مولانا اسعد محمود کا علی امین گنڈا پور کو چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد مولانا فضل الرحمان دس سال قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں لہذا اندس سالوں کے کشمیر کمیٹی کے اخراجات اسمبلی فلور پر پیش کیے جائیں کہ معلوم ہو سکے کہدیگر چیئرمینوں کے مقابل مولانا صاحب نے کتنے اخراجات کیے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی شخصیت کوانکی سیاست کی ابتداء سے ہی متنازعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ کبھی تحریک قیام پاکستان سے قبلکے اکابرین کے ساتھ وابستگی کو دلیل بنا کر پاکستان کو تسلیم نا کرنے کے الزامات تو کبھی دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کیکوششیں، کبھی کرپشن کے الزامات تو کبھی ہمیشہ حکومتوں کے ساتھ رہ کر مفادات حاصل کرنے کی باتیں۔ وقت کی گرد تلے دبے ان الزامات کی شدت میں کمی آ گئی ہے۔ تاہم نیازی سرکار اقتدار میں آنے سے قبل جلسوں میں سیاسی قیادتوں کی بابت جو لب ولہجہ استعمال کرتے تھے لگتا یوں تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اپنے تمام سیاسی مخالفین کا سخت احتساب کریں گے۔ وہ اقتدارمیں آئے یا لائے گئے تو حسب توقع انہوں نے اپنے مخالفین کا احتساب کیا، نیب کا بھرپوراستعمال کیا ایسے میں سیاسی جماعتوں کیاعلی قیادتوں نے خاموشی میں عافیت جانی لیکن یہ خاموشی بھی ان کو نا بچا سکی۔

مولانا فضل الرحمان کی بابت بھی یہی خیال کیا جاتا رہا کہ اور کچھ نہیں تو کسی جھوٹے کیس میں ہی ان کو اندر کر دیا جائے گایا نیب کیپیشیاں بھگتنی پڑیں گی لیکن دو سال گزرنے کے باوجود نیب اور حکومت کسی ایسے اقدام کی ہمت نہیں کرسکیں۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کا رویہ نیازی حکومت بارے سخت سے سخت تر ہوتا گیا، ملک بھر میں درجنوں ملین مارچ کیے اور پھر اسلام آباد کے آزادی مارچ کے عنوان سے قریبا پندرہ دن کا بھر پور دھرنا دیا گیا اور اب بھی مولانا صاحب کی جماعت کسینا کسی عنوان سے حکومت، اداروں اور نیب کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار جارحانہ انداز میں کرتے رہتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں ان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود جو اگرچہ پارلیمانی نظام میں نو وارد ہیں اپنے والد کے مشن کو سنبھالے ہوئے ہیں، مخالفین کو اسی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ بھر پور انداز میں جواب دینے اور اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش کرنے میں وہی طرزاختیار کیے ہوئے ہیں جو ان کے والد کا ہے۔ اپنے علاقائی سیاسی مخالفین کے وزن اور معلومات کو بھر پور انداز میں چیلنج کرتے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سے انتخابات میں جیتنے والے علی امین گنڈا پور پر ہمیشہ سے دھاندلی کے ذریعے جیتکا الزام لگاتے ہیں جس کے جواب میں علی امین کا دعوی ہوتاتھا کہ دوبارہ انتخابات کروا لیتے ہیں اور ہر پلیٹ فورم پر وہ یہ چیلنجکرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسمبلی فلور پر بھی انہوں نے یہ چیلنج کیا جس کو قبول کرتے ہوئے مولانا اسعد محمود نے کہا کہ دونوں استعفیدیتے ہیں اور دونوں حلقوں میں دوبارہ انتخابات کراتے ہیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا لیکن اسمبلی فلور گواہ ہے کہ علیامین نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا اور پھر اس بابت خاموشی اختیار کیے رکھی۔

اب علی امین نے پینترا بدل کر مولانا کے دس سالہ کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کے حوالے سے سوالات اٹھائے تو اس موقع پر مولانا اسعد محمود نے ایک بار پھر اسمبلی فلور پر چیلنج کیا کہ مولانا صاحب کے اوپر کرپشن تو دور کی بات آئینی لحاظ سے ان کو میسر فنڈ اورمراعات کا حساب کتاب اسمبلی میں پیش کیا جائے اور ان کے پیش رو یا موجودہ چیئرمین کے دوسالہ دور کا حساب کتاب پیش کرکے موازنہ کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی سیاست میں یا تو قیمت لگتی ہے یا کمزوری کی بنیاد پر بلیک میل کیا جاتا ہے اور جہاں یہ دونوں صورتیں کارگرنا ہوتو بدنام کیا جاتا ہے ۔ لیکن موجودہ حالات میں ڈٹ کر مخالفت کے باوجود بھی نیازی حکومت یا انتقام کے نام پرسیاستدانوں کا احتساب کرنے والا نیب اگر اس بابت مولانا فضل الرحمان کی بتیس سالہ پارلیمانی زندگی اور قریبا چالیس سالہسیاسی زندگی میں کوئی ایک جھوٹا کیس بھی ثابت نہیں کر سکا اور نا آئندہ کر سکتا ہے تو پھر ایسے بے بنیاد الزام لگانے والوں سے بھی باز پرس کی ضرورت ہے۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کہ اصل مقصد مخالفین کو دباؤ میں رکھنا ہے جس کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن کردار کے صاف لوگ اس قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کیا کرتے۔ ہاں وقت کردار والوں کو زندہ رکھتا ہے جبکہ سازشیں کرنے والے پھر گزرے وقت کے ناپسندیدہ داستان بن جایا کرتے ہیں۔

بہر حال امین علی گنڈا پور کو اپنی لمبی مونچھوں اور بڑے بالوں کا کچھ لحاظ کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی کے دس سالہ بجٹ کو اسمبلیفلور پر ضرور پیش کرنا چاہیے کہ یہ ان کے مخالف کا چیلنج ہے۔ امید ہے وہ پہلے چیلنج کی طرح اس چیلنج سے راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ اسمبلی سے استعفی والی بات تو بہت بڑی ہے، بال بھلے بڑے سہی، مونچھیں گھنی سہی لیکن دل اور جگر تو اتنا بڑانہیں کہ استعفی دیں، ہاں چیلنج قبول نا کرنے کی صورت میں وہ ان بالوں اور مونچھوں کو چھوٹا ضرور کروائیں گے کہ بزدل زور آورروپ میں اچھے نہیں لگتے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply