فوادچودھری کے بیانات کی سماجی و سیاسی معنویت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فواد چودھری کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو کو پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دو حوالوں سے زیربحث لایاگیا۔ایک حوالہ یہ تراشا گیا کہ فوادچودھری کو میڈیا میں اِن رہنے کا ہنر آتا ہے۔اس پہلو کی دلیل کے لیے اِن کے کیریئر پر نظر ڈالی گئی۔2018ء کے انتخابات کے بعد یہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات رہے ،مگر یہ وزارت مختصر مُدت کیلئے رہی،اس وزارت کے دوران یہ مسلسل میڈیا میں اِن رہے۔

جب وزارت اطلاعات لے کر سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دی گئی تو یہ تاثر قائم کروایا گیا کہ اب فوادکی رُونمائی میڈیا پر زیادہ نہیں ہو سکے گی ،مگر اِنہوں نے رویت ہلال کے معاملے پر علماسے باقاعدہ تنازعہ کو جنم دے کر میڈیا پر موجودگی برابر قائم رکھی۔جب فوادچودھری کی طرف سے مقرر کردہ تاریخ پر عید الفطر منائی گئی تو یہ میڈیا کی زینت بن گئے۔بعدازاں مذکورہ انٹرویو اور عیدالضحیٰ کی تاریخ کے اعلان نے فواد کی میڈیا میں مسلسل موجودگی کو یقینی بنادیا۔فوادچودھری کے میڈیا میں ’’اِن‘‘رہنے کے بیانات کی روشنی میں کہا گیا کہ یہ منہ پھٹ اور شعلہ بیان ہیں ۔
دوسرا پہلو جو زیرِ بحث رہا،وہ یہ کہ فواد چودھری نے انٹرویو کے ذریعے حکومت کی بیس ماہ کی کارکردگی کا کچا چٹھا بیان کر ڈالا۔یعنی اس پہلو کے مطابق وفاقی وزیرنے یہ بتا کر کہ حکومت کے اندر ’’بڑوں ‘‘کی لڑائیوں نے جہاں حکومتی کارکردگی کو متاثر کیا وہاں پارٹی کو اپنے منشور سے بھی ہٹا دیا، پارٹی پر تنقید کی اور اندرونی سیاست کو اُچھالا۔
سوال یہ ہے کہ فواد چودھری کے بیانات بالخصوص مذکورہ انٹرویو کے اہم نکات کو دوحوالوں سے دیکھنا کافی ہے؟یا بیانات اور انٹرویو کی کوئی سیاسی و سماجی معنویت بھی بنتی ہے؟آگے بڑھنے سے پہلے ذرا توقف کریں!بجٹ منظوری اور بعدکے لمحوں میں پارلیمان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی تقاریر پر نظر دوڑائیں:پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے کوٹ اُتارتے ہوئے کہا’’لڑنا ہے تو پھر آجائو لڑلیتے ہیں‘‘واضح رہے کہ یہ پی ٹی آئی کے علی زیدی کی تقریر پر اپنا ردِعمل دے رہے تھے۔
عبدالقادرپٹیل جو اپنی دھواں دار اور جذباتی مزید براں خوشامدی نوعیت کی تقریر کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں ،نے مُراد سعید کو مناظرے کا چیلنج دیا،قبل ازیں مُراد سعید بلاول کو یہ چیلنج دے چکے تھے اور بلاول بھٹو زرداری ،وزیرِ اعظم عمران خان کو یہ چیلنج دے چکے تھے۔ عبدالقادر پٹیل نے اپنی تقریر میں سیتا وائٹ کیس کا ذکر کیا اور یہ موصوف ماضی قریب میں مُراد سعید کے حوالے سے جو کچھ کہہ چکے ہیں ،وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔علی زیدی نے اپنی تقریر میں آصف علی زرداری اور اُس کی بہن کو تمام جرائم ،جس میں کئی قتل بھی ہیں، کا سرپرست قراردے دیا۔
اب ذرا فوادچودھری کی تقریر کا اہم نقطہ ملاحظہ ہو:فوادچودھری کا کہنا تھا ’’ہمیں آپس کی لڑائیوں سے آگے نکلنا چاہیے‘‘ فوادچودھری اور دیگر ’’رہنمائوں‘‘کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو فوادچودھری کی تقریر کا مذکورہ جملہ سننے کو عام سیاسی ورکر اور جمہوریت پسندوں کے کان ترس گئے تھے۔فوادچودھری کا مذکورہ جملہ بہ ظاہر معمول کی تقریر کا عام سا جملہ تھا۔مگر ملکی سیاسی نظام اور سیاسی بالیدگی کے تناظر میں یہ غیر معمولی جملہ تھا۔یہ جملہ اپنے اندر ایک پورانظام رکھتا ہے۔
ایسا نظام جس پر چل کر جمہوریت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے اور جمہوریت کے حقیقی مقاصد کی تشکیل کرکے عام آدمی کی زندگیوں کوخوب صورت بنانے کی اُور بڑھا جا سکتا ہے۔اگر ملکی تاریخ کے عام انتخابات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے اور پارٹیوں کے نعروں کی تفہیم کی جائے تو محسوس پڑتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں ،بہ ظاہر جمہوری سیاسی پارٹیاں کہلواتی ہیں ،مگر اپنی اصل میں یہ غیر جمہوری ہیں ۔ان کے نعرے بھی ان کے اپنے اقتدار ،اپنی عزت و ناموس کے گرد گھومتے ہیں،البتہ ’’روٹی ،کپڑا اور مکان ‘‘اور اس جیسے دیگر معدودے چند نعروں کواستثنیٰ ہے۔
بھٹو صاحب نے سب سے پہلے عوام کے مسائل کو ریاست میں جگہ دی۔ روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ، خالص انسانی اور سماجی نعرہ تھا۔ بھٹو صاحب کا یہ نعرہ، پاکستان کے قیام کے لگ بھگ تئیس سال بعدنئی طرح کی سماجیات کی تشکیل کرسکتا تھا۔اس نعرے میں بہت وسعت اور جاذبیت تھی ،کیونکہ یہ نعرہ عوام کے مادی مسائل سے متعلق تھا ۔ اسی نعرے کے سحر کی بدولت بھٹوصاحب کے اقتدار کا ابتدائی دَور پاکستان کی عمرانی و سیاسی تاریخ کا سنہری دور قراردیا جاسکتا ہے۔
اس عرصہ میں لوگوں کے اندر مذکورہ نعرے کی معرفت اپنے ہونے کا احساس جاگا اورخواب دیکھنے کا عمل شروع ہو ا ،یہ خواب رومانویت کا حامل تھا۔مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ خواب چکنا چور ہونا شروع ہو گیا اور بھٹو صاحب کے اندازِ سیاست پر بھی اپنی ذات اور اقتدار سے متعلق نعروں نے جگہ پالی۔بھٹو صاحب کے بعد کی سیاسی تاریخ میں سیاست اپنے ذاتی مقاصد و مفادات کے حصول کے ’’بیانیہ‘‘کے گرد گھومتی رہی۔’’ووٹ کو عزت دو‘‘بھی درحقیقت ’’میرے اقتدار کو عزت دو‘‘ہی تھا۔
ہم یہاں فواد چودھری کے بیانات اور انٹرویو کے اہم نکات کی طرف پلٹتے ہیں۔فواد چودھری کے بیانات سے اختلاف ہر ایک کا جمہوری حق ہے، مزید یہ کہ بیانات پر اپنی مرضی، سوچ اور سیاسی نظریے پر مبنی تجزیے پر بھی ہر ایک کا جمہوری حق ہے ، مگر یہ بیانات ایک ایسے سیاست دان کے ہوتے ہیں جو مسائل کا ادراک اور نظام کو آگے کی طرف چلانے کی سوچ رکھتا ہے۔جو اپنی پارٹی کی کارکردگی پر سوالات اُٹھانے کی جرأت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ سوالات اُٹھانا ،خوشامد کرنے سے ہزار درجہ مشکل اَمر اور گھاٹے کا سودا ہے۔
پیپلزپارٹی، پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی میں کئی اہم اور قدکاٹھ کے رہنما ہیں ،مگر یہ اپنی سیاسی قیادت کی کسی بات کو غلط کہنے کی سکت نہیں رکھتے۔کیا خواجہ آصف ،شاہد خاقان عباسی ،احسن اقبال، میاں نواز شریف کی کسی پالیسی پر نکتہ اعتراض کی ہمت رکھتے ہیں ؟کیا یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ، بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری سے کسی نکتے پر اختلاف کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا شاہ محمود قریشی، اسد عمر اورشیری مزاری، عمران خان کے فیصلوں کو جھٹلانے کی طاقت رکھتے ہیں؟
ہم روزانہ ٹی وی کی سکرینوں پر گھنٹو ں کے حساب سے ہر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی تعریفیں سنتے ہیں۔ٹی وی سکرینوں پر اپنی اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کرنے والے اپنے لیڈر کا دس مرتبہ نام لیتے ہیں۔ایسی فضا میں اگر کوئی شخص اپنی پارٹی کی کارکردگی پر سوال اُٹھاتا ہے یا دیگر کئی اہم اُمور کو ’’سائنسی‘‘انداز سے چلانے کی مساعی کرتا ہے تو اُس کے بیانات اور تقریروں کی سماجی وسیاسی معنویت کو نظرانداز کر کے محدود تناظر میں دیکھنا درست ہے؟
بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply