امتحان ہم نے دیے اور امتحاں ہم نے لئے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈگری اور امتحان کا ذکر نکلا تو بہت سے گزرے زمانوں کی کہانیاں یاد آ گئیں. بتائے دیتے ہیں کہ امتحان ہماری کمزوری تب سے رہا ہے، جب سے سوچ کے دروازے وا ہوئے، چاہے وہ زندگی کا امتحان ہی کیوں نہ ہو!

بچپن میں جب امتحانی پرچہ سامنے آتا تو دیکھتے ہی ایک خیال سنپولیے کی طرح سر اٹھاتا کہ آخر ان تین گھنٹوں کے کچھ سوال و جواب سے متمحن کیسے جان سکتا ہے، کہ ہم کون ہیں اور کیا جانتے ہیں؟

ایسے پانچ یا چھ سوالوں جن کو دیکھ کے بہت سوں کی باچھیں کھل جاتیں کہ اتفاق سے ان سوالات کی پچھلی رات دہرائی ہو گئی ہوتی سو فورا ہی ان خوش نصیبوں کی آنکھوں کے سامنے سو بٹہ سو ناچنے لگتے۔ کچھ کے لئے یہ پانچ چھ سوال سوگ کا سا سماں پیدا کرتے کہ یہی سوال بہت دن پہلے نظر سے گزرے ہوتے۔ پھر پرچہ ٹھنڈی آہوں کے سائے میں حل کیا جاتا اور آنکھوں کے سامنے صفر بٹہ سو کا پہاڑ کھڑا ہو جاتا۔

کمرہ امتحان سے نکل کے بہت سے اپنی قسمت کو کوستے تو بہت سے اپنے مقدر پہ رشک کرتے اور ہمارے سامنے پھر وہی سوال کہ یہ تین گھنٹے کا پرچہ اور کچھ موضوعات کو اپنی یادداشت کے سہارے لکھ دینے سے کیسے قابلیت اور اہلیت کی جانچ ہو گی؟

کشش ثقل کا قانون بیان کرنا ہو یا پودوں کی پولی نیشین، اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی ہو یا مسٹر چپس کی بدمعاشیاں، یہ سب یا تو رٹے کا کرشمہ تھا یا اس دن کا کمال کہ کس کے سر پہ ہما بیٹھے گا؟

ہم متعجب ہوتے کہ نیوٹن کے ایک یا دو قانون اور کشش ثقل پرچے میں لکھ دینے سے یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ فزکس کی پیچیدگیاں سمجھ میں آ گئیں؟ کیمسٹری کے فارمولے انگلیوں پہ رٹ کے لکھ لینے سے کیا ان فارمولوں کا استعمال کسی مختلف صورت حال میں کیے جانے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ؟ دل، پھیپھڑے اور معدے کی کارکردگی یاد کے خانے میں ڈال تو لی لیکن کیا یہ جان لیا کہ بائیالوجی کس چڑیا کا نام ہے؟

ہمیں ان سوالوں کا جواب کہیں نہ ملتا اور قسمت کے کھیل پہ یقین رکھتے ہوئے ہم بالآخر میڈیکل کالج تک جا پہنچے جہاں ہمیں چکی کی مزید مشقت زبانی امتحان کی شکل میں کاٹنی تھی۔

سوچیے تو، متمحن کو پچاس لوگوں کے امتحان لینے کے امتحان کا سامنا ہے، ہر کسی کو پانچ منٹ بھی دیے جائیں تو ڈھائی سو منٹ یعنی تقریباً چار گھنٹے مسلسل کی مشقت۔ پانچ منٹ میں تین یا چار سوال کیے جائیں گے اور معاملہ وہی ٹھہرے گا کہ شومئی قسمت سے جس کسی کی یاد میں پوچھے گئے عضو کی بلڈ سپلائی اور نرو سپلائی اس وقت تازہ ہو گی وہ سکندر باقی سب پورس بلکہ پورس کے ہاتھی۔

ہم پھر پریشان کہ ان پانچ دقیقوں میں کیسے جانا جا سکتا ہے کہ کس کو اصل میں کیا آتا ہے ؟ حاصل کردہ نمبر سانپ سیڑھی کا کھیل نظر آتے کہ پانسہ پڑ گیا تو اوپر چڑھ گئے اور نہ پڑا تو صفر!

اگلے زینے پہ چڑھے تو علم ہوا کہ اس طریقہ امتحان کے ترکش میں بہت سے تیر ابھی باقی تھے۔ اب مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے زبانی امتحان دینے کی باری تھی۔ بات کچھ یوں بنتی تھی کہ جس کسی کو بلڈ پریشر کا مریض مل جاتا اس کی لاٹری نکل آتی اور جس کسی کو ہارٹ اٹیک کے بعد ای سی جی پڑھنی پڑھتی، اس دن اس کی لٹیا ہی ڈوب جاتی۔

جس کسی کا مریض معائنے کے دوران تعاون کرتا، اس کی کشتی کنارے لگ جاتی، اور جس کا مریض چڑچڑا اور کٹ کھنا ہوتا اس کی پتنگ اڑنے سے پہلے ہی کٹ جاتی۔

جس مریض کی زبان سمجھ آتی، لوگوں کی باچھیں کھل جاتیں اور جب کبھی کسی دوسرے صوبے کے مریض سے ہسٹری لینی پڑتی، چھٹی کا دودھ تو یاد آتا ہی، امتحان میں فیل ہونے کا شیطان بھتنا شکلیں بدل بدل کے ناچنے لگتا۔

امتحان سے ایک دن پہلے سب منہ لٹکا کے وارڈوں میں پاگلوں کی طرح گھوم گھوم کے دیکھ رہے ہوتے کہ کس بیڈ پہ کون سا مریض لیٹا ہے۔ دوسرے دن قسمت کس بستر پہ لے جائے گی؟ ان میں سے رات کو کون بچے گا اور کون گزر جائے گا؟ کچھ علم نہ ہوتا۔

ہم پھر کنفیوزڈ کہ ان سب اتفاقات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے طالب علم کا علم کس درجے پہ ہے، کیسے جانا جائے گا؟

ہم زبان کی ناواقفیت والے مریض سے جتنا ڈرتے تھے ہماری قسمت نے ایک دن ہمیں اسی صلیب پہ لا چڑھایا۔ ہماری سپیشیائزیشن کے آخری امتحان میں ہمیں ایک خان بی بی سے پالا پڑا۔ ہم ان سے پوچھیں ماہواری کا نظام کیسا ہے اور وہ بتاتی چلی جائیں کہ جوڑوں کے دردوں سے بے حال ہیں۔ ہمارا اصرار کہ گزشتہ بچوں کی زچگی کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں بتائیں اور وہ بضد کہ قبض اور ڈکاروں کا علاج کیا جائے۔ ان سے ہم نے کیسے معاملہ کیا، یہ یاد آج بھی خون کے آنسو رلاتی ہے۔

امتحان میں قسمت اور اتفاقات کی داستان ہی ابھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایک اور انکشاف ہو گیا۔ وائیوا دینے والے ہال کے باہر پہنچتے تو یار لوگ اس کھد بد میں ہر طرف پھر رہے ہوتے کہ وائیوا لینے والا کون ہے ؟

وہ تو نہیں جو ہر بات میں” میں نہ مانوں” کی تصویر بنے رہتے ہیں، یا وہ جو بیگم سے ہونے والی گزشتہ دن کی کھٹ پٹ سے مزاج برہم کیے کٹار بنے بیٹھے ہیں۔ اور وہ جن کی بیگم نے اپنے ہاتھ سے ٹائی باندھ کے پسند کا ناشتہ ہی نہیں کروایا بلکہ ٹفن بھی ساتھ باندھ دیا ہے۔ اب وہ تو ایسے سرور میں ہیں کہ وائیوا دینے والا سٹوڈنٹ مریض کو قبر میں ہی کیوں نہ پہنچا دے وہ نمبر پورے دے کر ہی جائیں گے۔

لیجیے مذہب کے تڑکے کو تو ہم بھول ہی گئے۔ داڑھی والے اس پہ قربان جائیں گے جو سر پہ دوپٹہ اوڑھ کے جائے گی اور جینز کے ساتھ چھوٹے بالوں والی کو تو اسی دن نار جہنم کے سپرد کیا جائے گا۔ (نوٹ کیجیے گا کہ ان بالوں کے ہاتھوں کتنی بار جہنم واصل ہوئے)

بہت سے استادوں کی تحریری پرچے جانچنے کی کارکردگی بھی ہماری گناہ گار آنکھوں کو دیکھنے کو ملی۔ دوستوں کی محفل جمی ہوتی، باتیں ، لطیفے، افسانے اور موسیقی۔ اس موج میلے میں گھرے ہمارے استاد دوست ایک چھچلتی نظر پرچوں پہ ڈالتے نمبر عنایت کر رہے ہوتے۔ کسی نے اپنی زندگی کے شب وروز کی بھٹی میں خاک ہوتے ہوئے کتاب پڑھی ہے یا کسی نے آخری تین دن میں کتاب پہلی دفعہ ہاتھ میں تھامی ہے، یہ سب سمجھنے کا نہ موقع ہوتا نہ محل۔

انہی بھول بھلیوں میں چکراتے چکراتے ہم اس سیڑھی پہ آن پہنچے جہاں استادی کا تمغہ سینے پہ سج گیا۔ ابھی تو پچھلے سوالوں کی تشنہ لبی ہی باقی تھی کہ اب اپنی اور ساتھی استادوں کی کارکردگی نے دامن تھام لیا۔ کسی کو اپنی مقبولیت بڑھانا مقصود تھی تو کسی کو نوکری کی فکر دامن گیر، کسی کو سب ہرا ہرا نظر آتا تو کسی کو کوئی پرانا شکوہ یاد ہوتا۔

دوسری طرف سٹوڈنٹ بھی کم نہیں تھے، اہلیت کے مطابق نمبر دیتے تو وہ روٹھے ہوئے نظر آتے۔ انہیں سچ مچ کا فیڈ بیک دے دیتے تو ڈین کے آفس میں طلبی ہو جاتی۔

ان مہ و سال نے ثابت کیا کہ امتحان ایک ایسا گورکھ دھندا ہے، جس میں سے نہ گزرنے والا خوش اور نہ گزارنے والا۔ ڈگری عطا کرنے سے پہلے کی قابلیت جانچنا گویا کوہ طور سے آگ لانا ہے۔ اس دل سے لگی کی جستجو میں ہم کہاں جا پہنچے ، یہ داستان اگلے کالم میں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *