‘ظہور الٰہی پیلس’ اور وزیراعظم ھاؤس کے آمنے سامنے آنے کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر چیلنج بن کر مقتدر حلقوں کے سامنے آ گئی ہے، اس طرح کہ ”کپتان“ نے جہاں بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدہ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے وہیں ان کے متبادل کے طور پر بھی اسی کیمپ نے زلفی بخاری کے کزن یاور عباس بخاری کو پیش کر دیا ہے جبکہ سردار عثمان بزدار نے عہدہ بچانے کی آخری کوشش کے طور پر ”چوہدریوں“ سے مدد مانگ لی ہے، جن کا بطور اتحادی حکومت میں وزن اختر مینگل کے چھوڑ جانے کے بعد اور بھی بڑھ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 3 روز قبل جب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو چوہدری پرویز الٰہی نے نہ صرف ایک بار پھر شد و مد کے ساتھ ’اعلان‘ کیا ”ھم وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے“ بلکہ اگلے روز ”قاف“ لیگ کی پوری پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے عشائیہ کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہاں تک کہ ”چوہدریوں“ نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے ذریعے کی گئی حکومت کی خصوصی درخواست کے باوجود اپنا ایک بھی ایم این اے وزیر اعظم کے ڈنر میں بھجوانے سے صاف انکار کر دیا

تاہم ”قاف“ لیگ نے اپنے اس مطالبے پر اصرار کے ساتھ سوموار کو فنانس بل (بجٹ) کی منظوری کے لئے ووٹ ڈالا کہ عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے نہیں ہٹایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مرتبہ چوہدری برادران کی ناراضگی شدید ترین ہے جس کی وجہ ایک تو ان کے لئے سب سے زیادہ ”موافق“ یا دوسرے لفظوں میں موزوں ترین شخصیت عثمان بزدار کو ہٹانے کا فیصلہ اور اوپر سے اس علاقے (اٹک) سے ایک غیر معروف شخص کو متبادل کے طور پر چننا ہے جہاں چوہدریوں کے بہنوئی میجر (ر) طاہر صادق، سابق ضلع ناظم اٹک پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب رکن قومی اسمبلی پارلیمنٹ میں موجود ہیں جنہیں قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دلوا کر بآسانی پنجاب اسمبلی میں لایا جاسکتا تھا۔

ادھر پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے مضبوط و موثر پارلیمانی گروپوں میں بھی صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لئے بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ کی نئی نامزدگی کو نہ صرف پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی بلکہ اس پر بالعموم قدرے ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے علاوہ مقتدر حلقوں میں تو ذرائع کے مطابق اسے سرے سے پسند ہی نہیں کیا جا رہا جو اول روز ہی سے عثمان بزدار کو ہٹانے کا تقاضا کرتے چلے آئے ہیں، اس لئے کہ بتایا جاتا ہے کہ مقتدر حلقوں میں اس نامزدگی کے پیچھے سرگرم کردار، وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری سے نفرت پائی جاتی ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ مقتدر حلقوں نے جس طرح وفاقی بجٹ پاس کروا کے ایک بار پھر کپتان کی حکومت کو در پردہ سہارا دیا ہے وہاں اس کے بدلے میں پنجاب میں وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے کی شرط رکھی تھی جس پر کپتان نے اس بات پر آمادگی ظاہر کر دی تھی کہ پہلے مرحلے میں ان کے ”وسیم اکرم پلس“ کو ”اؤ ایس ڈی“ بنا دیا یعنی مکمل طور پر غیر فعال کر دیا جائے گا جبکہ کچھ عرصہ بعد ”فارغ“ کرکے گھر بھیج دیا جائے گا لیکن بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ کے سب سے زیادہ متحرک کردار زلفی بخاری نے متبادل کے طور پر بھی ایک ”عثمان بزدار ثانی“ پیش کر کے بیک وقت مقتدر حلقوں اور ”چوہدریوں“ کے لئے ایک نیا چیلنج لا کھڑا کیا ہے۔

واضح رہے کہ 56 سالہ سید یاور عباس بخاری جو اس وقت پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں، ریٹائرڈ کرنل ہیں جو پہلی بار ایم پی اے بنے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply