خان صاحب ہم، آپ کے سپورٹر، گھبرا گئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک شدید انصافی سپورٹر آپ سے مخاطب ہوں۔ ہم عمران خان صاحب کے ہر جائز ناجائز عمل کو آنکھیں بند کر کے سپورٹ کیا کرتے تھے۔ چاہے سول نافرمانی ہو چاہے دھرنا ہو یا کوئی جلسہ ہو ہر جگہ بغیر سوچے سمجھے پہنچ جایا کرتے تھے۔ پاکستان کی سیاست میں خان صاحب کو ایک کرشماتی شخصیت سمجھنا شروع کر دیا۔

ہم بھی اسی غلط فہمی میں کم و بیش دس سال مبتلا رہے کہ سربراہ ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے ہمیں بڑی سے بڑی مثالیں دی گئی ہم نے من و عن سب تسلیم کر لی۔ پھر 2018 کے جنرل انتخابات آ گئے ہم نے رات دن ایک کر کے انتخابی مہم چلائی ان بزرگوں کو قائل کیا جو خان صاحب کو جانتے تک نہیں تھے۔ کئی بڑے ناراض کیے لیکن ڈٹے رہے ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے ایک بھی ووٹ ملنے کی امید تھی۔ الیکشن کا دن ہماری زندگی کا مصروف ترین دن رہا۔

رات گئے تک پولنگ سٹیشن کے باہر نتیجہ کا انتظار ہوتا رہا نتیجہ آیا تو بے ساختہ آنکھوں سے آنسو آ گئے کہ اب ملک کی تقدیر بدلے گی اب حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ پھر خان صاحب نے مخلوط حکومت کی بنیاد رکھی حلف اٹھایا اور کفایت شعاری کا رونا شروع ہو گیا۔ ہمارے سپورٹ کرنے کا مقصد یہ چیزیں نہیں تھی۔ ہمارا ایجنڈا اصلاحات کرنے کا تھا۔ ہم ہر ادارے میں اصلاح کے نعرے پر خان صاحب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے۔ خان صاحب کی ضد اور انا سے تو ہم دھرنے کے دنوں سے ہی واقف تھے۔

لیکن بزدار صاحب کا غلط فیصلہ لینا اور اس پر ڈھٹائی سے ڈٹ جانا ایک نئی داستان رقم کر گیا۔ اس کے بعد ہم سب کو احتساب کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ہم بھی اس گمان میں رہے کہ دو سال بہت ہوم ورک کیا ہوگا۔ لیکن نتائج زیرو ہی رہے۔ پھر آٹا بحران آ گیا وہ بھی گندم کے دنوں میں اور ہمیں مافیا کا چورن دے کر چپ کروا دیا گیا پھر سانحہ ساہیوال ہو گیا پھر جھوٹے وعدے کیے گئے جو کہ ابھی بھی پائے تکمیل کے ابتدائی مراحل میں ہی ہیں۔ اس کے بعد پنجاب میں لا قانونیت کی انتہا دیکھی گئی۔ گنے کا دور شروع ہوا تو چینی کا بحران آ گیا۔ خان صاحب ہم لڑتے رہے اس امید سے کہ آپ سب کچھ ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے بعد دوبارہ آئی ایم ایف سے رابطہ ہوا ہم پھر چپ رہے۔ بجلی مہنگی ہوئی ہم چپ رہے۔ ہر معاملے میں لاقانونیت دیکھنے کو ملی ہم چپ رہے۔ آپ کے تمام مشیر اور وزیر مختلف کاروباروں میں لگے رہے ہم خاموش رہے۔ پھر بجٹ کا موقع آیا اور وہی روایتی بجٹ دیکھنے کو ملا ہم خاموش رہے۔ پھر آپ نے چینی سکینڈل جو کہ آپ کے دور میں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا اس کی انکوائری ہوئی آپ نے پانی کی طرح آپ پر پیسہ بہانے والے جہانگیر ترین کو مجرم ثابت کروا دیا جو پیسہ آپ پر ہی استعمال ہوا تھا ہم پھر بھی خاموش رہے اور آپ کے وعدوں کی تکمیل کا انتظار کرتے رہے۔ ہم نوجوان نوکریوں کے بھی انتظار میں رہے اور خاموش رہے۔ آپ نے ہر معاملے میں ہر مشکل صورتحال کو مس ہینڈل کیا ہم چپ چاپ دیکھتے رہے۔ اس کے بعد اچانک سے تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اب چپ رہنا شاید انسانیت کے منافی ہے۔

لیکن خان صاحب اب ایک عرض ہے کہ ہم سے جو یہ ساری غلطیاں ہوئی ہمیں ان پر اتنا شرمندہ کیجئے گا جتنا ہم برداشت کر سکیں۔ ہم لوگ وہ طبقہ تھے جو کبھی گھروں سے نہیں نکلے تھے ہم آپ کے لئے نکلے۔ ہم دوبارہ اگر واپس چلے گئے تو شاید کسی کو ووٹ دینے کے لئے بھی نہ نکلیں۔ آپ سے گزارش ہے اک ادنیٰ سے نوجوان ورکر کی کہ ہمیں اتنا بے عزت نہ کروائیے کہ ہم گھروں کے اندر چلے جائیں۔ ہماری آپ سے یہی درخواست ہے کہ بہادر بنیں اور دلیری سے سٹینڈ لیں اور بزدل غازی بننے کی بجائے بہادر شہید بن جائیں۔ اب آپ کو سوچنا ہو گا اور اپنی اصلاح کرنا ہوگی نہیں تو تاریخ بہت ظالم ہے آپ کو معاف نہیں کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حافظ جنید ظفر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply