وطن عزیز کے مینجرز کے شیدائیوں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان کھینچا تانی پر بحث کے دوران ہمارے چکوال کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار صاحب نے شدید حیرانی اور کسی قدر غصے میں کہا ”تو تم چاہتے ہو کہ جنرل راحیل، شریف نواز شریف کو کھلی چھٹی دے دے تاکہ وہ من مانی کرتا پھرے“ ۔ بدقسمتی سے وہ صوبیدار صاحب اکیلے نہیں ہیں جو اس ملک میں کیے جانے والے پراپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ہم کروڑوں کی تعداد میں ان کے ساتھ ہیں۔

آج یورپین یونین کا خط میڈیا کے ذریعے ساری دنیا تک پہنچا۔ اس خط میں لکھا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں ریاست پاکستان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے جہازوں کو قابل قبول معیار کے مطابق ٹھیک حالت میں رکھ سکتی ہے یا پائلٹ کے جعلی لائسنس کے معاملے کو ڈیل کر سکتی ہے اس لیے وہ پاکستان کی قومی ائرلائن، پی آئی اے کو کم از کم چھ مہینے کے لیے پوری یورپی یونین سے بین کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قطر، ویتنام اور متحدہ عرب امارات والوں نے اپنی ائر لائنوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنی تمام ائرلائنوں میں کام کرنے والے پاکستانی انجینئرنگ سٹاف کو بھی فی الحال کام سے روک دیا ہے۔

پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور وطن عزیز ہی کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جو ہمارے حال کو خراب کرتا ہے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو مزید تاریکی کی جانب لے جاتا ہے۔

یہ ملک ایک خاص طرز پر چلایا جا رہا ہے۔ چلانے والوں کی اپنی ایک حکمت عملی ہے۔ وہ حکمت عملی بظاہر یہ ہے کہ پاکستان کے دشمن بہت زیادہ ہیں اور دوسرا یہ کہ پاکستان کے سویلین سیاست دان کرپٹ ہیں، نا اہل ہیں اور غدار ہیں اس لیے وہ اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ملک کو ٹھیک طرح سے چلا سکیں۔ اور دوسری جانب صرف فوج ہی اس ملک کا با صلاحیت اور مضبوط ادارہ ہے۔ اس کے جنرلز بہت پڑھے لکھے، تربیت یافتہ، دیانت دار اور محب وطن ہیں۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت پر ان کی گرفت رہے تاکہ سیاست دان اس ملک کو نقصان نہ پہنچا سکیں اور پاکستان کو دشمنوں کے ہاتھوں بیچ ہی نہ ڈالیں۔ اس حکمت عملی کے تحت عوام کو جاہل سمجھ کر مذہب اور حب الوطنی کی کہانیاں اس قدر زور و شور سے بیچی جاتی ہیں کہ انہیں اپنے حال کی فکر ہے نہ ہی اپنے بچوں کے مستقبل کی۔ ان کی تنقیدی سوچ مار دی گئی ہے اور ان کے دماغ میں سوال پیدا ہی نہیں ہوتے۔

اس حکمت عملی کا نتیجہ کیا ہے۔ تھوڑا سا غور کریں کہ ملک آج کہاں کھڑا ہے۔ اقوام عالم کا ہم پر اعتبار کتنا ہے۔ ہمارے پاسپورٹ کی عزت کیا ہے۔ انسانی ترقی اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی رپورٹیں ہمارے بارے میں کیا کہتی ہیں۔ اگر آپ ان رپورٹوں کو سازش سمجھ کر نہیں مانتے تو اپنے ارد گرد کے حالات تو دیکھ سکتے ہیں۔

ملک پر قرضوں کا بوجھ یوں لاد دیا گیا ہے کہ ہم قرضوں پر سود ادا کرنے کے نئے قرضے لے رہے ہیں۔ ہمارے کروڑوں سکول جانے کی عمر کے بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ہمارے ہسپتالوں کی حالت زار ہے۔ ہمارے ہاں بے روزگاری کی صورتحال کیا ہے۔ آبادی کا سیلاب روکنے میں ہمیں کتنی ناکامی ہوئی ہے۔ ہمسایوں میں کسی کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ ہمسایوں سے تھوڑا باہر نکلو تو امریکہ چند ٹکے تو ہمیں دیتا ہے لیکن اس کے سامنے ہماری عزت اور حیثیت کیا ہے۔ اور جب اس کی غرض ختم ہوتی ہے تو وہ کیسے ہمیں ڈچ کرتا ہے۔

ملک کے اندر اخلاقیات اور قانون کی عملداری کیسی ہے۔ جعل سازی، جھوٹ، رشوت اور ملاوٹ کتنی ہے۔ عدالتوں اور انصاف کی صورت حال کیا ہے۔ دنیا کے مقابلے میں ہماری یونیورسٹیوں کا معیار کیا ہے۔

ہمارے فخر کتنی سطحی ہیں۔ کوئی شخص محض سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے نوکری حاصل کر لے تو یہ کتنا بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس ملک کی بیوروکریسی جس کا وہ بڑے فخر سے حصہ بننے جا رہا ہے اس کی کارکردگی کا معیار کیا ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لیے پروٹوکول لینے کے علاوہ کرتے کیا ہیں۔ ان کی کارکردگی تو ہمارے تمام محکموں کی کارکردگی میں نظر آتی ہے نا۔ ادھر پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے ٹی وی پر بیٹھ کر سلیم صافی کو چیلنج کیا کہ رشوت دیے بغیر کسی پٹواری سے اپنی زمین کی ایک فرد لے کے دکھا دو، تو کسی بیوروکریٹ کو یہ پتا بھی نہیں چلا کہ یہ ان کے لیے شرم کی بات ہے۔ کسی نے آ کر اس بات کا جواب نہیں دیا۔ کسی نے عوام سے معافی نہیں مانگی اور بہتری کا وعدہ نہیں کیا۔

ملک کے اندر بھی سیاسی مسائل کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ حالات سنورنے کی بجائے بگڑ رہے ہیں۔ لاقانونیت اور تشدد صرف تشدد ہی کو جنم دے سکتا ہے۔

اگر آپ اس ساری صورت حال سے آپ مطمئن ہیں تو ٹھیک ہے پھر یہ ملک ٹھیک چل رہا ہے اور اسے ایسے ہی چلنا چاہیے۔ اور آپ اس کے گن گاتے رہیں جو اسے چلا رہا ہے۔ لیکن کافی لوگ ہیں جو اپنے وطن کی اس حالت زار سے مطمئن نہیں ہیں۔ اگر آپ بھی اس صورت حال سے مطمئن نہیں ہو تو پھر سوچو۔ بہتری کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ تمام ادارے آئین اور قانون کے تابع رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 236 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *