب اس اسلوب کا استعمال نثر اورمتن میں کیا جاتا ہے تو یہ شاعری جیسا گہرا تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ اس کو شاعری نہیں لیکن شاعرانہ اظہار یعنی پوئٹیکس کہا جائے گا۔ اس میں معنی کی گہرائی ا اور تخیل کی وسعت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر دل اور درد جیسے الفاظ کا ایک طرف عام فہم معنی ہوتے ہیں جو جسمانی عضو اور ایک جسمانی کیفت کو من و عن بیان کرتے ہیں اور دوسری جانب ان الفاظ کا شاعرانہ استعمال ہے جہاں دل اور درد تصورات اور تخیل کی دنیا میں انسانی احساسات و کیفیات اور جمالیاتی حقیقتوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے متن کو پڑھتے ہوئے لوگ مثال کو ممثول، اور علامات اور استعاروں کو مجرد حقیقت کے طور پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل میں متن میں موجود معنی کے چھپے ہوئے خزانے اور معنی کے آفاق پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور لوگ آپنے لئے فہم و ادراک کی ایک سطحی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔ یہ دنیا درحقیقت متن کے معنی سے زیادہ ان کے اپنے لاشعور کا عکس ہوتا ہے۔ میسکم گورکی کے بقول جیسا دل، ویسا دلبر، جیسی آنکھ ویسا معشوق اور جیسی سوچ ویسا آئیڈیل ترتیب پاتا ہے۔ ۔ اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ماورائی، جمالیاتی، روحانی اور سماجی سچائی کے اظہار کے پیرائے دراصل وہ ائینے ہوتے ہیں جن میں کسی فرد یا گروہ کی انفرادی یا اجتماعی شعور کی پختگی یا سطحیت کا عکس نظر آتا ہے۔

معنی کے خزانے ایک عقلی زندان میں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں جس کے گرد کئی فصیلیں کھڑی ہوتیں ہیں۔ جب تک ان دیواروں کو پھلانگ کے دانش سے بینش کی طرف سفر نہ کیا جائے معنی کے خزانوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ ان میں پہلی دیوار زبان اور ادب سے نا اشنائی ہے۔ ہمارے ہاں پڑھائی اور لکھائی کا تصور صرف کورس بک یا فیسبک تک محدود ہو کے رہ گیا ہے۔ اس لئے بسا اوقات ڈگریوں کے حصول کے بعد بھی سماجی، روحانی اور جمالیاتی اظہارات کے بارے میں بالغ نظری کی کمی نظر آتی ہے۔

کیونکہ اسے سائنسی جریدے یا اخبار کی کالموں کے ذریعے سمجھنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ ادب میں بے ساختگی ہوتی ہے اور ادب ہی وہ عینک مہیا کر سکتا ہے جس کے ذریعے زندگی کو اس کی ہمہ گیریت، گہرائی اور بے ساختگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جاسکے۔ اس کی مثال دنیا میں مختلف زبانوں کے چند ادبی شہکاروں سے دی جاسکتی ہے۔ مثلاً جدید تصنیفات میں دوستوئیفسکی کا ناول جرم و سزا (کرائم اینڈ پینش مینٹ ) ، ، طٰحہ حسین کی کتاب الایام، جمیلہ ہاشمی کا ناول دشت سوس اور صادق ہدایت کا افسانہ سہ قطرہ خون، اور قدیم ورثے میں ابن العربی کی کتاب فتوحات مکیہ، اور مولا نا رومی کی کتاب فیہ ما فیہ وغیرہ میں زندگی اور زندگی کی سچائیوں کو زبان و بیان کے ایک اور ہی سطح پر کمیونیکیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے

دوسری دیوار متن اور قاری کے ثقافتی اور نفسیاتی پس منظروں کا فرق ہوتا ہے۔ حنیف قریشی کے بقول ادیب اپنے کمرے کی تنہائی میں محسوس کرنے والی زندگی کی احساس کو متن کی شکل دے دیتا ہے لیکن اس میں المیہ یہ ہوتا ہے کہ ادیب کا احساساتی اور فکری تجربہ لکھے ہوئے الفاظ کی صورت میں جمود کا شکار ہوجاتا ہے ہے۔ جب ایک قاری اپنے باغچے میں ایک آرام دہ کرسی پہ بیٹھ کے اس کتاب یا متن کو پڑھتا ہے تو اپنی دانست کے مطابق ان الفاظ کو معنی دے دیتا ہے جو لازمی نہیں کہ مصنف کے احساسات کی ترجمانی کرے۔

اس کے ساتھ مصنف اور قاری کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی پس منظروں کا فرق بھی متن کو معنی عطا کرنے کے عمل پہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لئے تنقیدی ادب میں یہ سوال نہایت ہی اہم ہے کہ معنی کا تعین کون کرتا ہے؟ ادیب جو متن کو تخلیق کرتا ہے؟ قاری جو متن کو پڑھتا ہے؟ یا وہ متنجو کہ حروف و نقاط کی شکل میں علامات یعنی سمبلز کا مجموعہ ہوتا ہے؟

تیسری دیوار سماج کے مروجہ سوچنے کے پیمانے ہوتے ہیں۔ افراد اور گروہوں کے ذہنوں کو معاشرہ ایک خاص ترتیب سے فکری قالبوں یعنی کنسپ چول فریم ورکس میں سوچنے کا عادی بناتا ہے۔ میڈیا، نصاب، خطابت یعنی ریحٹو ریکس، اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان تھینک ایبل یعنی ناقابل تصور اور نا قبل بیان علمی اور عقلی حدیں مقرر کی جاتیں ہیں۔ اور عام افراد کے لئے ان حدودو قیود سے ماورا معنی کو کھوجنا آسان نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی اس عقلی جستجو کے راستے پہ چلنا بھی چاہے تو مکالمے کے پلیٹ فارمز، اور رہنمائی میسر نہیں ہوتی۔

معنی کے خزانوں کے گرد۔ چوتھی دیوار ذاتی اور گروہی مفادات کا ہوتا ہے۔ لوگ مختلف متون کو اپنی سیاسی، سماجی، اخلاقی یا روحانی بیانیئے کی سچائی کو ثابت کرنے اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں معنی کا تعین حقایق سے زیادہ تشریح کا معاملہ بن جاتا ہے اور تشریح کی صداقت کا معیار طاقت طے کرتی ہے۔ اس طرح کی اور بہت ساری رکاوٹیں ہیں جن کو عبور کیے بغیر معنی کی دنیا میں انسانی روح اورعقل کی پرواز ممکن نہیں ہوتی ایسے میں لفظوں کے سوداگر اپنی خواہشات اور حقیقت کی اپنی نسبی سمجھ کو خطابت کا بناؤ سنگھار کراکے مطلق سچائیوں کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

سماجی، سیاسی، روحانی اور جمالیاتی حقائق کے بارے میں وہ ایسے رائے دیتے ہیں گویا حقیقت اور سچائی ٹیبل پہ رکھا ہوا گلاس ہے جس کو اپنے حواس خمسہ سے جان کرحتمی راے دے رہے ہوں اور جس سے انکار کی گنجائش نہ ہو۔ اور لوگ معنی کی دنیا اور معنی کے خزانوں سے بے خبر اسی خطابت یعنی ریحٹوریکس کو حقیقت مان کر معنی کے سراب میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر نفرتیں پالتے ہیں، محبتیں نچھاور کرتے ہیں۔ اپنے اور غیروں کا تعین کرتے ہیں، نیکی اور بدی کی ایک خود ساختہ دنیا تعمیر کرتے ہیں اور خود کو اکیلے ہی صداقت کا حامل سمجھتے ہیں۔ اس کا کوئی آسان حل نظر نہیں اتا سوائے مکالمے، تفکر، مطالعے اورادبی و تخلیقی اظہار کی مش مشق کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کریم امان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply