کرونا، تعلیم، طلبا، اساتذہ اور والدین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی ادارے بند ہو جانا کسی دھچکے سے کم نہیں۔ طلبا، اساتذہ اور والدین اس ناگہانی افتاد سے بری طرح متاثر ہوئے۔ یہ تینوں عناصر یعنی کہ استاد، شاگرد اور سرپرست ایک تکون کی سی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مابین بہتر ہم آہنگی ہی بہترین تدریسی عمل کی ضمانت ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی فعال نہ ہو تو تدریسی عمل اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پہ استاد کو لے لیجیے، اگر استاد اپنا کام تندہی سے نہ کرے تو شاگرد کے سیکھنے کا عمل سست پڑ جائے گا۔

اسی طرح سے شاگرد محنت کرنا چھوڑ دے تو کامیاب نہیں ہو گا۔ اور اگر اس کی سرپرستی نہ کی جائے تو وہ تعلیمی سرگرمیاں بہتر طور سے سرانجام نہیں دے سکتا۔ ان عناصر کے ربط باہمی کے بغیر بھی تدریس ممکن ہے مگر اس کی افادیت کھو جائے گی۔ جب یہ تینوں ہی عناصر اتنے اہم ہیں تو یقیناً کوئی مشکل صورتحال ان تینوں پر ہی اثر انداز ہو گی۔ اور یہ متاثر ہوئے بھی جب آن لائن کلاسز کی پالیسی اپنائی گئی۔ آن لائن کلاس انجان اور غیر روایتی تھی جس کو ذہنی طور پر قبول کرنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہرحال ایک مشکل کام تھا۔

استاد کے لیے لیکچر کی تیاری سے لے کر ڈلیوری تک، اور شاگرد کے لیے سمجھنے سے لے کے کام مکمل کرنے تک کا عمل کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا۔ کبھی نیٹ کی عدم دستیابی تو کبھی بجلی نہ ہونا، کبھی آواز کا مسئلہ تو کبھی سوال نہ پوچھ پانا۔ آن لائن کلاسز نے جہاں یہ مسائل کھڑے کیے، وہیں یہ معاشی بوجھ کی ذمہ دار بھی ٹھہری۔ سبھوں کو ہزاروں روپے کی ڈیوائسز کی خریداری اور مہنگے انٹرنیٹ پیکجز لینے پڑے۔ یہ جیب پر ایک ناگزیر اضافی خرچہ رہا۔

ایک عمدہ تعلیمی ماحول کی غیر موجودگی میں تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنا آسان نہیں۔ اور گھریلو ماحول قطعاً سازگار تعلیمی ماحول فراہم نہیں کرتا۔ ظاہر سی بات ہے کہ تعلیمی اداروں کا سا ڈسپلن گھر میں پیدا ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ امر نفسیاتی طور پر استاد اور طالب علم دونوں کے لیے رکاوٹ کھڑی کرتا ہے۔ مگر ان سب مشکلات کے باوجود آن لائن کلاسز جاری ہیں۔ اساتذہ بڑی جاں فشانی سے تدریسی مواد طلبا تک پہنچا رہے ہیں جسے وہ بڑی محنت سے سیکھ رہے ہیں۔

یہاں والدین خصوصاً ماؤں کا کردار بہت اہم ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ تعلیمی سلسلہ برابر چلتا رہے۔ وبا کے دنوں میں جب سب کچھ رکا رکا سا ہے، تعلیم و تدریس کو اسی رفتار سے جاری رکھنا بڑی کامیابی ہے۔ قابل تحسین ہیں وہ اساتذہ، طلبا اور والدین جنہوں نے تمام مسائل کا سامنا کیا اور اس چیلنج کو نہ صرف قبول کیا بلکہ پورا کر کے بھی دکھایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply