مافیاز یا پاکستان

25 جولائی 2018 کی صبح ایک باپ نے بیٹے سے پوچھا ”عمران خان وزیراعظم بن گیا تو کیا کرے گا؟“ بیٹے نے جواب دیا ابا جان وہ ایک ہجوم کو قوم بنانے کے لیے لڑے گا اور مافیاز کو انجام تک پہنچائے گا۔ اداروں میں اصلاحات کرے گا۔ باپ نے پوچھا بیٹا تو سڑکیں اور نالیاں کون بنائے گا؟ بیٹے نے جواب دیا اگر وہ ہمیں ایک قوم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ سڑکیں اور نالیاں لوگ خود ہی بنا لیں گے۔ کون جانے کتنے لاکھوں باپ اور بیٹوں میں یہ مکالمہ ہوا ہوگا کیوں کہ نوجوانوں نے ہی عمران خان کو وزیراعظم بنایا اور دو پارٹی سسٹم کا خاتمہ کیا۔

ہر کسی کی یہی سوچ اور امید تھی کہ عمران خان مافیاز کو لگام ڈالے گا لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ مافیاز اتنے طاقتور ہیں۔ دیکھنے کو یہ ایک سنہرا خواب ہے جب کہ اس کی تعبیر انتہائی مشکل ہے۔ آج دو سال ہو گئے نہ ہی ہماری سڑکیں اور نالیاں بنی اور نہ ہی مافیاز پر قابو پایا جا سکا۔ عمران خان ایک محنتی اور قابل شخص ہے لیکن اس کا مقابلہ وقت کے فرعونوں سے ہے۔ یہ مافیاز وہ سانپ ہیں جن کو پچاس سال سے کھلا پلا کر بڑا کیا گیا ہے۔ ملک میں ہر چیز کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے ہر محکمے کا بیڑہ غرق کیا گیا اور آج یہ مافیاز اتنے بڑے اور طاقتور ہو گئے ہیں کہ ملک میں ہر چیز کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔

آٹا چینی اسکینڈل ہو یا پٹرول کی قلت یہ لوگ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک مہینہ لوگ شدید گرمی میں پٹرول پمپس پر ذلیل ہوئے لیکن پٹرول ہونے کے باوجود کسی نے پٹرول کا ایک قطرہ نہ دیا۔ جب کہ دوسری طرف وزیراعظم صاحب کو حالات کی سنگینی سے بے خبر رکھا گیا اور سب اچھا ہے کی رپورٹ دی گئی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک مہینہ پٹرول کی قلت رہی اور قلت کا خاتمہ مافیا کی کامیابی اور ریاست اور رعایا کی شکست پر ہوا۔ پٹرول کی قیمت میں اچانک 25 روپے کا اضافہ کر کے مافیا کے سامنے کپتان نے گھٹنے ٹیک دیے جس کے بعد پلک جھپکتے ہی پٹرول دستیاب ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں اور کیا یہ عمران خان کے قابو میں آسکتے ہیں یا نہیں؟ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس حکومت کا ناکام ہونا مطلب پاکستان کا ناکام ہونا ہے۔ اس سے بہتر وقت نہیں مل سکتا ملک کو ان مشکلات سے نکال کر ایک عظیم ملک بنانے کے لیے۔ پی ٹی آئی سپورٹر مایوس ضرور ہے البتہ اس کے پاس عمران خان کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں۔

اس حکومت کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ اپوزیشن کے پاس ایسا کوئی بیانیہ نہیں کہ اگر فوراً الیکشن ہوجائیں تو لوگ ان کو ووٹ دیں۔ کہیں نہ کہیں لوگ اب یہ جان چکے ہیں کہ ان کے پاس عمران خان سے بہتر آپشن نہیں ہے۔ یہ حکومت صرف مافیاز پر قابو پالے تو 2023 کے الیکشن میں مسلم لیگ نواز کا بھی صفایا ہو جائے گا۔ پیپلزپارٹی تو پہلے ہی پنجاب میں موجود نہیں ہے۔ یہ بات طے ہے کہ اگر حکومت نے اپنے معاملات بہتر کر لیے تو اگلی بار عمران خان دو تہائی اکثریت کے ساتھ پہلے سے بہت مضبوط حکومت بنا سکتا ہے۔

لیکن اگر ان مافیاز پر قابو نہ پایا جا سکا تو پی ٹی آئی کا اگلے الیکشن میں کوئی چانس نہیں۔ حکومت کی ساری اچھائیوں پر یہ مافیاز پانی پھیر رہا ہے۔ جس چیز کی قیمت کم کی جاتی ہے وہ چیز نایاب ہوجاتی ہے۔ ایک عام آدمی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کس کو جیل میں ڈالا ہے یا کون آپ کو کام کرنے نہیں دے رہا، اس کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ اس کے پاس کھانے کو روٹی ہے یا نہیں۔ اس کے بچوں کے پاس جسم پر کپڑے ہے یا نہیں۔

وقت کم اور مقابلہ سخت ہے جو کام نہیں کرتا کپتان کو چاہیے ان کو فوراً فارغ کریں۔ اپنے اردگرد کردوغلو تلاش کریں اور ان کے سر قلم کریں۔ کسی ایک مافیا پر ہاتھ ڈالیں اور اس کو نشان عبرت بنائیں تو باقی مافیاز خود بخود سیدھے ہوجائیں گے۔ ملک میں حقیقی ترقی اور تبدیلی کے لیے ریاست کی رٹ قائم رہنا انتہائی ضروری ہے۔ بڑی بڑی قومیں انتہائی مشکل حالات سے نکل جاتی ہیں انشا اللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ رات جتنی بھی سیاہ ہو لیکن سورج کی کرنیں اس سیاہی کو روشنی اور امید میں تبدیل ضرور کرتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
ملک عبدالرحمان علی کی دیگر تحریریں